وفاقی حکومت صوبہ کے پی کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے :عمران خان

31 جنوری 2018 (18:02)

چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان نے وفاقی حکومت پر الزام لگایا کہ وہ صوبہ کے پی کے کے ترقیاتی منصوبوں میں رکاوٹ ڈال رہی ہے جبکہ صوبہ پنجاب کو ایک دن میں منصوبوں کی اجازت مل جاتی ہے، صوبہ کے پی کے میں صاف اور سستی بجلی پیدا کررہے ہیں، 74 میگا واٹ بجلی موجود ہے مگر وفاق خرید نہیں رہی ہے،،پنجاب میں کوئلے اورایل این جی پاور پلانٹوں کی وجہ سے انسانی صحت کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔ ان خیالات کا اظہارچیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے وزیراعلیٰ کے پی پرویز خٹک اور صوبائی وزیر عاطف خان کے ہمراہ پختونخوا ہائوس میں روسی کمپنی کے ساتھ معاہدے کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ میڈیا سے وزیراعلیٰ پرویز خٹک اور عاطف خان نے بھی گفتگو کی۔پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے کہ پہلی مرتبہ ایک روسی کمپنی کے ساتھ آئل ریفانری کے لیے 35 ارب روپے کا معاہدہ ہوا ہے پہلے جو بھی معاہدے ہو ئے ہیں وہ چین کی کمپنیوں کے ساتھ ہوئے ہیں۔صوبہ کے پی کے میں چار ہزار میگا واٹ بجلی بنانے کے لیے معاہدے ہوئے ہیں 74 میگا واٹ بجلی تیارہے مگر وفاقی حکومت بجلی خرید نہیں رہی ہے، پاکستان نے جب ترقی کی تو اس کی وجہ سستی پن بجلی تھی، مہنگی بجلی ہماری ترقی میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے جس کی وجہ سے ہمارے درآمدات اور برآمدات میں بہت زیادہ فرق ہے، وفاقی حکومت کوئلہ اور ایل این جی کے پاور پلانٹ لگا رہی ہے ،،پن بجلی سے پاکستان نے ترقی کی ہے مگر اب حکومت پن بجلی میں رکاوٹ بن رہی ہے، موجودہ حکمران کس قسم کے پاکستانی ہیں جو ملک کو مقروض بنا رہے ہیں، ملک میں کوئلہ اور ایل این جی پلانٹ لگانے کا واحد مقصد کرپشن کے ذریعے پیسہ بنانا ہے ۔انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مستقبل میں سب سے بڑا مسئلہ آلودگی کا ہے اور جنوبی پنجاب میں ان پاور پلانٹوں کی وجہ سے انسانی صحت کو سنگین خطرہ لاحق ہے، وفاقی حکومت پنجاب کے منصوبوں کو فوراً اجازت دے دیتی ہے مگر کے پی کے کے ترقیاتی منصوبوں کی اجازت نہیں دیتی ہے۔صوبہ کے پی کے 74 میگا واٹ بجلی تیار ہے مگر وفاق خرید نہیں رہی اور شہباز شریف دعوی کرتے ہیں کہ ایک میگا واٹ بجلی صوبہ کے پی کے نے نہیں بنائی ہے ۔صوبہ خیبرپختونخواکے وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے کہا کہ روسی کمپنی کے ساتھ معاہدہ ہوا ہے جس کے تحت وہ 20 ہزار گیلن تیل کوصاف کریں گے جبکہ اس سے پہلے ایف ڈبلیو او کے ساتھ چالیس ہزار تیل کو صاف کرنے کا معاہدہ ہو چکا ہے ،صوبہ کے پی کے میں چار ہزار میگا واٹ کے منصوبوں پر کام جاری ہے جبکہ 74 میگا واٹ بجلی تیار ہے اور وفاق اس کا ریٹ نہیں دے رہا ہے ،وفاقی حکومت کوئلہ سے مہنگی بجلی پیدا کررہی ہے جبکہ ہم صاف اور سستی بجلی بنا رہے ہیں ،وفاقی حکومت اس لیے ایل این جی اور کوئلہ سے بجلی تیار کررہے ہیں کہ اس میں کمیشن ہوتا ہے روسی کمپنی کے ساتھ معاہدے میں منافع کا دس فیصد صوبہ کو ملے گا اگر ہم کمیشن لیتے تو اس طرح کا معاہدہ نہ کرتے سستی بجلی میں وفاقی حکومت رکاوٹ ہے۔ صوبائی وزیر عاطف خان نے کہا کہ وفاقی حکومت کو سستی بجلی دے رہے ہیں مگر اس کی قیمت وہ بہت کم دے رہا ہے جبکہ ہم کہہ رہے ہیں کہ پرائیویٹ کمپنیوں کو جو ریٹ دیا ہے اس سے کم کریں مگر اتنا کم بھی نہیں جتنا آپ نے ریٹ دیئے ہیں ،اگر پرائیویٹ سے 13 روپے فی یونٹ خریدتے ہیں تو ہم سے چار روپے میں خرید لیں۔