مبینہ پولیس مقابلے میں نوجوان جاں بحق‘ ورثا کا لاش رکھ کر احتجاج

31 جنوری 2018

بورے والا(نامہ نگار) بورے والا کے نواحی گائوں132ای بی کے محنت کش محمد نور کے 30سالہ بیٹے بابر ظہیر کو گزشتہ روز رینالہ خورد پولیس نے ایک مبینہ مقابلے کے دوران ہلاک کر دیا تھا پولیس کا الزام تھا کہ وہ مختلف سنگین مقدمات میں ملوث تھا اور وہ اپنے ایک ساتھی کے ہمراہ پولیس کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے مارا گیا جب مقابلے میں ہلاک کیے گئے بابر ظہیر کی نعش اُنکے گائوں پہنچی تو کہرام برپا ہو گیا اس مبینہ پولیس مقابلے کے خلاف اُسکے ورثاء نے اہل علاقہ کے ہمراہ نعش رکھ کر احتجاجی مظاہرہ کیا مظاہرے میں شریک بابر ظہیر کے والد محنت کش محمد نور نے بتایا کہ اُسکا بیٹا اپنے سسرال رینالہ خورد میں شوارمے اور سموسے کا کام کرتا تھا اور اُسے چھ روز قبل پولیس تھانہ سٹی رینالہ نے وہاں سے گرفتار کیا اور نامعلوم مقام پر لے جا کر اُس پر تشدد کرتے رہے تین روز قبل رینالہ پولیس اُسے ہمارے ملحقہ گائوں120ای بی میں لے کر پھرتی رہی اور وہاں سے ایک نوجوان سے پستول برآمد کرکے مقامی بااثر لوگوں کی مداخلت پر اُسے چھوڑ دیا جبکہ گذشتہ روز انہوں نے جعلی پولیس مقابلہ بنا کر اُسے سر میں گولی مار کر ہلاک کر دیا لیکن بابر ظہیر کے جسم پر تشدد کے نشانات کے علاوہ اُسکا ایک بازو بھی ٹوٹا ہو اہے جسے پولیس نے دوران تشدد ہلاک ہونے کے بعد پولیس مقابلہ بنا کر اُسکے سر میں گولی مار دی پولیس نے سراسر ظلم کیا ہے ہمارے بیٹے نے آج تک کوئی ایسا جرم نہیں کیا اور نہ ہی اُسکے خلاف کوئی مقدمہ تھا اب پولیس نے اپنی طرف سے اُسکے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد مقدمات ڈال کر اُسے خطرناک ملزم ظاہر کر دیا ہے اہل علاقہ کے مطابق بابر ظہیر شریف لڑکا تھا اور اُس نے کبھی کسی سے کوئی جھگڑا نہ کیا اُسکے دو معصوم بچے ہیں جنہیں وہ محنت مزدوری کرکے پال رہا تھا ‘ بابر ظہیر کے والد،والدہ اور بیوہ نے الزام عائد کیا ہے کہ اُسے بے گناہ قتل کیا گیا ہے اور وہ پورے گھر کا واحد کفیل تھا چیف جسٹس آف سپریم کورٹ سے اس جعلی پولیس مقابلے کا ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے اس سلسلہ میں ایس ایچ او تھانہ سٹی رینالہ خورد آفتاب سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ مقابلہ ٹھیک ہوا ہے اگر کسی کو انصاف چاہئے تو عدالتیں موجود ہیں وہ عدالتوں سے رجوع کر لیں اس کے علاوہ میں کچھ نہیں بتا سکتا۔