پولیس تشدد کے ملزموں پر مہربان‘ دندناتے پھرنے لگے‘ متاثرین کی خودکشی کی دھمکی

31 جنوری 2018

وہاڑی (خبر نگار) فو زیہ بی بی نے شوہر کا شف، سسر بہادر شاہ، دیور راشد اور بچوں کے ہمراہ ڈی پی او آفس کے سامنے احتجاج کرتے ہوئے بتایا کہ تھانہ لڈن پو لیس مخالفین سے سازباز ہو کر مقدمات کے نامزد ملزمان کی محافظ جبکہ ہماری جان کی دشمن بن چکی ہے۔ میری انگلی توڑنے، خاوند، سسر اور دیور کو تشدد کا نشانہ بنا نے والے ملزمان اقبال شاہ، سرور شاہ، فریاد، انیس اور جنید شاہ کو عدالت عالیہ سے ضمانتیں خارج ہونے کے با جوود گرفتار نہیں کیا جا رہا حالانکہ ملزمان سرعام دندناتے پھر رہے ہیں۔ دونوں مقدمات کی تفتیش کے دوران ایس ایچ صادق بلو چ ہماری کوئی بات نہیں سنتا اور صلح کیلئے مجبور کر رہا ہے کیو نکہ اُس نے ملزمان سے بھاری رشوت وصول کر رکھی ہے۔ فوزیہ نے کہا کہ یہ کہاں کا انصاف ہے کہ گائوں کے بااثر افراد سیاسی پشت پناہی پر غریبوں کی تو زندگی اجیرن بنا دیں اور تھانہ میں بھی انکی سننے کی بجائے ملزمان کی سپورٹ کی جائے۔ ڈی پی او اور آر پی او نوٹس لے کر پولیس کی یکطرفہ کہانی سننے کی بجا ئے اُنکے موقف کے مطابق مقدمہ کی تفتیش کی جائے تاکہ ملزمان کی غنڈہ گردی کا خا تمہ ہو سکے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اُنکے ساتھ انصاف کیا جائے ورنہ وہ خاندان کے ہمراہ ڈی پی او آفس کے سامنے اجتماعی خودکشی کرلے گی جس کی ذمہ داری مخالفین اور ایس ایچ او لڈن پر عائد ہوگی۔