سپریم کورٹ :نواز شریف کے وکیل کو آرٹیکل 62 ون ایف میں دلائل کی تیاری کے لئے تین روز کی مہلت

31 جنوری 2018 (11:55)
 سپریم کورٹ :نواز شریف کے وکیل کو آرٹیکل 62 ون ایف میں دلائل کی تیاری کے لئے تین روز کی مہلت

چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں عدالت عظمیٰ کے پانچ رکنی لارجر بینچ نے سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ کو آرٹیکل 62 ون ایف میں رکن اسمبلی کی نااہلی کی مدت طے کرنے کے حوالے سے کیس میں دلائل دینے کے لئے تیاری کے لئے تین روز کی مہلت دے دی۔ روز نوازشریف کے وکیل سپریم کورٹ کے پانچ رکنی لارجر بینچ کے سامنے پیش ہوئے۔ اس موقع پر (ن) لیگ کے چیئرمین راجہ محمد ظفر الحق، وفاقی وزراء خواجہ محمد سعد رفیق، سینیٹر مشاہد اللہ خان اور سینیٹر پرویز رشید اور سینئر ڈاکٹرز آصف سعید کرمانی بھی عدالت میں موجود تھے۔ دوران سماعت نوازشریف کے وکیل اعظم نذیر تارڑ نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کی تیاری کے لئے تین دن کا وقت دے دیا جائے۔ عدالت نے اعظم نذیر تارر کی استدعا منظور کر لی۔ اعظم نذیر تارڑ کا کہنا تھا کہ عام لوگ بھی اس کارروائی کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ اس پر چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا کہنا تھا کہ پبلک نوٹس ان لوگوں کے لئے تھا جو متاثرہ تھے اور اسی مقصد کے لئے جاری کیا گیا تھا کہ جو لوگ متاثر ہوئے ہیں وہ آ کر اپنا موقف پیش کریں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ جو لوگ متاثر ہیں وہ اپنا ایک مشترکہ وکیل مقرر کر لیں جو یہاں پر ان کی جانب سے دلائل دے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ 62 ون ایف کے مقدمہ میں مدت کا تعین کرنا چاہتے ہیں۔