کنٹرول لائن : پاکستانی چوکی پر پھر حملہ‘ حوالدار شہید ۔۔۔ بھارت کا اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے سے انکار

کنٹرول لائن : پاکستانی چوکی پر پھر حملہ‘ حوالدار شہید ۔۔۔ بھارت کا اقوام متحدہ سے تحقیقات کرانے سے انکار

اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + نوائے وقت نیوز) آزاد کشمیر میں کنٹرول لائن کے بٹل سیکٹر میں بھارتی فوج کی ایک بار پھر بلااشتعال فائرنگ سے پاک فوج کے حوالدار محی الدین شہید ہو گئے ہیں۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جمعرات کو دن دو بج کر چالیس منٹ پر بھارتی فوج نے بٹل سیکٹر میں کنڈی نامی پاکستانی چوکی کو نشانہ بنایا جس سے حوالدار محی الدین شہید ہوئے۔ پاک فوج کی جوابی کارروائی سے بھارتی توپیں خاموش ہو گئیں۔ عسکری ذرائع کے مطابق اس واقعہ پر بھارت سے شدید احتجاج کیا گیا ہے اور ساتھ فلیگ میٹنگ کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے چھ جنوری کو بھی بھارتی فوج نے کنٹرول لائن پر ایک پاکستانی چوکی پر فائرنگ کی جس کی وجہ سے پاک فوج کے لانس نائیک محمد اسلم شہید ہو گئے تھے۔ اس کے چار روز بعد بھارتی فوج نے واویلا کیا کہ پاکستانی کمانڈوز نے کنٹرول لائن عبور کرکے اس کے دو جوانوں کو ہلاک کر دیا لیکن اس کارروائی کا کوئی ثبوت نہیں ملا اور پاکستان نے بھارتی الزامات مسترد کر دئیے۔ کے پی آئی کے مطابق مینڈھر کے سونا منکوٹ سیکٹر میں 2بھارتی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پونچھ کے حاجی پیر سیکٹر سے ضلع راجوری میں نوشہرہ کے مکڑی سیکٹر تک کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے جبکہ اضافی فوج بھی تعینات کی جا رہی ہے۔ بھارتی وزارت دفاع نے الزام لگایا کہ گزشتہ روز پھر سے گولہ باری شروع ہوئی اور یہ سلسلہ گزشتہ صبح 3 بجے تک جاری رہا۔ بھارتی فوج کی چھجا مہان ، کرانتی ، گھوڑا ، کر پان ، ، چھتری ، آتما سمیت 8پوسٹوں پر ، ڈاکو ، نرگس ، بٹل ، بیگم ، ایل پی 1اور ایل پی 2سے رک رک کر گولی باری ہو تی رہی جس کا جواب اس طرف سے بھی دیا گیا تاہم اس دوران کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔ چھجلا، پتری، منکوٹ، بالاکوٹ، بھروٹ، بسونی، گولد، ناڑ، گگراج، گانی اور بلنوئی گاﺅں کے لوگوں نے بتایا کہ کنٹرول لائن پر دوبارہ 2003 ءسے قبل کے حا لات بن چکے ہیں۔ اگر صورتحال مزید خراب ہوئی تو انہیںدوبارہ اپنے گاﺅں چھوڑ کر مہاجرین کی سی زندگی گزارنے پر مجبور ہو نا پڑیگا۔ دوسری جانب بھارتی فوج نے سرحدی ضلع کپواڑہ میں 90ءدہائی کی یادیں تازہ کرتے ہوئے شدید ٹھنڈ میں گاڑیوں اور مسافروں کی جامہ تلاشی اور شناختی کارڈ چیک کرنے کا سلسلہ پھر سے شروع کر دیا تلاشی کی آڑ میں مسافروں کو آدھ کلو میٹر پیدل چلنے پر مجبور کیا جاتا ہے ۔اطلاعات کے مطابق نوطنوسہ کے مقام پر فوج کی راشٹریہ رائفلز نے طویل عرصے کے بعد ایک مرتبہ پھر ایک چیک پوائنٹ قائم کیا جہاں سے گزرنے والی مسافر گاڑیوں کو فوجی اہلکار روک کر مسافروں کو گاڑیوں سے نیچے اتار کر ان کی جامہ تلاشی لیتے ہیں ان کے شناختی کارڈ باریک بینی سے چیک کئے جاتے ہیں ۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے بتایا کہ فوجی اہلکار مسافروں کو گاڑیوں سے نیچے اتارنے اور تلاشی لینے کے بعد انہیں آدھ کلو میٹر تک پیدل چلنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ لوگوں نے شدید احتجاج کیا ہے۔ دوسری جانب بھارت نے لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کی تحقیقات اقوام متحدہ سے کرانے سے انکار کر دیا ہے۔ بھارتی وزیر خزانہ پی چدم برم نے کہا کہ ہم اس واقعہ کو انٹرنیشنل نہیں بنانا چاہتے۔ انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کے الزامات مسترد کرتے ہیں۔ سکیورٹی سے متعلق کابینہ کے اجلاس کے بعد انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے کو بین الاقوامی رنگ دینے یا اقوام متحدہ سے تفتیش کرانے کے لئے بالکل تیار نہیں، ہم یہ مطالبہ مسترد کرتے ہیں۔ دریں اثنا بھارت اور پاکستان میں متعین اقوام متحدہ کے فوجی مبصرگروپ کو پاکستانی فوج کی طرف سے کنٹرول لائن پر بھارتی فوج کی فائرنگ کے بارے میں شکایت موصول ہوگئی جس میں کہا گیا ہے کہ کنٹرول لائن پر جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کی جائے جبکہ بھارت کی طرف سے کوئی شکایت اب تک موصول نہیں ہوئی، دونوں ملک جنگ بندی کا احترام اور مذاکرات کے ذریعے کشیدگی میں کمی لائیں، یہ بات اقوام متحدہ کے ترجمان مارٹن نسرکی نے پریس بریفنگ کے دوران کہی۔ انہوں نے بتایا کہ چھ جنوری کو پیش آنے والے واقعہ کے بارے میں مبصر گروپ کو پاکستانی فوج کی طرف سے باقاعدہ شکایت موصول ہوئی ہے اور وہ اپنے اختیار کے مطابق جلد از جلد اس کی تحقیقات کرے گا۔ دریں اثنا بھارتی فوج کی گولہ باری سے شہید ہونے والے حوالدار محی الدین کی میت کوٹلی پہنچا دی گئی نجی ٹی وی کے مطابق عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ حوالدار محی الدین کی میت آج جہلم لائی جائے گی شہید حوالدار محی الدین کی جہلم میں نماز جنازہ کے بعد میت بہاولنگر روانہ کی جائے گی جہاں فوجی اعزاز کے ساتھ سپرد خاک کیا جائے گا۔ عسکری حکام کے مطابق بھارتی فوج نے 10 دن میں ایل او سی پر سیز فائر کی 10 مرتبہ خلاف ورزی کی اور اس کا اعتراف بھی کیا ہے۔ لائن آف کنٹرول پر بٹل سیکٹر میں بھارتی سکیورٹی فورسز کی بلا اشتعال فائرنگ نے مقامی لوگوں کی زندگی اجیرن بنا دی گئی۔ لوگ گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے۔ بٹل سیکٹر کے گاﺅں درمسال کے رہائشی 38 سالہ شوکت بٹ اور دیگر نے بتایا کہ وہ گزشتہ کچھ دنوں سے بھارتی سکیورٹی فورسز کی جانب سے مسلسل اور بلااشتعال فائرنگ کے باعث اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں۔اسلام آباد (سٹاف رپورٹر + نوائے وقت رپورٹ) وزیر خارجہ حنا ربانی کھر نے کہا ہے کہ پاکستان نے لائن آف کنٹرول کی خلاف ورزیوں پر اقوام متحدہ کے متعلقہ ادارے سے رابطہ کیا ہے۔ بھارتی بیانات میں تضاد ہے امید ہے مذاکراتی عمل متاثر نہیں ہو گا۔ تھائی لینڈ کے وزیر خارجہ کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ نائیک اسلم کی شہادت کے چار دن بعد بھارتی بیانات پر دکھ اور حیرانی ہوئی یہ افسوسناک ہیں۔ سرحد کی خلاف ورزی سے متعلق دونوں ممالک کے درمیان میکانزم موجود ہے، پاکستان کے ڈی جی ایم او نے بھارتی ہم منصب سے اور پاکستان نے اقوام متحدہ سے رابطے کئے ہیں۔ پاکستان کی حکومت اور عوام بھارت سمیت تمام ہمسایوں کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کے لئے پرعزم ہیں۔ بھارت کو تجارت کیلئے پسندیدہ ملک قرار دینے میں چند ہفتوں کی تاخیر بڑی بات نہیں چاہتے ہیں اس سے پہلے تمام تجارتی رکاوٹیں دور ہو جائیں۔ پاکستان اشتعال انگیزی کا راستہ اختیار نہیں کرے گا، توقع ہے کہ کنٹرول لائن پر پیش آنے والے واقعہ سے کوئی سیٹ بیک ہو گا نہ ہی مذاکرات کا عمل پٹڑی سے اترے گا، ہمیں فخر ہے کہ ہم نے وہ راستہ اختیار کیا ہے جو تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے ہے۔ حکومت اور عوام نے بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے اور انہیں بہتر بنانے کیلئے پیش رفت دکھائی بھارت کو دانشمندانہ پیغامات دیئے ہیں۔ ہمیں فخر ہے کہ عوام اور حکومت نے ذمہ دارانہ طرز عمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے تمام پڑوسی ممالک کے ساتھ دوستی کا ہاتھ بڑھایا۔ ہم نے اس معاملے پر اقوام متحدہ کے مبصر گروپ سے رابطہ کرنے کیلئے کہا ہے۔ بھارتی قیادت خود متضاد بیانات دے رہی ہے اب بھارت کی شمالی کمانڈ کے سربراہ نے کہا ہے کہ فوجیوں کی گردنیں نہیں کاٹی گئیں۔ بھارت کو انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ دینے میں رکاوٹوں سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ پاکستان اب بھی بھارت کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کیلئے پرعزم ہے۔ بھارت کو انتہائی پسندیدہ ملک کا درجہ دینا کوئی مراعات نہیں بلکہ ہم نے دنیا کے 180 دیگر ممالک کو بھی یہ درجہ دے رکھا ہے، ہم بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو معمول پر لانا چاہتے ہیں۔ تمام تجارتی رکاوٹیں دور ہونی چاہئیں تاکہ معمول کی تجارت ہو۔ کنٹرول لائن کے واقعہ پر پاکستانی میڈیا نے مثبت کردار ادا کیا اور امید ظاہر کی کہ بھارتی میڈیا بھی ایسا ہی کرے گا۔ بھارت کے ساتھ اعتماد کی بحالی کیلئے سنجیدہ ہیں۔ پاکستان نے سیزفائر کی خلاف ورزی نہیں کی۔ دیگر ممالک کے ساتھ تعلقات بہتر بنانا چاہتے ہیں۔ پاکستان سیز فائر کی پابندی کررہا ہے۔ بھارتی بیانات سے باہمی تعلقات پر منفی اثر پڑ سکتا ہے۔ بھارت کے ہر بیان کا جواب دینا ضروری نہیں۔ دریں اثنا سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا ہے کہ بھارت کو پسندیدہ ملک قرار دینے کے معاملے پر وفاقی کابینہ پہلے ہی متفق ہوچکی ہے تاہم اس پر پاکستان کے کچھ تحفظات ہیں اور اس سلسلے میں جلد ہی پاکستان اور بھارت کے سیکرٹری تجارت کا اجلاس ہوگا ، بھارت کی جانب سے لائن آف کنٹرول پر خلاف ورزیاں افسوسناک ہیں اس سے امن کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ مسئلہ کشمیر پاکستان کیلئے انتہائی اہم ہے اسے پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ پبلک اکاﺅنٹس کمیٹی کے اجلاس کے بعد صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی نے کہا کہ بھارت کو پسندیدہ ترین ملک قرار دینے پر کابینہ پہلے ہی اتفاق کرچکی ہے تاہم پاکستان کے اس معاملے پر کچھ تحفظات ہیں جنہیں دور کرنے کیلئے پاکستان اور بھارت کے سیکرٹری تجارت جلد ملاقات کرینگے۔ پاکستان اور بھارت کے مابین معمول کی تجارت کے تجارتی تعلقات بہت اہم ہیں یہ دن بدن فروغ پا رہے ہیں۔ اس وقت پاکستان اور بھارت کی دوطرفہ تجارت کا حجم دو ارب ڈالرز سے بھی زائد ہے لائن آف کنٹرول پر بھارت کی جانب سے خلاف ورزیاں افسوسناک ہیں اور اس سے دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی اور قیام امن کے عمل کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔ بھارت کو ان واقعات کی اقوام متحدہ کے مبصرین سے تحقیقات کی پیشکش کی ہے اور بھارت کی جانب سے جواب کا انتظار ہے۔ لائن آف کنٹرول پر فائرنگ کے تبادلے اور بھارتی فورسز کے حملوں کے معاملے پر ڈی جی ایم اوز (ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز) کا رابطہ ہوا ہے۔ وزیراعظم کے بیرون ملک دورے جس کی منسوخ ہونے کی اطلاعات ہیں، اسکے بارے میں کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا تھا۔ مسئلہ کشمیر پاکستان کیلئے انتہائی اہمیت کا معاملہ ہے اور اس کو پاکستان کسی صورت بھی پست پشت نہیں ڈال سکتا۔ پاکستان نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی صدارت کا منصب سنبھالنے کے بعد اس معاملے کو مزید اجاگر کیا ہے اور تمام پلیٹ فارم پر اس بارے میں دنیا کو آگاہ کیا ہے۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ فی الوقت اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر امن کا قیام اور دہشت گردی کے معاملات موجود ہیں تاہم مسئلہ کشمیر کو پس پشت نہیں ڈالا جاسکتا۔ دریں اثناء ترجمان دفتر خارجہ نے وضاحتی بیان میں کہا ہے کہ میڈیا کے بعض حصوں میں سیکرٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی کا وہ بیان سیاق و سباق سے ہٹ کر اچھالا گیا ہے جس میں انہوں نے بھارت کے تجارتی درجہ کے با رے میں بات کی تھی۔ ترجمان کے مطابق سیکرٹری خارجہ نے محض یہ کہا تھا کہ بھارت کو پسندیدہ ترین تجارتی ملک کا درجہ دینے کے معاملے پر بعض سٹیک ہولڈرز کو تحفظات لاحق ہیں لیکن اس کے باوجود حکومت نے بھارت کے ساتھ معمول کے تجارتی تعلقات قائم کرنے کے فیصلے پر عملدرآمد کرنے کا تہیہ کر رکھا ہے۔