تاحیات نااہلی کو سپریم کورٹ نہیں صرف پارلیمنٹ ختم کرسکتی ہے: اعتزاز احسن

31 جنوری 2018 (17:56)
تاحیات نااہلی کو سپریم کورٹ نہیں صرف پارلیمنٹ ختم کرسکتی ہے: اعتزاز احسن

پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سینیٹر اعتزاز احسن نے کہا ہے کہ تاحیات نااہلی کو سپریم کورٹ نہیں صرف پارلیمنٹ ہی ختم کرسکتی ہے، اسفند یارولی کیس میں 14 ججوں کا فیصلہ اس کی عدالتی نظیرہے، اس کیس میں سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کوتجویزکیا کہ نیب کے تحت نااہلی مدت 21 سال سے 10 سال کی جائے اورپارلیمنٹ نے اسے 10 سال کیا، کیا اب بھی سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو رائے دے سکتی ہے۔ بدھ کو سینیٹر چوہدری اعتزاز احسن نے نوازشریف کی نااہلی کی مدت کے معاملے پر اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ(ن)اورمریم گروپ کی کوشش ہے کہ عدالت پراتنا دباو ڈالو کہ ان کے حق میں فیصلہ آئے، حدیبیہ اور اورنج ٹرین فیصلوں کے بعد ان کے حوصلے مزید بڑھ گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے بعد ان کے چھوٹے چھوٹے ساتھی بھی عدلیہ پر براہ راست حملے کررہے ہیں، طلال چوہدری نے بھی کہا کہ یہ پی سی اوججزہیں، طلال چوہدری ان ججزکوپی سی او قرار دے کر ہٹانے تک کی بات کررہے ہیں۔سینیٹر اعتزازاحسن نے مزید کہا کہ دبا وکا مقصد نااہلی کی میعاد کو انتہائی کم کروانا ہے، (ن)لیگ نا اہلی کی مدت کا معاملہ موجودہ اسمبلی تک لانا چاہتی ہے اور یہ چاہتے ہیں موجودہ اسمبلی کے ساتھ ہی نااہلی بھی ختم ہوجائے۔ تاحیات نا اہلی کوسپریم کورٹ نہیں صرف پارلیمنٹ ہی ختم کرسکتی ہے، اسفند یارولی کیس میں 14 ججوں کا فیصلہ اس کی عدالتی نظیرہے، اس کیس میں سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کوتجویزکیا کہ نیب کے تحت نااہلی مدت 21 سال سے 10 سال کی جائے اورپارلیمنٹ نے اسے 10 سال کیا، کیا اب بھی سپریم کورٹ پارلیمنٹ کو رائے دے سکتی ہے۔