ایس ایچ او کی مدعیت میں طاہر القادری کے بیٹے سمیت تین ہزار سے زائد افراد پر دہشت گردی کا مقدمہ

ایس ایچ او کی مدعیت میں طاہر القادری کے بیٹے سمیت تین ہزار سے زائد افراد پر دہشت گردی کا مقدمہ

لاہور (سٹاف رپورٹر+ وقائع نگار خصوصی+ خصوصی نامہ نگار+ کامرس رپورٹر+نامہ  نگار+ نوائے وقت رپورٹ) سانحہ لاہور کا مقدمہ تھانہ فیصل ٹائون میں درج کر لیا گیا جس میں ذمہ داری عوامی تحریک پر ڈالی گئی ہے۔ ایف آئی آر میں ڈاکٹر طاہر القادری کے بیٹے حسین محی الدین، عوامی تحریک کے جنرل سیکرٹری خرم نواز گنڈاپور، چیف سکیورٹی آفیسر منہاج القرآن سید الطاف شاہ، شیخ زاہد فیاض سمیت  56نامزد اور 3ہزار نامعلوم افراد کو شامل کیا گیا ہے۔ ایف آئی آر میں فائرنگ کرکے علاقہ میں خوف و ہراس پھیلانے پر انسداد دہشت گردی کی ایکٹ شامل کی گئی جبکہ اس کے ساتھ ساتھ مقدمہ میں قتل اور ارادہ قتل، کارسرکار میں مداخلت، جرم کا مشورہ دینے، مسلح ہوکر ہنگامہ کرنے کی دفعات لگائی گئی ہیں۔ مقدمہ ایس ایچ او فیصل ٹائون رضوان قادر ہاشمی کی مدعیت میں درج کیا گیا۔ ادھر حسین محی الدین  کا کہنا  تھاکہ  ہماری لیگل ٹیم مقدمے کا جائزہ  لے رہی ہے جبکہ ہم نے بھی 3 پٹیشنز  تیار کر رکھی ہیں جو  ہائیکورٹ  میں جمع کرائی جائیں گی۔ دریں اثناء عوامی تحریک نے ملک بھر میں یوم سوگ منایا۔ ادھر انسداد دہشتگردی  عدالت کے جج  رائے محمد ایوب  نے سانحہ ماڈل ٹائون کے  دوران  گرفتار عوامی تحریک کی 6 خواتین سمیت 14 کارکنوں کو مقدمے سے ڈسچارج کر دیا جبکہ 16 گرفتار کارکنوں کو جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجواتے ہوئے ان کا طبی معائنہ کروانے کا حکم  دیا۔ گزشتہ  روز تقریباً  3 بجے  فیصل ٹائون پولیس نے گرفتار کارکنوں کو عدالت میں پیش کیا تو فاضل عدالت نے تاخیر سے  عدالت پیش کرنے پر اظہار برہمی کیا۔ پولیس  نے ان کارکنوں  کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کی دفعات  کے تحت مقدمات  درج کر رکھے ہیں۔ گزشتہ روز جب پولیس  نے ان کارکنوں کو عدالت میں پیش کیا تو عدالت کے باہر گرفتار افراد  کے عزیز و اقارب  اور پاکستان عوامی تحریک کے دیگر کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔  انہوں نے آہ  و زاری  اورحکومت  پنجاب اور پولیس  کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے  گرفتار کارکنوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ قبل ازیں جاں بحق 6 کارکنوں کی اجتماعی نماز جنازہ  کے بعد تدفین  کر دی گئی۔ ساتویں شخص  کی میت اس کے آبائی شہر شیخوپورہ  لے جائی گئی جہاں اسے  سپردخاک کیا گیا۔  نماز جنازہ  میں سیاسی رہنمائوں اور تحریک منہاج القرآن کے کارکنوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔  شازیہ، تنزیلہ،  محمد رضا،  عاصم حسین، غلام رسول،  صفدر حسین اور اقبال علی  کی نماز جنازہ  تحریک منہاج القرآن  سیکرٹریٹ  میں ادا کی گئی تھی۔  اس موقع پر فضا  مزید سوگوار ہو گئی اور رقت آمیز مناظر دیکھنے میں آئے۔ نماز جنازہ  ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادے  ڈاکٹر حسن محی الدین  قادری نے پڑھائی۔ سانحہ پر ملک بھر کی فضا میں سوگوار رہی ۔ ادھر ایک اور زخمی چل بسا، 20سالہ شہباز کو گردن میں گولی لگی تھی جبکہ 68زخمیوں کو ڈسچارج کر دیا گیا۔ ادھر ماڈل ٹاؤن واقعہ کے خلاف ایم کیو ایم نے ملک بھر میں یوم سوگ منایا۔ رابطہ کمیٹی نے عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں اور خواتین کی شہادت کے سوگ میں سیاہ پرچم لہرائیں تاہم رابطہ کمیٹی نے ٹرانسپورٹرز، دکانداروں اور چھوٹے تاجروں کی درخواست پر عوام سے اپیل کی تھی کہ وہ پُرامن یوم سوگ کے موقع پر ٹرانسپورٹ اور کاروبار معمول کے مطابق جاری رکھیں۔ مختلف سیاسی جماعتوں اور اقلیتی رہنمائوں نے منہاج القرآن سیکرٹریٹ کا دورہ کر کے ڈاکٹر طاہر القادری کے صاحبزادے حسن محی الدین اور ناظم اعلیٰ رحیق عباسی سے کارکنوں کی ہلاکت اور درجنوں افراد کے زخمی ہونے پر اظہار افسوس اور اس واقعے کی شدید مذمت کی۔ پیپلز پارٹی کے رہنما و سابق اپوزیشن لیڈر راجہ ریاض کی قیادت میں شوکت بسرا اور عزیز الرحمن چن پر مشتمل وفد نے ڈاکٹر حسین محی الدین اور رحیق عباسی سے ملاقات کر کے سانحے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے پنجاب حکومت اور پولیس کے اقدام کی شدید مذمت کی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کے رہنمائوں نے کہا کہ اس واقعے کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے ۔ وزیراعلیٰ کا یہ کہنا کہ انہیں اس واقعے بارے کچھ علم نہیں سراسر جھوٹ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جوڈیشل کمشن کا قیام معاملے کو دبانے کا ایک حربہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نواز شریف وزیر اعلیٰ شہباز شریف اور وزیر قانون رانا ثناء اللہ خان سے استعفیٰ لیں اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو یہ سمجھا جائے گا وہ بھی اس میں ملوث ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپریشن کرنے والے افسران کو گرفتار کیا جائے۔ (ق)  لیگ کے مرکزی سیکرٹری اطلاعات سینیٹر کامل علی آغا کی سربراہی میں عامر سلطان چیمہ‘ خدیجہ فاروقی‘ ثمینہ خاور حیات نے بھی منہا ج القرآن سیکرٹریٹ کا دورہ کرکے اس واقعے پر افسوس کا اظہار کیا ۔ کامل علی آغا نے کہا کہ اس واقعے نے ظلم او ربربریت کی ایک مثال قائم کر دی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ اگر واقعی اس سے لا علم تھے تو انہیں اپنی لا علمی پر مستعفی ہو جانا چاہئے۔قبل ازیں کامل علی آغا نے جناح ہسپتال کا دورہ بھی کیا۔ چیئرمین بابا گرونانک دیوجی ویلفیئر سوسائٹی کے چیئرمین سردار بشن سنگھ نے بھی منہاج القرآن سیکرٹریٹ کا دورہ کیا اورسانحے پر افسوس کا اظہار کیا۔ تحریک انصاف کے رکن قومی اسمبلی شفقت محمود نے بھی جناح ہسپتال کا دورہ کر کے زخمیوں کی عیادت کی ۔ انہوں نے بعد ازاں منہاج القرآن سیکرٹریٹ کا بھی دورہ کیا۔ اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے شفقت محمود نے کہا کہ پنجاب حکومت نے نہتے شہریوں پر گولیاں چلانے کا حکم دے کر بربریت کی بدترین مثال قائم کی ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے مرکزی رہنما رشید گوڈیل کی سربراہی میں وفد نے بھی منہاج القرآن سیکرٹریٹ کا دورہ کر کے اس واقعے کی مذمت او ر ہلاک ہونے والوں کے خاندانوں سے اظہار تعزیت کیا۔ منہاج القران کے ناظم اعلیٰ رحیق عباسی نے کہا کہ ڈاکٹر طاہر القادری کو اسلام آباد آمد کے بعد جی ٹی روڈ کے راستے لاہور لایا جائے گا۔ قائد کی وطن واپسی پر حتمی لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ میانوالی سے نامہ نگار کے مطابق  منہاج القرآن کے کارکنان جہاز چوک کے قریب غربی سائیڈ پر اکٹھے ہو رہے تھے کہ پولیس نے اکٹھے ہونے پر کارکنان پر شیلنگ اور لاٹھی چارج کر دیا جس کے نتیجے میں عوامی تحریک میانوالی کے ضلعی صدر عرفان الحسن ایڈووکیٹ اور دیگر کارکنان زخمی ہو گئے اور ایک رہنما کو گرفتار کر لیا گیا۔ واقعہ کے سوگ میں لاہور شہر کی کئی مارکیٹیں بند رہیں۔ زخمیوں کی عیادت کیلئے جناح ہسپتال میں گزشتہ روز صبح سے ہی سیاسی وغیر سیاسی سوسائٹی اور مختلف شعبہ جات زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کا  تانتا باندھا رہا۔ حافظ آباد سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق سانحہ لاہور کے خلاف حافظ آباد میں عوامی تحریک کی جانب سے فوارہ چوک میں احتجاجی کیمپ لگایا گیا اور مردو خواتین کارکنوں کی بڑی تعداد نے دھرنا دیا۔ عوامی تحریک کے کارکنوں سے اظہار یکجہتی کیلئے ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے وکلاء نے مکمل ہڑتال کی جبکہ مرکزی انجمن تاجران کے صدر شیخ محمد امجد اور دیگر رہنمائوںسیٹھ ہمایوں، حاجی محمد رفیق مغل، عبدالخالق کھوکھر اورڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل سیکرٹری ملک نزاکت علی پھلروان، محمد ارشد مہند ایڈووکیٹ و دیگر سینئر وکلاء نے بھی احتجاجی کیمپ میں شرکت کی۔ اوکاڑہ، ساہیوال، چیچہ وطنی، شکرگڑھ، گجرات، جہلم سمیت مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے جاری ہے۔ سانگلہ ہل سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق عوامی تحریک کے کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا، پرامن احتجاجی ریلی نکالی، ریلی میلاد چوک سے شروع ہوئی، حمید نظامی روڈ، فیصل آباد روڈ، کمیٹی بازار اور ریلوے روڈ سے گزرتی ہوئی میلاد چوک میں ہی اختتام پذیر ہوئی۔ ننکانہ صاحب سے نمائندہ نوائے وقت کے مطابق تحریک منہاج القرآن اور عوامی تحریک کے اہتمام لاہور میں ہونیوالے افسوس ناک واقعہ کے خلاف منڈی چوک میں احتجاجی دھرنا دیا گیا جس کی قیادت عوامی تحریک ضلع ننکانہ کے سرپرست مہر ناصر اسلم ایڈووکیٹ، نائب امیر چودھری یاسین، ضلعی صدر عوامی تحریک رائے محمد اقبال ایڈووکیٹ اور مسلم لیگ ق کے ضلعی انفارمیشن سیکرٹری جی کیو علوی نے کی۔ شاہ کوٹ سے نامہ نگار کے مطابق تحریک منہاج القرآن کے زیراہتمام درجنوں خواتین سمیت کارکنوں نے اکی ریلی نکالی اور شہر کے مرکزی میلاد مصطفی چوک میں زبردست احتجاجی مظاہرہ کیا۔ علاوہ ازیں پاکستان بار کونسل اور پنجاب بار کونسل کی اپیل پر سانحہ لاہور کے خلاف ملک بھر میں وکلا ء کی طرف سے گزشتہ روز ہڑتال کی گئی۔ ہائی کورٹ میں فوری نوعیت کے مقدمات کی سماعت کے بعد وکلا عدالتوں میں پیش نہیں ہوئے۔ لاہور کی ماتحت عدالتوں میں وکلا نے مکمل طور پر ہڑتال کی۔وکلاء کے عدالتوں میں پیش نہ ہونے کے باعث ہزاروں مقدمات کی سماعت کسی کارروائی کے بغیر آئندہ تاریخ تک ملتوی کر دی گئی۔ وکلا نے اعلان کیا کہ آج انیس جون کو سانحہ کے خلاف مال روڈ پر احتجاجی ریلی بھی نکالی جائے گی۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے سانحہ ماڈل ٹائون کے خلاف قرارداد مذمت منظور کرتے ہوئے ایک کمیٹی تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے جو اس سانحے میں ملوث کئے گئے بے گناہ افراد کو مفت قانونی امداد فراہم کرے گی۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے جنرل ہائوس اجلاس میں متفقہ طور پر منظور کی گئی قرار داد میں کہا گیا ہے کہ بار واقعہ میں ملوث تمام افراد کے خلاف بلا تفریق مرتبہ و عہدہ قانونی کاروائی کا مطالبہ کرتی ہے تاکہ تمام ملوث افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لا کر قرار واقعی سزا دی جائے۔قرار داد میںجوڈیشل کمیشن کی مکمل رپورٹ کو منظر عام پر لانے کا بھی مطالبہ کیا گیا ہے۔نمائندہ خصوصی کے مطابق پولیس کی ریاستی دہشت گردی کے خلاف وکلاء برادری نے ہڑتال کی جبکہ سانحہ میں جاں بحق افراد کی غائبانہ نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اس دوران وکیل عدالتوں میں پیش نہ ہوئے ، دیگر شہروں میں بھی وکلا نے ہڑتال کی۔جن افراد کا نام ایف آئی آر سے خارج کرنے کا حکم دیا گیا ان میں 11 سالہ بچی قرۃ العین سمیت 11 خواتین اور 2 بزرگ شامل ہیں۔

لاہور (خصوصی نامہ نگار+ این این آئی+ نوائے وقت رپورٹ) پاکستان عوامی تحریک کے سربراہ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ہے کہ قاتلوں کی طرف سے عدالتی کمیشن کا قیام سانحے پر پردہ ڈالنے کیلئے ہے جسے ہم مسترد کرتے ہوئے اور واضح کرتے ہیں کہ بیان ریکارڈ کرانے کمیشن میں پیش نہیں ہوں گے، کمیشن کے سربراہ لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج صاحبان سے بھی بڑے ادب سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر فیصلہ کرتے ہوئے اس سے لا تعلقی کا اعلان کر دیں، ہمارے خلاف بیان دلوانے کیلئے لوگوں کو کروڑوں روپے کی پیشکش کی جا رہی ہے اور ہمیں پتہ ہے ہمیں دہشت گرد ثابت کرنے کا سرکاری سطح پر سامان کیا جا رہا ہے، ہماری شہادتیں الیکٹرانک میڈیا ہے اور ہم بہت جلد میڈیا کے ہمراہ باضابطہ ایف آئی آر بھی کٹوائیں گے، اپنے حصے کی شہادتیں دیکر انقلاب کا آغاز کر دیا ہے، میں وطن واپس آئوں گا اور اگر مجھے بھی شہید کر کے میرا تابوت اٹھانا چاہیں تو بھی تیار ہوں،  اگر حکمران میڈیا کے ذریعے سیکرٹریٹ میں اسلحہ دکھا دیتے تو رب ذوالجلال کی قسم پوری دنیا میں اپنی تحریک پر پابندی عائد کردیتا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ویڈیو لنک کے ذریعے مرکزی سیکرٹریٹ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ میں میڈیا کا شکر گزار ہوں جنہوں نے کئی گھنٹوںتک ریاستی جبر اور دہشت گردی کو پوری قوم کو دکھایا اور پوری دنیا نے دیکھا کہ کدھر سے گولی چل رہی ہے اور کدھر سے صرف پتھروں اور ڈنڈوں سے دفاع کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پولیس والے میرے اہل خانہ کی شہادتوں سے اس کا آغاز کرنا چاہتے تھے اور میڈیا والے جا کر دیکھ سکتے ہیں کہ ہمارے بیڈرومز کے دروازوں پر گولیوں کے نشانات ہیں، کیا بیڈ رومز رکاوٹ تھے۔ ہماری ایف آئی آر الیکٹرانک میڈیا نے کٹوا دی اور جب پرامن انقلاب کے بعد نظام حکومت آئے گا تو آئین و قانون کے مطابق عدالتوں کے ذریعے قصاص لیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں موجود اپوزیشن کی تمام جماعتیں عدالتی کمشن کو مسترد کر چکی ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے قتل ہوئے اور راتو ں رات ہمارے خلاف سرکاری سرکاری ایف آئی آربھی تیار کر لی گئی۔ جو اجتماعی قتل کے ذمہ دار ہیں انہوں نے ہی انصاف کے لئے کمیشن بنا دیا ہے؟ ہسپتالوں میں ریکارڈ میں ٹمپرنگ کی جا رہی ہے اور وزیراعلیٰ نے ڈرامہ رچانے کے لئے جن افسروں کو او ایس ڈی بنایا وہ ہسپتال میں یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔ ہمار ے لوگ جو گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے انکی رپورٹس پتھر اور ڈنڈے لگنے جبکہ پولیس جو پتھر اور ڈنڈے لگنے سے زخمی ہوئے انہیں گولیاں لگنے زخمی ہونے کی رپورٹس تیار کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیشہ ایسا ہوتا ہے جہاں کہیں بھی اسلحہ ہوتا ہے اسے میڈیا کے سامنے دکھایا جاتا ہے لیکن بتایا جائے اگر ہمارے سیکرٹریٹ میں مختلف اقسام کا جدید اسلحہ تھا تو وہ میڈیا کو کیوں نہیں دکھایا گیا۔ جو شخص پوری دنیا میں دہشتگردی، انتہا پسندی اور عدم برداشت کے خلاف اوراسلام کا سوفٹ امیج اجاگر کر رہا ہو اسکی تنظیم کیوں ایسی سر گرمیوں میں ملوث ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ حکمران میری آمد کے اعلان سے بوکھلاہٹ کا شکار ہیں اور اسکا مقصد صرف یہ تھا کہ کارکنوں‘ سول سوسائٹی اور دوسری سیاسی جماعتوں کوخوفزدہ کیا جائے۔ ہمارے حوصلے پست نہیں کئے جا سکتے۔ میں بیس کروڑ افراد کی جنگ لڑنے آرہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جو مذہبی جماعتیں یہ مطالبہ کر رہی ہے کہ اس واقعے کی کمیشن گھنٹوں میں رپورٹ دے ان سے ہاتھ جوڑ کر مطالبہ کرتا ہوں کہ وہ ہمارے اوپر دوسرا وار نہ کریں ہم کہہ چکے ہیں کہ ہم موجودہ حکمرانوں کے ہوتے ہوئے کسی کمشن کو تسلیم نہیں کرتے۔ ہمارا بھی مطالبہ ہے کہ حکمران مستفعی ہو جائیں۔ انہوںنے کہا کہ حکومت میں بعض ہمارے بھی پیار کرنے والے بیٹھے ہیں اور یہ اطلاعات ہیں کہ میرے ایک صاحبزادے کو گرفتار کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ انقلاب پھولوں کی سیج نہیں ہوتی اس میں جانوں کی قربانیاں دیتی پڑتی ہیں اور ہم اسکے لئے تیار ہیںاور قربانیاں دیں گے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے ویڈیو لنک کے ذریعے پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو آگاہ کیا کہ ایک اور شہادت ہو گئی ہے اور مجموعی شہادتوں کی تعداد 11 ہو گئی ہے۔ انہوںنے کہا کہ زخمیوں میں میرا بھانجا بھی شامل ہے۔ خصوصی نامہ نگار کے مطابق طاہر القادری نے کہا کہ وزیراعظم، وزیراعلیٰ شہباز شریف، بعض وزرائ، آئی جی پنجاب، ڈی آئی جی آپریشنز اور دیگر پولیس افسران قتل عام کی منصوبہ بندی اور ہزارہا پولیس اہلکار قتل اور دہشت گردی میں شریک ہوئے۔ سینکڑوں پرامن کارکنوں اور سول سوسائٹی کے افراد کو انتہائی درندگی اور دہشت گردی سے گولیوں کا نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے تحقیقاتی کمشن کے جج سے مطالبہ کیا کہ وہ تحقیقات سے الگ ہو جائیں۔ نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ نواز شریف اور شہباز شریف مستعفی ہو جائیں۔

طاہر القادری