تعلیم کے ذریعے ہم ذہنوں کو تبدیل کرسکتے ہیں‘ سینیٹر رزینہ عالم

اسلام آباد(خصوصی نمائندہ) این سی ایچ ڈی کی چیئرپرسن اور سابق سینیٹر رزینہ عالم خان نے کہا ہے کہ تعلیم واحد ذریعے ہے جس کے ذریعے ہم ذہنوں کو تبدیل کر سکتے ہیں، ہم تعلیم کے ذریعے ہی مثبت سوچ سے معاشرے کی برائیوں، غربت، بے روزگاری، معاشی بے انصافیوں، صنفی فرق اور جرائم کو ختم کرنے کے قابل ہو سکتے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے ہیڈ آفس کے اعلی عہدیداران سے اجلاس کے دوران کیا۔ انہوں نے اعلیٰ عہدیداران کو مزید بتایا کہ ہمارا سرگودھا میں پائلٹ جیل پروجیکٹ کامیابی(صفحہ10بقیہ 17)

سے کام کر چکا ہے جس کی رپورٹ انہوں نے صدر مملکت ممنون حسین کو پیش کردی ہے۔ صدر مملکت نے این سی ایچ ڈی کی خدمات کو بہت سراہا ہے اور کہا کہ اس پروجیکٹ کے تحت قیدیوں کو تعلیم اور ہنر سکھانے کے ساتھ ساتھ ان کی ذہنی اور نفسیاتی رہنمائی بھی کی جائے گی۔ انہوںنے کہا کہ ہماری اولین ترجیح جیلوں میں قید خواتین اوربچوں کو تعلیم اورہنر سکھانے کے ذریعے انہیں بااختیار بنانا ہے تاکہ رہائی کے بعد انہیں زندگی گزارنے اورروزی کمانے میں آسانی ہو۔ انہوں نے کہا کہ قیدیوں کے ساتھ جڑے منفی رحجانات کے خاتمے کیلئے ہم قیدیوں کے اہل خانہ سے رابطے استوار کریں گے اور معاشرے کو انہیں قیدیوں کو قبول کرنے کی طرف راغب کریں گے تاکہ رہائی کے بعد قیدیوں کو عام شہریوں کی طرح زندگی گزارنے میں آسانی ہو۔ صدر مملکت کی ہدایت پر ہم اس پروجیکٹ کا عنقریب بڑے پیمانے پر آغاز پاکستان کی سو جیلوں میں کریں گے۔ اس کے علاوہ این سی ایچ ڈی کے مختلف پروجیکٹس مثلاً تعلیمی،خواندگی اور ہنر سے متعلق ہیں جو مختلف ڈونرز اور صوبائی حکومتوں کے ساتھ مل کر کامیابی سے چل رہے ہیں۔ ان پروجیکٹس کا مقصد ہی غربت کا خاتمہ، تعلیم تک رسائی، رسمی و غیر رسمی بنیادی تعلیمی ادارے، مدارس میں تعلیمی اصلاحات، آئی ٹی سینٹرز کا اجرائ، ڈیٹا جمع کرنا اور ہنر سکھانے کے مراکز شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے تعلیمی معیار کو بڑھانے پر خاص توجہ دی ہے، پاکستان بھی عالمی برادری کے ہمراہ پائیدار ترقی کے اہداف کا دستخط کنندہ ہے اور ان اہداف کا ہدف تعلیم اور تازیست سیکھنے کے عمل سے متعلقہ ہے۔ اس سلسلے میں قومی اور عالمی سطح پر نگرانی کے عمل کو بہتر بنانے کے لئے بہت سے تجزیاتی ساختہ آلات/ اصلاحات مرتب کی ہیں۔ انہوں نے مزید آگاہ کیا کہ ایک ایسا نگرانی کا عمل جو تعلیم کے حوالے سے تمام پہلوﺅں کا باریکی سے جائزہ لیتا ہو، وہ پالیسی سازی میں بہت ممد و معاون ثابت ہو سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ پاکستان ”تعلیم سب کے لئے“ کے اہداف پورا کرنے میں ناکام ہوا ہے اس لئے ملک میں موجودہ ایجنڈا مرتب کیا گیا ہے اور اب ہم نمایاں بہتری کی طرف گامزن ہیں۔ ہمیں ہر حالت میں 2025ءتک90 فیصد شرح خواندگی اور 100 فیصد سکولوں میںاندراج حاصل کرنا ہے۔

رزینہ عالم