جنرل راحیل کا دورہ امریکہ

 جنرل راحیل کا دورہ امریکہ

آرمی چیف دو روزہ دورے پر امریکہ پہنچ گئے۔ ڈی جی ملٹری آپریشن اور ڈی جی آئی ایس پی آر بھی انکے ہمراہ ہیں۔ آرمی چیف نے فلوریڈا میں یو ایس سینٹ کام میں جنرل آسٹن سے ملاقات کی۔ جنرل راحیل شریف اپنے دورے میں وزیر دفاع چک ہیگل وزارت دفاع کے اعلیٰ حکام اور ممکنہ ارکان کانگریس سے بھی ملیں گے۔

امریکی اور عالمی نشریاتی اداروں نے بھی اس دورے کو اہم نوعیت کا قرار دیا ہے کیونکہ یہ چار سال بعد کسی پاکستانی آرمی چیف کا دورہ امریکہ ہے۔امریکہ سمیت تمام دنیا جانتی ہے کہ علاقے میں امن و استحکام کیلئے پاکستان کا کردار کلیدی نوعیت کا ہے جسے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان سے غیر ملکی افواج کا انخلا ہو یا شمالی وزیرستان میں دہشت گردوں کیخلاف کارروائی پوری دنیا پاکستان کے مثبت کردار کی معترف ہے۔ اس سے قبل بھی پاکستان نے امریکہ اور نیٹو کے اتحادی افواج کے ساتھ ہراول دستے کے طور پر دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بے مثال قربانیوں اور استقامت کا مظاہرہ کیا جس کے اعتراف کے باوجود امریکہ تمام تر جانی و مالی قربانیوں کو فراموش کرتے ہوئے پاکستان کے روایتی دشمن بھارت کو علاقے میں اہم رول سونپنے کیلئے کو شاں ہے۔ یہ جاننے کے باوجود بھی کہ بھارت پاکستان کیخلاف پراکسی وار لڑ رہا ہے۔ سرحدوں پر روزانہ بمباری اور افغانستان میں پاکستان دشمن عناصر کی سرپرستی کر رہا ہے جس کی وجہ سے پاکستان کو بلوچستان میں دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ علیحدگی پسند قوتوں سے بھی نبرد آزما ہونا پڑ رہا ہے۔ اب چار برس بعد کسی آرمی چیف کے اس طویل دورہ امریکہ میں دیکھنا ہے کہ امریکہ اپنے پرانے دفاعی ساتھی کے ساتھ کتنے اخلاص کا مظاہرہ کرتا ہے اور بھرپور دفاعی تعاون کے علاوہ دہشت گردوں اور ملک دشمن عناصر کیخلاف جنگ میں کتنا اور کیسا تعاون کرتا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ آرمی چیف اپنی ترجیحات اور قومی سلامتی کے ایشوز کے علاوہ بھارت کے ساتھ محاذ آرائی کے بارے میں امریکہ کو اپنے خدشات اور مطالبات سے کھل کر آگاہ کریں اور انہیں دہشت گردی کیخلاف جنگ میں اپنا بھرپور کردار ادا کرنے پر قائل کریں۔ اس وقت پاکستان کو صرف زبانی کلامی سراہنے کی نہیں‘ عملی اقدامات اور حمایت کی ضرورت ہے۔ یہ ایک سنہری موقع ہے کہ امریکہ پاکستان کی خصوصی پوزیشن کا ادراک کرتے ہوئے اپنے اس پرانے حلیف کی دفاعی ضروریات اور مشکلات کا جائزہ لے اور انہیں دور کرے تاکہ دہشت گردی کی طویل صبر آزما جنگ میں امریکہ کو اپنے قریبی پارٹنر سے وابستہ توقعات پوری ہوں اور علاقے میں امن و استحکام قائم ہو سکے۔