محکمہ تعلیم بلدیہ عظمیٰ کے دائرہ اختیار میں نہیں رہا:ارشد وہرہ

کراچی(اسٹاف رپورٹر) ڈپٹی میئر کراچی ڈاکٹر ارشد عبد اللہ وہرہ نے کہا ہے کہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کے پاس اب کوئی تعلیمی ادارہ نہیں ہے اور نہ ہی کے ایم سی کراچی کے سرکاری اسکولوں میں تعلیم کے گرتے ہوئے معیار کی ذمہ دار ہے ہمیں تعلیمی اور ترقیاتی فنڈز سے محروم کردیا گیا ہے۔ ان خیالات کا اظہارانہوں نے روٹری ڈسٹرکٹ کانفرنس 2017ءکے تحت روٹری پاکستان لٹریسی مشن کے مقامی ہوٹل میںمنعقدہ پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس تقریب میں یو ایس ایڈ کی جانب سے ڈپٹی مشن ڈائریکٹر Miss Denise Herbal امن فاﺅنڈیشن کے چیف ایگزیکٹیو آفیسر احمد جلال‘ روٹری کلب کے سینئر ممبران میں اقبال قریشی‘ انیس یونس‘ ڈاکٹر محبوب شیخ‘ توصیف لطیف اور دیگر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ اس وقت بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام پرائمری اور سیکنڈری اسکولوں کو سندھ لوکل گورنمنٹ ایکٹ 2013 کے تحت شہرکی چھ ڈسٹرکٹ میونسپل کارپوریشنز منتقل کردیا گیا ہے۔ ان اسکولوں کی صورتحال خراب ہے اور کراچی کے شہریوں کے لئے تعلیم کے دروازے بند ہوتے جارہے ہیں اب صورتحال یہ ہے کہ اسکولوں میں پینے کا پانی بھی دستیاب نہیں ہے۔ ماضی میں مختلف ادور میں ہونے والی انتظامی تبدیلیوں اور تیزی سے بدلتی ہوئی پالیسیز نے تعلیمی نظام کو بہتر انداز سے چلنے نہیں دیا جس کا براہ راست اثر بلدیہ عظمیٰ کراچی کے زیر انتظام اسکولوں پر ہوا۔ بلدیہ عظمیٰ کراچی نے 1963ءمیں برنس روڈ پر لڑکیوں کے لئے پہلا اسکول قائم کیا تھا جبکہ دوسرا حسرت موہانی کالونی میں لڑکوں کے لئے قائم کیا تھا۔1964ءمیں باقاعدہ بلدیہ عظمیٰ کراچی کا محکمہ تعلیم قائم کیا گیا جو1987 تک کام کرتا رہا جن میں 500 سے زائد مختلف اسکولز‘ کالجز‘ انڈسٹریل ہومز قائم کئے گئے اس کے بعد مختلف حکومتی سطح پر کی جانے والی تبدیلیوں کے باعث محکمہ تعلیم اب بلدیہ عظمیٰ کراچی کے دئارہ اختیار میں نہیں رہا۔