حاکم اور محکوم، ظالم اور مظلوم

حاکم اور محکوم، ظالم اور مظلوم

جس ملک و ملت کے باسیوں میں غیرت و حمیت مفقود ہو جائے، تو دوش مقسوم کو نہیں دیا جا سکتا کیونکہ تقدیر تو خودی و انا کو بلند و بام کرنے سے بنتی ہے۔ پوری قوم افیونی اور ملک مریض کا درجہ اختیار کرے، تو محکوم محکوم ہی رہتا ہے اور اربوں کی آبادی میں ایک شخص ماوزے تنگ پیدا ہو جائے تو پھر محکوم حاکم بن جاتے ہیں ملکی معیشت کو پہیے لگ جاتے ہیں ہم سے دو سال بعد آزاد ہونیوالا ملک دنیا کی سپر پاور بن جاتا ہے اور ہم صرف ہمالیہ سے بلند اور سمندروں سے گہری دوستی پہ اتراتے نہیں تھکتے حالانکہ ابھی کل ہی کی بات ہے چین کے وزیر اعظم چواہین لائی کراچی میں بنی حبیب بنک کی عمارت دیکھ کر انگشت بدبداں رہ گئے اور کہاں کہ کیا ہمارے ملک میں ایسی عمارتیں نہیں بن سکتیں مگر اب یہ وہی چین ہے کہ جس کی کروڑوں بلندو بانگ عمارتیں دیکھ کر ہم انگلیاں دانتوں میں دبائے پھرتے ہیں اور ہماری عقل و و دانش ، سمندروں میں غرق ہو جاتی ہے۔ ہمارے ملک میں ایوب خان جیسا حکمران نہیں آیا جس کے دور میں صنعت و حرفت اور زراعت نے بے مثال ترقی کی مگر افسوس کہ اس وقت کے وزیر خزانہ شعیب نے آئندہ کے حکمرانوں کو آئی ایم ایف کے دروازے کی راہ دکھائی، شعیب، دور موجود کے شعیب بن عزیز جیسے ہر فن مولا اور سب کو عزیز نہیں تھا ماسوائے ایک مشترکہ مماثلت … کے جبکہ شعیب بن عزیز تو ہر گلے شکوے اور ہر بات کا حاکم و محکوم کو ایک جواب دے کر چپ سادھنے پر مجبور کر دیتے ہیں کہ اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں۔

خیر اپنے موضوع کی طرف آتے ہیں چین کے علاوہ بھی بہت سے ملکوں اور بہت سی اقوام نے آزادی حاصل کی ہے۔ مگر برطانیہ جیسا ملک جس کے بارے میں دعویٰ تھا کہ اس کے زیر تسلط ملکوں میں سورج کبھی نہیں ڈوبتا یعنی مشرق ہندوستان سے لے کر مغرب اور خصوصاً امریکہ کا بھی وہ حاکم تھا امریکہ محکوم ملک تھا مگر وہ صرف اپنے ملک کا حاکم بنا بلکہ برطانیہ کا بھی اس طرح سے حاکم بنا کہ ٹونی بلیئر کو دنیا اس کا پالتو … کہنا شروع ہو گئی ایسے کیسے ممکن ہوا؟ اور برطانیہ کی کالونی (امریکہ) کیسے آزاد ہوئے؟ امریکی انگریزوں کے ظلم و ستم اور ناروا سلوک سے جب بالکل تنگ آ گئے تو پھر پوری قوم نے تہیہ کر لیا کہ نہ صرف ہم نے آزادی حاصل کرنی ہے بلکہ بالکل دنیا میں ممتاز مقام حاصل کر کے پوری دنیا کا بھی حاکم بننا ہے بقول اقبالؒ

محکوم کے الہام سے اللہ بچائے

غارت گیر اقوام ہے وہ صورت چنگیز

آج سے صدیوں پہلے امریکہ کے اہل عقل و دانش نے جو اہداف اور نصب العین مقرر کئے تھے ان میں حکومتیں بدلنے سے سرمو فرق نہیں آیا امریکیوں میں حب الوطنی کوٹ کوٹ کر بھر دی گئی ہے۔ سب سے پہلے انہوں نے تعلیم کو نہ صرف لازمی قرار دیا۔ بلکہ تعلیم کو مفت دینا شروع کیا نتیجہ یہ نکلا کہ اگر کوئی پٹرول پمپ پہ یا کسی سٹور پہ یا سیلز مین ہے یا کسی دفتر میں چپڑاسی ہے تو وہ بھی بارہ کلاسیں تو کم از کم پڑھا ہوا ہے۔ تعلیم کے بعد انہوں نے تہذیب و ثقافت پر اس طرح سے توجہ دی کہ اٹلی، یونان، آسٹریلیا، آسٹریا، سپین و ڈنمارک حتی کہ ہندوستان و پاکستان سے شعبہ طب و سائنس، ریاضی اور آرٹ غرض یہ کہ دنیا بھر کے علوم ماہرین و ہنر مند افراد کیلئے امریکہ کے دروازے کھول دیئے۔ اور ابھی تک یہ سلسلہ جاری ہے وہ مستند افراد کو ابھی بھی قومیت (نیشنیلٹی) دینے سے نہیں ہچکچاتے حتیٰ کہ روز ویلٹ جیسے امریکہ کے مشہور صدر بھی اسی زمرے میں آتے تھے وہ بھی باہر سے منتقل ہوئے تھے حاصل کلام یہ ہے کہ امریکہ کے ہر صدر نے جیسے ابراہام لنکن اور دیگر صدور نے اپنے وطن کی خاطر غیر معمولی کام کئے ہیں انہوں نے عملی طور پر سچ کر دکھایا کہ مسلمان مشرق میں اور اسلام مغرب میں ہے۔ خصوصاً صدر تھامس جیفرسن نے دنیا بھر سے کتابیں منگوا کر سجائی نہیں بلکہ ان کا گہرا مطالعہ کیا اور خاص طور پر قرآن پاک ہر وقت اس کے زیر مطالعہ رہتا جو لائبریری آف کانگریس میں ابھی بھی دیگر کتابوں کے ساتھ موجود ہے امریکہ کی ترقی کا راز صرف دو چیزوں کا مرہون منت ہے سب سے پہلے بلا تاخیر و بالا امتیاز انصاف کی فراہمی ہے امریکہ داخل ہوتے وقت جیسے ہر ایک کی تلاشی لی جاتی ہے ویسے ہی سابق صدر کینیڈی کے بھائی کی تلاشی لی گئی تو اس نے کہا کہ میں سینٹر ہوں مگر اہلکاروں نے جواب دیا قانون سب کیلئے برابر ہے دوسری ترقی کی وجہ قابض برطانیہ سے شدید نفرت اور ہر قیمت پر اس سے نہ صرف آزادی حاصل کرنا بلکہ اس سے اپنے آپ کو برتر ثابت کرنا ہے یہی وجہ ہے کہ الیکٹرانک اشیا برطانیہ کی اگر 220 پر چلتی ہیں تو امریکہ نے اس کا معیار 110 کر دیا برطانیہ کی ٹریفک بائیں پہ چلتی ہے تو امریکہ نے اظہار نفرت کے طور پر دائیں ہاتھ کر دیا ہے امریکی اپنے ملک اور عوام سے مخلص ہیں کرسمس میں 100 روپے کی چیز 20 روپے میں کر دی جاتی ہے رات کے دو بجے بھی ٹریفک کے اشاروں پر چاہے ایک گاڑی ہو روک دی جاتی ہے ہم امریکی مثبت کاموں کی تعریف کر رہے ہیں۔ امریکہ اپنے شہریوں کے مفادات بلکہ ملکی مفادات کی خاطر ریمنڈ ڈیوس جیسے قاتل کو بھی صدر اوباما کی خصوصی مداخلت پر چھڑوا کر لے جاتا ہے بلکہ اب تو حد یہ ہو گئی ہے ملکی مفاد کے نام پر امریکہ نے یہ فیصلہ کر لیا ہے کہ 2017ء تک تمام امریکی شہریوں کے جسم میں (ڈرون کی طرح) چپ داخل کر دی جائے گی جس سے شہری کی حرکات و سکنات، بلکہ زندگی اور موت کا فیصلہ بذریعہ سٹیلائٹ کیا جا سکے گا۔ یورپی یونین نے بھی فیصلے کی توثیق کی اور طے ہوا کہ اسی ماہ یعنی مئی میں جو بھی بچے پیدا ہونگے ان کے جسم میں چپ داخل کر دی جائے گی ہمارے خیال میں یہ فیصلہ امریکی جاسوس سڈون کی غداری اور روس میں پناہ لینے کی وجہ سے کیا گیا مگر ہو سکتا ہے کہ امریکی عوام اس فیصلے کو مسترد کر کے قبول نہ کریں۔امریکہ میں برطانیہ کے خلاف نفرت 1740ء سے پہلے اپنے عروج پر پہنچ چکی تھی۔ 1740ء کی آزادی والی سوچ اور درآمدی نظام و قانون کے خلاف پاکستانیوں کی نفرت بھی اپنے عروج پر پہنچ چکی ہے۔ شاید عوام یہی چاہتے ہیں ظلم و استبداد و جبر کے نظام سے ہمیں بھی آزادی مل جائے قانون سب کے لئے یکساں ہو جائے تو ملک بھر میں (موٹروے) والا قانون خود بخود متحرک ہو جائے گا، اور پاکستان ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا ۔ انشاء اللہ!