مزدورکی روٹی اور آگ کا نظام !

اٹھارہ سال کا شاہنواز اور تئیس سالہ فرزانہ ،یہ دونوں بہن بھائی بلدیہ ٹاﺅن کراچی میںکپڑے کی ایک فیکٹری میں کام کرتے تھے ۔ دونوں 125ڈالرز فی کس آمدنی گھر لاتے تھے جس سے گھر کا خرچہ تو نہیں چلتا تھا مگر دال روٹی چل رہی تھی ۔بلھے شاہ کے بقول اسلام کے چھ ارکان ہیں ۔۔۔چھٹا روٹی ہے ۔اور شائدیہی سب سے اہم رکن ہے اسی لئے تو غریب گھروں میں بچوں کو روٹی کے مول سڑکوں پر دھکے کھانے کو نکال دیا جاتا ہے ۔ جو پیٹ میں روٹی ڈالے وہی خدا ہوتا ہے۔لوگوں نے خدا کو سب سے زیادہ روٹی میں پہچانا ہے ۔خدا روٹی کی شکل میں سامنے آتا ہے تو سر خود بخود سجدے میں جھک جاتا ہے ۔ جس کھیت ، فیکٹری ، دکان اور مکان سے روٹی ملتی ہے وہی جگہ انسانوں کی عبادت گاہ بن جاتی ہے ۔ ان عبادت گاہوں کے رکھوالے اپنے پیٹ کو آگے رکھ کر قانون بناتے ہیں ،ان میں کام کرنے والے اپنا رزق پتھر سے خود ڈھونڈتے ہیں ، خدا نے کیڑے کو پتھر میں رزق دینے کا وعدہ کیا ہے ،انسان سے نہیں ۔ اس لئے انسان اپنے لئے وعدے بھی خود کر رہا ہے ، اسے توڑ بھی خود رہا ہے اور جسے ہم غیر فطری رویے کہتے ہیں و ہ فطرت کا حصہ ہیں ۔

13 ستمبر2012کو علی انٹر پرائزز ( گارمنٹس فیکٹری) کے سٹوریج میںشام چھ بجے آگ لگ گئی ۔ اس میں تقریبا تین ہزار مزدور کام کرتے ہیں ۔چار منزلہ اس عمارت میں جب آگ پھیلی تو تہہ خانے میں موجود مزدور اوپر نہ پہنچ سکے ، دوسری منزل کی کھڑکیوں کے آگے موٹے لوہے کپڑے کو چوروں سے تو بچانے میں کامیاب ہوگئے مگر مزدوروںکی سیفٹی کے لئے زیادہ نقصان دہ ثابت ہوئے۔ جب بھی کوئی سوشل ایکٹوسٹ وہاںجاتا تو یہی خبر لاتا کہ فیکٹری کی کھڑکیوں پر ایسے جنگلے ہیں کہ ایمرجنسی میں لوگوں کے اس عمارت سے نکلنے کی کوئی صورت نہیں ہوسکتی ۔سووہی ہوا !وہ فیکٹری جس کو SA8000کا سر ٹیفکٹ ملا تھااور اس کے عین تین ہفتے بعد ناقص سیفٹی کے انتظام کی وجہ سے مزدور آگ لگنے کے بعد باہر نکلنے کا کوئی متبادل راستہ نہ پانے پر وہیں جل جل کر مرتے رہے ۔ پندرہ گھنٹوں تک آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا۔ فیکٹری میں کام کرنے والے اندر سے رو رو کر چیخ چیخ کر اپنے دوستوں ، رشتہ داروں کو فون کرتے رہے ۔ کچھ نے سوچا ہوگا یہ اسلامی ریاست میں زندہ مسلمانوںکو کون جلا رہا ہے ۔ شاہنواز نے بھی اپنے ابا کو فون ملایا ہوگا ، فرزانہ جلتی دیواروں میں سے بھائی کو ڈھونڈ رہی ہوگی ۔ جسم اس کا بھی جل رہا ہوگا مگر یہ خیال دل کو اور کاٹتا ہوگا کہ اسی آگ میں میرا بھائی بھی جل رہا ہوگا ، کوئی اس کو ہی بچا لے ۔ابا کو فون اس نے بھی کیا ہوگا ، ابا میرا جسم تو جل چکا ، کیا تم بھائی کو بچا سکتے ہو ؟ابا نے روتے روتے کہا ہوگا ،75منٹ سے آگ منہ زوری سے جل رہی ہے ، ہم باہر کھڑے صرف سر پیٹ رہے ہیں ۔فائر برگیڈ اب پہنچا ہے ، توُ بھی بچ جائے گی ، بھائی بھی ۔ورنہ گھر کی دال روٹی کیسے چلے گی ۔۔۔اور فرزانہ کا دل بھی اس کے جسم کے ساتھ ہی جل کر خاموش ہوگیا ہوگا ۔ فائر بریگیڈ کے پائپوں سے جب ابلتا پانی آگ کو بجھانے کو لپکا تو آگ تو پندرہ گھنٹے ان کے قابو نہ آئی مگر تہہ خانے میں موجود کارکن گرم پانی میں زندہ ابل ابل کر مرتے رہے ۔چوری کے ڈر سے مضبوطی سے بند کھڑکیاں کسی چور سے تو نہ کھل سکیں ، مگر موت تمام جنگلے توڑ کر ان غریب مزدورں کو نگل گئی ۔ پندرہ گھنٹوں میں تین سو سے زیاد ہ لوگ زندہ جل کر مر گئے ۔

میرا خیال ہے کہ وہ انسان ہی تھے ۔ اسی لئے ایک موت کی قیمت نو ہزار تین سو پچھتر ڈالر اور علی فیکٹری کے اہم گاہک K.Kنے ایک موت پر ایک ہزار نو سو تیس اضافی دیئے ۔ اس سے مجھے شک ہوا کہ وہ انسان ہی ہونگے ۔یہ پیسے لینے کے بعد شاہنواز اور فرزانہ کے والد نے کہا ان کے کمانے سے گھر کی دال روٹی چل رہی تھی ۔مگر فیکٹری والوں سے بھی کوئی گلہ نہیں اب کچھ بھی ہو جائے میرا بیٹا بیٹی تو واپس نہیں آسکتا ۔ بلھے شاہ نے درست فرمایا تھا کہ اسلام کا چھٹا رکن روٹی ہے ۔ شائد اس دنیا کا سب سے اہم مہرہ ، سب سے بڑی طاقت روٹی ۔

23جنوری 2013کو فنانس منسٹر سلیم ماندیوالہ نے بھالیہ بردارز آف علی انٹر پرائزز پر سے اس فیکٹری کے اندر جل کر مرنے والے مزدوروں کے قتل کا مقدمہ واپس لے لیا ۔سب تعریفیں اس رب کی جس نے اس جہان کا نظام بنا یا ۔مگر اسی کے پیدا کئے انسان نے اس کے بنائے ہوئے نظام کو یوں کر دیا ہے کہ جہاںجل کر مرنے والوں کے جلنے کی بد بو بھی ارد گرد سے رخصت نہ ہوئی تھی ، چند مہینے ہی گزرے تھے جس میں ابھی جلے چہروں کی تصویر بھی دھندلی نہ ہوئی تھی مگر دیدہ دلیری کی انتہا یہ ہے کہ ان مزدوروں کے قتل کا مقدمہ ہی خارج کر دیا گیا ۔

پاکستان کی نام نہاد سول سوسائٹی کہاں ہے ؟ علامہ صاحب کا دھرنا کہاں ہے؟خود نمائی کے جنون میں انسانیت کا واویلا بلند کرنے والے دانشور کہاں ہیں ؟ وہ سیاست دا ن کہاں ہیں جو ملک میں انصاف اور توازن کا انقلاب لارہے ہیں ، وہ چیف جسٹس صاحب کیوں خاموش ہیں جنہوں نے اپنی نوکری کی بحالی کے لئے لوگوں کی جانوں کی قربانی لی تھی ؟جب بھی وکیل زندہ جلائے گئے تھے ، تب یہ کہاگیا تھا کہ عام آدمی کو بھی فوری انصاف ملے گا ۔ ہاں چار مہینے کے اندر اندر سرمایہ داروں سے تین سو مزدوروںکے قتل کا کیس خارج ہوجانا۔۔۔ اس سے زیادہ عدل کے حصول میں اور کیا تیزی آسکتی ہے ۔

سرمایہ داروں کے وکیل کا موقف تھا کہ وہ گارمنٹس فیکٹری انٹرنیشنل سٹنڈرڈ کی تھی ۔اور اسے social accountabilty internationalسے سر ٹیفیکٹ مل چکا ہے ۔ اس سرٹیفیکٹ کی حقیقت یہ ہے کہ SAIجو نیویارک میں قائم ایک نان پرافٹ تنظیم ہے جس کا مقصد غریب ملکوں کے مزدورں کے حقوق اور ان کی سیکورٹی پر نظر رکھنا ہے ۔یہ ایک اور پرانی تنظیم RINAجو کہ اطالوی کارپوریشن ہے کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے ۔ اور پھر یہ اطالوی کمپنی پاکستان کی مقامی آگنائزیشن RI &CAکو پاکستان میں فیکٹریوں کے لئے سرٹیفکٹ جاری کرنے کے لئے متعین کرتی ہے اور اس بات کے لئے وہ مقامی کمپنیوں پر انحصارکرتی ہیں اور اپنے مقامی لوگوں کے حال سے ہم میں سے کون واقف نہیں ہے ۔ وہاں قیمت ادا کر کے کوئی بھی سر ٹیفکیٹ لیا جا سکتا ہے۔ جب امریکی آڈٹ کمپنی کا نقطہ انجام پاکستانی کمپنی ہی ٹھہرا تو انٹرنیشنل معیار کی بات میرے تو سر پر سے گزر جاتی ہے اور امریکی کمپنی پر اعتبار کا یہ عالم ہے کہ UNI global union جو کہ 900لیبر یونینز کا گروپ ہے انہوں نے SAIکے بورڈ سے سر ٹیفکٹ ایشو کرنے پر جو نااہلیت دکھائی جاتی ہے اس بنا پر کمپنی چھوڑ چکے ہیں ۔

انٹرنیشنل لیول پر ادارے یا لوگ جو بھی کریں ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کسی بھی سطح پر کوئی ڈھنگ کا کام کرنے کے قابل نہیں ہیں ۔ ہم انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں مگر اتنی ہی جتنی ہمارے گروپ ،ہمارے فرقے ، ہمارے مذہب تک محدود ہو ۔ کسی فرقے کا کوئی انسان مر جائے تو اس کے ہم فرقہ میدان میں آجاتے ہیں ، کسی جماعت کا کوئی بندہ مار دیا جائے تو دکانیں جلا دی جاتی ہیں ۔ مذہب ، جماعت ، امریکہ ، یا کوئی اور انٹرنیشنل طاقت کا نفع یا نقصا ن کسی کی موت میں شامل ہے تو احتجاج بھی ہونگے اور ہنگامے بھی جس سے موت کی دردناکی بھی اجاگر ہوتی ہے اور تصویروں کے آگے شمعیں بھی روشن ہوجاتی ہیں ۔ انسانی حقوق پر لکھی گئی سب کتابیں بھی کھل جاتی ہیں اور انسانی حقوق کے علمبردار سڑکوں پر بھی نکل آتے ہیں ۔ مگر میں حیران ہوں کہ جب ایک عام مزدورجس کی موت سے نہ فرقہ پرستی کو ہوا مل رہی ہے،نہ کسی سیاسی جماعت کی سیاست چمک رہی ہے ، نہ ہی کسی انٹرنیشنل کھلاڑ ی کا مقصد پورا ہورہا ہے ،اس مزدور کی موت جتنی بھی درردناک ہو ، جتنی بھی ناانصافی کا شکار ہو ، جتنی بھی مجبور اور لاچار ہو ، وہ موت ان کہی ان سنی رہ جاتی ہے ۔کوئی اس کو مڑ کر بھی نہیں دیکھتا ۔ تین سو لوگ چیختے چلاتے ، زندہ جل جاتے ہیں اور عین چار مہینے بعد ان کے ذمہ داروں کو بری کر دیا جاتا ہے اور شہروں میں پھر بھی سناٹا رہتا ہے تو مرنے والوں کے رشتہ دار بھی دیکھتے ہیں کہ پہلے مہینے بھر میں دو تین ہزار کما کے لاتا تھا ، اب اکٹھا ایک ،دو لاکھ مل گیا ہے اور معاملے کو اہمیت بھی کوئی نہیں مل رہی جس سے موت کا نرخ بڑھایا جائے تو وہ بھی اپنے بچوں کی تصویر کے آگے سر جھکائے کہہ دیتا ہے مجھے مالکان سے کوئی گلہ نہیں ۔ اگرکسی کی موت کا چیف جسٹس صاحب سوموٹو نوٹس لے لیں ، سول سوسائٹی جس کی خاطر شمعیں پکڑ کر ٹریفک جام کر دے ، سیاست دان کی سیاست چمک جائے تو ان مرنے والوں کے لواحقین اتنی مضبوط پوزیشن میں ضرور آجاتے ہیں کہ سر اٹھا کر موت کے نرخ بڑھا سکیں ۔

اگر ہم فرقوں ، گروہوں ،جماعتوں اور گروپوں سے نہیں نکلیں گے ، خدا کی قسم یونہی چن چن کر مار دیئے جائیں گے پھر یوں ہوگا کہ شہر میں کوئی رونے والی آنکھ نہیں بچے گی ، صرف سینے ہونگے اور ہاتھوں سے ان پر ماتم ہو رہا ہوگا ۔بلا تفریق عدل ، انصاف اور حقوق ، یہ جنگ سب کی مشترکہ ہوگی تو ہماری نجات ہے،ایسا ہو تو یہ جنگ کبھی نہ ہاری جائے ورنہ اس جہاں میں کوئی چیز غیر فطری نہیں ۔ ظلم بھی نہیں وہ بھی فطرت کا حصہ ہے ۔