محکمہ سکول ایجوکیشن کی عدم توجہی : پنجاب کے 22 ہزار سے زائد گرلز سکول بنیادی ضرورتوں اور تدریسی سہولتوں سے محروم

لاہور (رفیعہ ناہید اکرام) محکمہ سکول ایجوکیشن کی عدم توجہی کے باعث پنجاب کے 22 ہزار سے زائد گرلز سکولوں کی لاکھوں طالبات بنیادی ضرورتوں اور تدریسی سہولتوں کے بغیر تعلیمی سلسلہ جاری رکھنے پر مجبور ہےں۔ ذرائع کے مطابق پنجاب کے دیہی علاقوں میں قائم 89 فیصد اور شہری علاقوں کے 11 فیصد سکولوں میں اساتذہ کی 18 ہزار سے زائد خالی اسامیوں کے باعث طالبات کا تعلیمی مستقبل داو¿ پر لگا ہوا ہے۔ تین ہزار سے زائد پرائمری سکولوں میں 6 جماعتوں کو پڑھانے کیلئے صرف ایک ٹیچر موجود ہے۔ پنجاب میں قائم سینکڑوں پرائمری، مڈل، ہائی و ہائر سیکنڈری سکول پانی بجلی بلڈنگ چاردیواری سے محروم ہیں 40 فیصد سکولوں میں فرنیچر ضروریات کے مقابلے میں انتہائی کم ہے جس کی وجہ سے شدید سردی میں بھی طالبات کو ٹھنڈے فرش پر بیٹھنا پڑتا ہے، دیہات کے 45 فیصد سکولوں میں ٹوائلٹ موجود نہیں جس کی وجہ سے اساتذہ اور طالبات کو رفع حاجت کیلئے قریبی گھروں میں جانا پڑتا ہے جبکہ 25فیصد سکولوں میں 200سے زائد طالبات کیلئے صرف ایک ٹوائلٹ دستیاب ہے۔ 7 ہزار سے زائد سکولوں میں پینے کے صاف پانی کا مناسب بندوبست نہیں جس سے طالبات بیماریوں کا شکار ہو رہی ہیں۔ 15 فیصد سکولوں کی چاردیواری کی حالت تسلی بخش نہیں کہیں ٹوٹی ہوئی ہے کہیں چھوٹی ہے اور کہیں بالکل نہیں ہے۔ 12 سو سے زائد سکولوںکی عمارتیں مخدوش ہیں جہاںکسی بھی وقت کوئی حادثہ پیش آ سکتا ہے۔ ایک فیصد سرکاری سکول کرائے کی عمارتوں میں قائم ہیں۔ واضح رہے کہ 2010ءاور 2014ءکے سیلاب زدہ علاقوںکی لاکھوں سکولوںکی اکثریت تاحال بنیادی تعلیم کی سہولتوں سے محروم ہیں ان کی بحالی کیلئے کام تو جاری ہے مگر انتہائی سست رفتاری سے۔ پنجاب ٹیچرز یونین کے رہنما رانا لیاقت علی نے نوائے وقت سے گفتگو میں کہا کہ صوبے کے گرلز سکولوں کی طرف فوری توجہ کی ضرورت ہے، شہروں میں حالات قدرے بہتر ہیں مگر دیہی علاقوں میں بنیادی ضروریات کی عدم دستیابی کے باعث اکثر طالبات پانچویں اور آٹھویں جماعت کے درمیان تعلیمی سلسلہ ادھورا چھوڑ دینے پر مجبور ہو جاتی ہیں۔ دریں اثنا محکمہ سکول ایجوکیشن پنجاب کے حکام نے نوائے وقت کو بتایا کہ صوبے کے مختلف اضلاع کے سکولوں میں مسنگ فسلیٹیز کو پورا کرنے کے اقدامات تیزی سے جاری ہیں اور اس حوالے سے تیرہ ہزار سکیموں پر کام جاری ہے نئے تعلیمی سال سے قبل 40 ہزار نئے اساتذہ سسٹم میں شامل کر دےئے جائیں گے۔