بدعنوانی کے خلاف گرفتاریوں سے 106 بلین ڈالر قومی خزانے میں آئے:سعودی اٹارنی جنرل

31 جنوری 2018 (15:19)

سعودی عرب کے اٹارنی جنرل شیخ سعود المعجب نے کہا ہے کہ انسداد بدعنوانی مہم میں 437 افراد کو گرفتار کیا گیا تھا جن میں سے 381 کو سمجھوتے کے بعد رہا کر دیا گیا ہے۔بدعنوانی کے خلاف گرفتاریوں سے 106 بلین ڈالر قومی خزانے میں آئے ہیں۔غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایک بیان میں سعودی ٹارنی جنرل نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق گرفتار افراد کے ساتھ سمجھوتوں میں 106 بلین ڈالر قومی خزانے میں اثاثہ جات بشمول جائیداد، کمرشل کمپنیوں، سکیورٹیوز، نقدی کی صورت میں آئے ہیں۔بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ بدعنوانی کے الزام میں گرفتار افراد کے کیسز کا ریویو مکمل کر لیا گیا جس کے تحت ان سے مذاکرات اور سمجھوتے ہوئے۔ اس ریویو کے بعد فیصلہ کیا گیا ہے کہ ان تمام افراد کو رہا کر دیا جائے جن کے خلاف ناکافی ثبوت ہیں۔ریویو میں یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ جن افراد نے بدعنوانی کا اعتراف کرتے ہوئے حکومت کے ساتھ سمجھوتہ کیا ہے ان کو بھی رہا کیا جائے گا۔بیان میں کہا گیا ہے کہ 56 افراد کو حراست میں رکھا جائے گا کیونکہ حکومت نے ان کے ساتھ سمجھوتہ کرنے سے انکار کیا کیونکہ ان کے خلاف دیگر مقدمات بھی تھے۔درجنوں شہزادے، اعلی حکام اور بڑی کارروباری شخصیات بشمول کابینہ کے کئی اراکین اور ارب پتی لوگ اس وقت کرپشن کو ختم کرنے کے نام پر شروع کی گئی مہم کے تحت حراست میں تھے۔بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے خیال میں اس مہم کا اصل مقصد شہزادہ محمد بن سلمان کی تخت تک پہنچنے کی راہ کو ہموار کیا جانا بھی ہے۔زیر حراست ارب پتی شہزادوں میں پرنس ولید بن طلال بھی تھے جن کے مغربی ممالک اور امریکہ کی بڑی بڑی کمپنیوں میں حصص ہیں۔رٹز کارلٹن ہوٹل کی انتظامیہ نے اعلان کیا ہے کہ 14 فروری سے ہوٹل کو عوام کے لیے دوبارہ کھول دیا جائے گا۔یاد رہے کہ بدعنوانی کی مہم کے پیچھے سعودی ولی عہد محمد بن سلمان ہیں اور کہا جاتا ہے کہ انھوں نے ذاتی طور پر رٹز کارلٹن میں ہونے والے سمجھوتوں میں دلچسپی لی ہے۔