وزیر تعلیم سندھ کا انٹر امتحانات میں نقل کی شکایات پر برہمی کا اظہار

کراچی (نیوز رپورٹر) صوبائی وزیر تعلیم جام مہتاب ڈھر نے انٹر کے سالانہ امتحانات میں بدنظمی اور نقل کی مسلسل شکایات پر چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کراچی پروفیسر انعام احمد، ڈی جی کالجز ڈاکٹر ناصر انصار اور ڈائریکٹر اسکولز کراچی ڈاکٹرریاض صدیقی کو طلب کرکے شدید برہمی کا اظہار کیا۔ وزیر تعلیم سندھ نے پرچے آﺅٹ ہونے کا ذمہ دار بورڈ کو قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ وقت سے پہلے پرچے سوشل میڈیا پر کیسے شیئر ہوئے؟۔ انہوں نے کہا کہ اس سال امتحانات میں شدید بدنظمی دیکھنے میں آئی ہے۔ جام مہتاب ڈھر نے چیئرمین انٹرمیڈیٹ بورڈ کو ہدایات جاری کی ہیں کہ انٹرمیڈیٹ بورڈ میں جاری امتحانات میں ہونے والی نقل کا فوری قلع قمع کریں اور کسی کو بھی کمرہ امتحان میں موبائل فون لانے کی اجازت نہ دیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ انہیں حساس امتحانی مراکز کی فہرست فراہم کی جائے اور ویجیلنس ٹیموں کو ہدایت جاری کی جائیں کہ وہ سخت کارروائی کریں۔ دریں اثناء وزیر تعلیم کی طلبی اور بد نظمی پر قابوپانے کے احکامات بھی بے سود ثابت ہوئے۔ اعلیٰ ثانوی تعلیمی بورڈ کراچی کے تحت جاری امتحانات کے سلسلے میں جمعہ کو پہلی شفٹ میںکیمیاسا ل اول اور دوسری شفٹ میںکاروباری ریاضی سال اول کے پرچوں کو آو¿ٹ ہونے سے نہ روکا جاسکا جبکہ کاپیاں لیکر فرار ہونے کا سلسلہ بھی جاری رہا۔جمعہ کو نقل اور غیر قانونی ذرائع استعمال کرنے کے مجموعی طورپرگیارہ کیسز رپورٹ ہوئے ۔ پاکستان شپ اونرز کالج سے موبائل فون کے ذریعے نقل کے تین امیدوار پکڑے،جبکہ گورنمنٹ کالج آف ایجوکیشن اور گورنمنٹ سٹی کالج نمبر ۱ سے ایک امیدوار کے کاپی لے کر فرار ہونے کی رپورٹ موصول ہوئی ہے جبکہ دوپہر کے پرچے میں گورنمنٹ ڈگری بوائز کالج کورنگی کے امتحانی مرکز سے ناجائز ذرائع استعمال کے 6 کیسز پکڑے گئے۔ ضمیر احمد کھوسو، ڈائریکٹر کالجز اور گلاب رائے اسسٹنٹ ڈائریکٹر کالجز پر مشتمل ہائی پاورڈ ویجیلنس ٹیم نے کراچی کے حساس امتحانی مراکز کا دورہ کیا۔

انٹر امتحانات