وفاقی تعلیمی اداروں میں داخلوں کے خواہشمند طلبہ خوار ہونے لگے

اسلام آباد(نامہ نگار) وفاقی تعلےمی اداروں مےں نئے تعلےمی سال کے دوران بھی داخلوں خواہش مند خوار ہونے لگے، وفاقی تعلےمی اداروں مےں داخلے کےلئے طلباءو طالبات اور انکے والدےن کو سخت مشکلات کا سامنا ہے، اےک طرف سکولوں سے باہر بچوں کو سکولوں مےں لانے کا دعویٰ کےا جاتا ہے لےکن تضاد کا عالمےہ ہے کہ جو والدےن خود داخلے کےلئے اپنے بچے سکولوں مےں لا رہے ہےں ان کا داخلہ بھی اےک مسئلہ بن چکا ہے، تفصےلات کے مطابق امسال بھی داخلوں کا پرےشر 20ماڈل کالجز پر ذےادہ ہے ، داخلوں کےلئے اےک کمےٹی کا قےام بھی عمل مےں لاےا گےا ہے لےکن اس کمےٹےی کا بھی دےگر معاملات پر بننے والی کمےٹےوں کی طرح کوئی نتےجہ نہےں نکلا، والدےن بدستور اپنے بچوں کے داخلے کےلئے مشکلات کا شکار ہےں ، والدےن کا کہنا ہے کہ وہ اپنی مرضی کے سرکاری تعلےمی اداروں مےں بچے کو داخل ہی نہےں کروا سکتے، کبھی سےکٹر کا بہانہ اور کبھی ٹےسٹ کا بہانہ بنا کر ٹال مٹول سے کام لےا جاتا ہے، اےک مسئلہ ےہ بھی ہے کہ شامل کی شفٹ والے طلباءو طالبات نئے تعلےمی سال کے دوران صبع کی شفٹ مےں منتقل ہونے کی کوشش کرتے ہےں، ذرائع کے مطابق آبادی تےزی سے بڑھی ہے لےکن اسی تناسب سے نہ تو نئے وفاقی تعلےمی اداروں کا قےام عمل مےں لاےا گےا ہے اور نہ ہی موجوداداروں مےں مزےد کمرے تعمےر کئے جا سکے ہےں، ےہ مسئلہ اسوقت تک حل نہےں ہو سکتا جب تک تعلےمی اداروں مےں گنجائش بڑھائی نہ جائے ، شہری سےکٹرز کے اداروں پر ہی ذےادہ پرےشر ہوتا ہے لہذا وہاں مزےد اےک منزلہ بلڈنگ کا اضافہ ترجےحی بناےدوں پر ہونا چاہےئے اور اس مسئلے کے حل کےلئے کوئی پالےسی تشکےل دی جانی چاہےئے۔