نقیب اللہ کیس: 2چشم دید گواہان نے تین پولیس اہلکاروں کو شناخت کرلیا

31 جنوری 2018 (16:50)

نقیب اللہ محسود قتل کیس میں گرفتار 3 پولیس اہلکاروں کو واقعے کے 2 چشم دید گواہوں نے جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کے روبرو شناخت کرلیا۔بدھ کو جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر کے روبرو نقیب اللہ محسود قتل کیس میں گرفتار 3 پولیس اہلکاروں محمد اقبال، ارشد علی اور اللہ یار کو پیش کیا گیا، واقعے کے 2 چشم دید گواہ قاسم اور حضرت علی بھی پیش ہوئے۔عدالت کے روبرو تینوں پولیس اہلکاروں کو الگ الگ شناخت پریڈ کے لیے 9 ڈمیز کے ہمراہ پیش کیا گیا، فاضل مجسٹریٹ کے روبرو پولیس نے سب سے پہلے کانسٹیبل محمد اقبال کو پیش کیا۔چشم دید گواہوں نے کانسٹیبل محمد اقبال کو شناخت کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ پولیس اہلکار 3 جنوری کو اس موبائل کے ہمراہ سادہ لباس میں موجود تھا جس میں انہیں حراست میں لیا گیا تھا،فاضل مجسٹریٹ نے ملزم پولیس اہلکار سے استفسار کیا کہ آپ کو شناخت پریڈ پر کوئی اعتراض تو نہیں۔ملزم نے عدالتی استفسار پر جواب دیا کہ انہیں شناخت پریڈ پر اعتراض تو نہیں تاہم وہ اس دن جنرل ڈیوٹی پر تھے۔پہلے ملزم کی شناخت پریڈ مکمل ہونے پر پولیس نے مقدمے میں گرفتار دوسرے پولیس اہلکار ہیڈکانسٹیبل ارشد علی کو فاضل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا، دونوں عینی شاہدین نے ملزم ارشد علی کو بھی شناخت کرتے ہوئے بیان دیا کہ ملزم اس موبائل میں موجود تھا جس میں ہمیں ہوٹل سے سچل چوکی منتقل کیا گیا۔دوران کارروائی ملزم پولیس اہلکار نے اعتراض اٹھایا کہ تھانے سے لاتے وقت گواہوں کو میرے کپڑے دکھائے گئے، ملزم کے اعتراض پر فاضل مجسٹریٹ نے ان سے استفسار کیا کہ کیا آپ کپڑے تبدیل کرنا چاہتے ہیں، عدالتی احکامات پر ملزم کے کپڑے بھی تبدیل کرائے گئے۔دوسرے ملزم کی شناخت پریڈ کا عمل ہونے پر تیسرے ملزم اے ایس آئی اللہ یار کو شناخت پریڈ کے لیے پیش کیا گیا، فاضل مجسٹریٹ کے روبرو دونون عینی شاہدین نے ملزم اللہ یار کو شناخت کرتے ہوئے مقف اپنایا کہ ملزم نے 3 جنوری کو سادہ لباس اہلکاروں کے ہمراہ انہیں شیر آغا ہوٹل سے حراست میں لیا تھا۔