CPEC

31 جنوری 2018

کچھ عرصہ پہلے یونیورسٹی آف پشاور میں قائم چائنا سٹڈی سنٹر میں ایک سیمینار کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مقررین کا زیادہ زور اس پر تھا کہ CPEC پاکستان کیلئے نعمت غیر مترقبہ ہے جس سے ہمہ جہت ترقی کے ساتھ ساتھ لاکھوں کی تعداد میں نوکریاں بھی نکلیں گی جن میں 60ہزار کے لگ بھگ تووائیٹ کالر جابز ہونگی جس کیلئے چینی زبان ضروری ہو گی تاکہ چینی باسز کے ساتھ مکالمہ میں آسانی رہے۔ سامعین میں سے کسی نے کہا کہ یہ پابندی پاکستانیوں کیلئے ہی کیوں؟ چینی بھی تو اردو سیکھ سکتے ہیں۔ خلق خدا کا ایسٹ انڈیا کمپنی والا وسوسہ کہیں درست ہی تو نہیں؟ برطانوی کاروباری بھی قلیل تعداد میں آئے تھے اور اہل ہند کو اپنی زبان اور تہذیب وتمدن کے علاوہ بھی بہت کچھ دے گئے۔