سانحہ مسلم مسجد کی خونچکاں داستان

قاضی مظفر اقبال رضوی .....

31 مارچ کا سورج جب سرخ پیرہن پہنے مغرب میں روپوش ہونے لگتا ہے تو آسمان پر پھیلنے والی سرخی 31 مارچ 1977ءکی اُس خون آشام، شام کی یاد تازہ کردیتی ہے، جب ملک کے قلب، شہر لاہور میں واقع مسلم مسجد کے صحن کو اس وقت کی حکومت کے حکم پر پولیس نے خون لالہ زار بنادیا اور اس کے تقدس کو پامال کر کے رکھ دیا۔ مظاہرین اپنے سینوں کے ساتھ قرآن پاک لٹکائے جب نظام مصطفیٰ کے نفاذ کیلئے حکومت کی تبدیلی کا مطالبہ کر رہے تھے تو اس دوران پولیس نے لاٹھی چارج کر کے ان کے خون سے ہولی کھیلی، کتاب اللہ کی توہین کی۔ حتیٰ کہ بعض کی داڑھیاں نوچی گئیں۔ کھینچا تانی میں انہیںبرہنہ مسجد کے فرش پر گھسیٹا گیا۔ حق تھا اگر اس درندگی کی پاداش میں آسمان پھٹ پڑتا ان تیرہ دل صفحہ¿ ہستی سے مٹ جاتے۔  1977 کے عام انتخابات میں ہونے والی دھاندلی کا یہ نتیجہ تھا کہ اپوزیشن جماعتوں نے اسے یکسر مسترد کر دیا۔ پورے ملک میں دفعہ 144 اور ڈی پی آر کے نفاذ سے جمہوریت کا گلا گھونٹ دیا گیا۔ کسی کی عزت و آبرو محفوظ نہ رہی۔ 7 مارچ 1977ءکو قومی اسمبلی کے انتخابات کے موقع پر ”جُھرلو“ کا وہ گھنا¶نا مظاہرہ کیا گیا جس میں پوری قوم کے سر ندامت سے جھک گئے۔ ان پے در پے زیادتیوں سے پاکستانی قوم کا پیمانہ لبریز ہو کر چھلک اُٹھا۔ آخر کار یہ تمام تر جدوجہد تحریک نظام مصطفی کے نام سے سیلاب کی طرح ملک کے طول و عرض میں بہہ نکلی۔ پاکستان کا ہر شہری، دیہاتی، جوان، بوڑھے، بچے، عورتیں سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آئے۔، ہر ایک کی زبان پر ایک ہی نعرہ تھا ”نظام مصطفی کا نفاذ“ اور ایک ہی مطالبہ تھا، حکومت مستعفی ہوجائے۔ اس جائز اور متفقہ مطالبہ کے سامنے سرِ تسلیم خم کرنے کی بجائے نہتے اور مجبور عوام کو ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اقتدار کی کرسی سے چمٹے ہوئے اس عفریت نے عوام کے خون سے اپنی پیاس بجھانا شروع کردی۔ جب بھٹو حکومت کی درندگی و ظلم آسمانی حدوں کو چھونے لگا تو علماءامت نے اس ظلم و تشدد کو بند کرنے کے لیے صدائے احتجاج بلند کی اور وہ محراب و منبر سے اُٹھ کر بنفس نفیس میدان عمل میں نکل آئے۔ 31 مارچ 1977ءکو نظام مصطفی کے علمبردار علماءنے نہتے و بے گناہ شہریوں پر ظلم و تشدد کے خلاف مسلم مسجد لاہور سے نماز ظہر کے بعد ایک پُرامن احتجاجی جلوس نکالنے کا اعلان کیا۔ یہ جلوس نئی انارکلی سے گزر کر جی پی او سے ہوتا ہوا مسجد شہدا شاہراہ قائداعظم پر اختتام پذیر ہونا تھا۔ پولیس کی بھاری جمعیت اس روز صبح ہی سے سرکلر روڈ، مسلم مسجد اور لوہاری کے گردو نواح میں جمع ہوگئی تھی۔ ادھر ہزاروں کی تعداد میں علماءکرام اور دینی مدارس کے طلبہ اور عام لوگ کشاں کشاں مسلم مسجد کی طرف چلے آرہے تھے جب نماز ظہر ادا کی گئی تو علماءکرام نے اس جلوس کی غرض و غایت پر روشنی ڈالی۔ ملکی سلامتی اور نظام مصطفی کے نفاذ کے لیے اور پھر حاضرین کے جذبات نعرہ¿ تکبیر و رسالت اور ”سارے دکھوں کی دوا ہے نظام مصطفی“ کے فلک شگاف نعروں کی صورت میں پورے علاقہ کا سکوت ٹوٹنے لگا۔ علماءکرام، طلبہ اور عوام تین تین قطاروں دو دو کی ٹولیوں میں ترتیب دی گئیں جن کا آخری سرا چوک شاہ عالمی سے بھی آگے تک پھیلا ہوا تھا۔ عجب ایمان افروز منظر تھا کہ محراب و منبر سے کلمہ¿ حق بلند کرنے والے آج چوراہوں اور سڑکوں پر ظلم کے خلاف سنت اسلاف کی پیروی میں سرتا پا احتجاج بنے کھڑے تھے۔ عین روانگی جلوس کے موقع پر ضلعی انتظامیہ نے علماءکرام کو جلوس نکالنے سے روکا۔ جب قائدین جلوس نے اس سلسلہ میں ان سے مذاکرات کئے تو دوران مذاکرات پہلے 18 او ر پھر 11 علماءکرام کو گرفتار کرلیا۔ پھر شدید احتجاج پر انتظامیہ نے مذاکرات کے بعد ڈیڑھ سو آدمیوں کو دو دو کی ٹولیوں میں جلوس نکالنے کی اجازت دی جب یہ بھی مان لیا گیا اور ڈیڑھ سو علماءکا جلوس ترتیب دیا گیا تو انتظامیہ نے اپنا موقف تبدیل کرتے ہوئے صرف داتا دربار تک جانے پر اصرار کیا۔ اب نماز عصر کا وقت ہوچکا تھا۔ مینارہ¿ مسجد سے عصر کی اذان بلند ہوئی ۔ نماز عصر کے لیے صفیں درست ہوئیں۔ بے پناہ ہجوم کی وجہ سے سرکلر روڈ پر دور تک صفےں بچھی ہوئی تھیں۔ لوگ نماز میں تھے کہ بغیر وارننگ کے پولیس نے لاٹھی چارج شروع کردیا۔ جو لوگ مسجد میں نماز ادا کررہے تھے اُن پر مسجد کی پچھلی جانب سے پتھر برسائے گئے۔ نماز ادا کرتے ہوئے سینکڑوں لوگوں کے سر پھٹے اور وہ خون میں نہا گئے۔ پولیس کی سرپرستی میں پیپلز پارٹی کے غنڈے ہاتھوں میں خنجر لہرا کر علماءکرام کو غلیظ گالیاں دے رہے تھے۔ پتھرا¶ کے ساتھ پولیس نے خانہ¿ خدا میں آنسو گیس کے اس قدر گولے گرائے کہ مسجد کے دروازے اور کھڑکیوں کے شیشے ٹوٹ گئے، صفیں جل گئیں اور دھوئیں کے غبار نے پوری فضا کو مکدر کردیا۔ دینی طلباءنے بڑی استقامت اور پامردی سے اس صورت حال کا مقابلہ کیا۔ نظام مصطفی صلی کے جیالوں نے پتھرا¶ کا جواب اس شدت سے دیا کہ پیپلز پارٹی کے غنڈوں کو سو ائے بھاگنے کے اور کوئی چارہ نہ رہا۔ پولیس کے پھینکے ہوئے شلوں کو طلبہ اپنے رومالوں میں پکڑ کر واپس پولیس پر پھینکتے رہے جس سے پولیس کو سخت مشکل کا سامنا کرنا پڑا۔ ایس پی سٹی کے حکم سے پولیس کے مسلح سپاہیوں نے مسجد پر ایک بھرپور حملہ کیا، سخت مزاحمت کے بعد مسجد کو گھیرے میں لے لیا اور آہستہ آہستہ سفید کپڑوں میں ملبوس سپاہیوں کو پہلے مسجد میں داخل کیا گیا اور اُس کے بعد پولیس کی بھاری جمعیت جوتوں سمیت مسجد میں داخل ہوگئی۔ ایک افسر نے للکار کر کہا کہ دیکھو اب ان میں سے کوئی بچ کر نہ جائے۔ مسجد کے احترام کو بالائے طاق رکھ کر زبردست لاٹھی چارج کیا گیا۔ بوڑھے، جوان اور بچوں میں کوئی تمیز نہ کی گئی۔ نماز ادا کرنے والوں اور قرآن پاک کی تلاوت کرنے والوں کو بڑی بے رحمی سے پیٹا گیا۔ علماءکرام کو مار مار کر ان کی انگلیاں توڑ دی گئیں۔ انہوں نے نعرہ¿ تکبیر بلند کیا تو درندہ صفت پولیس والے وحشی ہو گئے۔ دو چھوٹے چھوٹے بچے رو رو کر فریاد کررہے تھے خدا کے واسطے ہمارے ابو کو نہ مارو۔ بچوں کے سامنے اُن کے باپ کا کرتہ پھاڑدیا گیا اور تینوں باپ بیٹوں کو بری طرح زد وکوب کیا گیا۔ ایک بچہ جو قرآن پاک سینے سے لگائے بیٹھا لاٹھیوں کی زد میں آیا تو اُس نے قرآن کا واسطہ دیا اس پر بھی وحشی پولیس والے باز نہ آئے اور ڈنڈا برداری میں بچے اور قرآن مجید میں بھی تمیز نہ رہی۔ علماءکو داڑھیوں سے پکڑ کر گھسیٹا گیا اور اُنہیں بری طرح زد وکوب کیا گیا۔ صحن مسجد میں ہر طرف خون ہی خون تھا۔ مکانوں کی چھتوں پر دُور دور کھڑے لوگ پاکستان میں اسلام کی بات کرنے والوں کی اس بیکسی اور مظلومیت پر دھاڑےں مار مار کر روتے رہے۔ لاتعداد باریش لوگ برہنہ حالت چاک گریبانوں کے ساتھ لہو لہان ہو گئے۔ وارثان رسول کو ننگ دھڑنگ گھسیٹ کر لوہاری تھانہ لے جایا جاتا۔ ایک مقامی روزنامہ کا فوٹو گرافر آگے بڑھ کر اس بدترین دہشت گردی کو کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر رہا تھا کہ پولیس والے اُس پر پل پڑے۔ اُس سے کیمرہ چھین لیا گیا اور لاٹھیاں برسائی گئیں۔ اُس کا سر پھٹ گیا وہ زخمی ہو کر زمین پر گر گیا اس بے ہوش فوٹو گرافر کو دوسرے فوٹوگرافروں نے اٹھا کر ہسپتال پہنچایا۔ پولیس ایکشن ایک گھنٹہ سے زائد عرصہ تک جاری رہا۔ اس سانحے کی خبر سارے شہر میں پھیل گئی اور ہر کہیں صف ماتم بچھ گئی۔ مسجد بننے کے بعد پہلی بار یہاں مغرب، عشاءاور فجر کی اذان و نماز نہ ہوسکی۔ اذان سحر سے قبل سفید کپڑوں میں ملبوس پولیس کی نفری وہاں پہنچی، فرش اور دیواروں پر لگے ہوئے خون کے دھبے دھوئے جاتے رہے۔ لیکن کوشش و بسیار کے باوجود پولیس اپنے جرم پر پردہ ڈالنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔ اس سفاکی اور دہشت گردی کے خلاف ہر پاکستانی کے دل میں حکومتی تشدد کے خلاف زبردست نفرت پھیل گئی۔ آخر کار زبان خلق نقار ہ خدا ثابت ہوئی اور اس حکومت سے پاکستان کو نجات ملی۔