وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں عملہ کی کمی برقرار‘ ڈیلی ویجز بھی مستقل نہ ہو سکے

اسلام آباد (چوہدری شاہد اجمل) وفاقی سرکاری تعلیمی اداروں میں اربوں روپے کے ریفارمز پروگرام کے باوجود اساتذہ کی کمی کا مسئلہ حل نہ ہوسکا،سابق وزیر اعظم میاں نوازشریف کے وعد ے اور اداروں میں اساتذہ کی شدید کمی کے باجود سالہا سال سے کام کرنے والے ڈیلی ویجز اساتذہ کو مستقل نہ کیا جاسکا،ملازمین کے لیے ہر تعلیمی سال میں تنخواہوں کے لیے مہینوں انتظار کرنا معمول بن گیا، امسال بھی ڈیلی ویجزملازمین کی تنخواہوں کی مد میں بجٹ میں رقم نہ رکھی جا سکی، پیپلزپارٹی کے گزشتہ دور حکومت میں کابینہ کی خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر 2011کی پالیسی کی روشنی میں ایک لاکھ سے زائد جبکہ موجودہ دورحکومت میں بھی وزارت کیڈ کو چھوڑ کر دیگر وزارتوں اور ماتحت اداروں میں دس ہزار سے زائد ملازمین کو مستقل کیا گیا تاہم مقامی وزیر مملکت طارق فضل چوہدری بھی ڈیلی ویجزملازمین کا مسئلہ حل نہ کروا سکے،جبکہ وفاقی سیکرٹری کیڈ نرگس گھلو نے کہا ہے کہ ڈیلی ویجز اساتذہ کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے فیصلہ آنے کے بعد وزارت ان ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر معاملات کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔تفصیلات کے مطابق ذرائع نے بتایا ہے کہ اس سال وزارت کیڈ نے ڈیلی ویجزملازمین کی تنخواہوں کی مد میں بجٹ میں رقم مختص نہیں کی ہے جس کی وجہ سے ان ملازمین کی تنخواہوںکی ادائیگیوں کا مسئلہ پیدا ہو سکتا ہے اس حوالے سے وفاقی سیکرٹری کیڈ نرگس گھلو نے’’نوائے وقت ‘‘کو بتایا کہ ڈیلی ویجز اساتذہ کے معاملے پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے فیصلہ محفوظ کر لیا ہے فیصلہ آنے کے بعد وزارت ان ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر معاملات کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی جب ڈیلی ویجز ملازمین کی تنخواہوں کا مسئلہ پیدا ہو ا تھا توہم نے اسے خوش اسلوبی سے حل کر لیا تھا اب بھی اسلام آباد ہائی کورٹ کی طرف سے اس معاملے پر فیصلہ محفوظ کیا گیا ہے ہمیں انتظار ہے جیسے ہی معزز عدالت کا فیصلہ آئے گاتووزارت ان ملازمین کی تنخواہوں اور دیگر معاملات کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔ سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف نے ایجوکیشن ریفارمز پراجیکٹ کے افتتاح کے موقع پر ڈیلی ویجزخاتون ٹیچر کی شکایت پر وزیر مملکت برائے کیڈ طارق فضل چوہدری کو ہدایت کی تھی کہ ملازمین کی مستقلی کے لیے اقدامات کیے جائیں،مبینہ طور پر خلاف ضابطہ وزارت کیڈ نے ایسے ملازمین کو بھی جوائننگ نہیں دی جن کی مستقلی کے تمام مراحل مکمل ہوچکے تھے کیونکہ یہ اساتذہ اور نان ٹیچنگ سٹاف کابینہ کی خصوصی کمیٹی کی سفارشات پر نوٹیفکیشن ہونے پر وفاقی نظامت تعلیمات میں سرکاری ملازمت کے لیے ضروری میڈیکل بھی کرواچکے تھے،وزارت کیڈ کے چند افسران نے اعلی حکام کو اندھیرے میں رکھ کر ایسی سمری بھیجی جس میں تمام ملازمین کو مستقل کرنے سے متعلق 2011کی پالیسی کو یکسر نظرانداز کردیا گیا تاہم وزارت خزانہ نے عدالتی احکامات کو یکسرمستردکرتے ہوئے نئی تجویز دے دی جس میں ملازمین کو مستقلی کے لیے مشتہر پوسٹوں پر دوبارہ اپلائی کرناھو گا ،اسی تجویز کو مدنظررکھتے ہوئے اسٹیبلشمنٹ ڈویژن نے دوبارہ ایک سمری بھجوائی جس میں یہی تجویز رکھی گئی جس کو منظور کرکے نئی پالیسی متعارف کروادی گئی جس کوڈیلی ویجز ملازمین کی طرف سے اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا گیا تھا،اساتذہ نے اسلام آباد ہائیکورٹ میں موقف اختیار کیا کہ اسی 2011کی پالیسی کے تحت گزشتہ دورحکومت میں ایک لاکھ سے زائد ملازمین کو مستقل کیا گیا جس کو سپریم کورٹ آف پاکستان بھی توثیق کر چکی ہے،اسی2011کی پالیسی کی روشنی میں موجودہ دورحکومت نے بھی دس ہزار سے زائد ملازمین کو مستقل کیا گیاجس کی رپورٹ قومی اسمبلی میں پیش کی گئی، اسلام آبادہائیکورٹ کے جسٹس اطہر من اللہ پر مشتمل سنگل بینچ نے بھی ان ملازمین کی درخواستوں پر فیصلہ محفوظ کرلیا ہے۔

تعلیمی ادارے/ عملہ