فورسز پر حملے تیز: ٹرمپ: کا خصوصی 1000 کمانڈوز کی افغانستان تعیناتی پر غور

31 جنوری 2018

واشنگٹن (آن لائن) افغانستان میں مقامی سکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں کی تازہ لہر کے بعد امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے فسٹ سکیورٹی فورس اسسٹنس بریگیڈ (ایس ایف اے بی) کے 1 ہزار اہلکاروں کو افغانستان میں شرپسندوں سے نمٹنے کے لیے تعیناتی سے متعلق سنجیدگی سے غور شروع کر دیا ہے جبکہ آئندہ چند روز میں حتمی فیصلے کا اعلان بھی متوقع ہے۔امریکی میڈیا رپورٹ کے مطابق افغانستان کے دارالحکومت کابل میں یکے بعد دیگر حملوں کی وجہ سے ٹرمپ انتظامیہ نے (ایس ایف اے بی) کی خصوصی ٹرنینگ کے دوراینے میں ‘غیرمعمولی کمی’ کردی ہے۔ منگل کو ایس ایف اے بی فورس کے کمانڈر کرنل سکوٹ جیکسن نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایس ایف اے بی کی انتہائی حساس ٹریننگ امریکی شہر لوزیانہ میں جاری ہے لیکن افغانستان میں موجودہ حالات کے تناظر میں ان کی ٹریننگ میں 6 مہینے کی تخفیف کردی گئی ہے تاکہ انہیں افغانستان تعینات کیا جا سکے‘جب جلد بازی یا تیزی برتی جائے تو معیار پر فرق پڑتا ہے۔ پینٹاگون نے افغانستان، عراق اور دیگر ممالک میں سیکیورٹی فورسز کے تحفظ کے لئے جدید خطوط پر استوار نئی فورس تشکیل دی ہے جو ‘تجاویز اور معاونت’ کا کردار ادا کرے گی۔ پینٹاگون سے جاری کردہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ امریکا کے عام فوجیوں پر خطیر رقم خرچ کرکے بھی ان میں پیشہ وارانہ صلاحیت پیدا نہیں کی جا سکی اس لیے بہترین فورس کی تشکیل وقت کی انتہائی ضرورت ہے’ایس ایف اے بی کی پہلی کھیپ رواں برس میں طالبان سے مقابلے کے لیے تعینات کی جائے گی۔واضح رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے طالبان اور القاعدہ کو شکست دینے کے لیے نئی حکمت عملی اختیار کی جس میں امریکی فوجیوں کو غیر معمولی اختیارات مل سکے جس کے تحت وہ آزادانہ فضائی اور زمینی حملے کر سکتے ہیں۔‘ایس ایف اے بی کی تعیناتی گزشتہ اہلکاروں کی تعیناتی سے بالکل مختلف ہے۔
نیو یارک (بی بی سی + آن لائن) مریکی خفیہ ادارے ’سی آئی اے‘ کے سربراہ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ چین کی امریکہ اور مغربی ممالک میں اپنا اثر بڑھانے کی خفیہ کوششیں امریکہ کے لیے اتنی ہی پریشان کن ہیں جتنی روس کی تخریب کاری کی کوششیں۔ بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ چین مسلسل امریکی اثرو رسوخ کو کم کرنے کی کوششوں کر رہا ہے‘ بڑی شہادتیں موجود ہیں۔ چین کی طرف سے امریکہ کی کمرشل معلومات حاصل کرنے اور سکولوں اور ہسپتالوں میں گھسنے کی مسلسل کوششیں صرف امریکہ تک ہی محدود نہیں بلکہ یورپ اور برطانیہ تک پھیلی ہوئی ہیں۔ مائیک پومپیو نے کہا’روس اور چین کی معیشتوں کو دیکھیں۔ چین کا فٹ پرنٹ روس سے کہیں بڑا ہے جس پر وہ اپنے منصوبوں کو عملی جامہ پہنا سکتا ہے۔‘ ہم دیکھ سکتے ہیں کہ چین مسلسل امریکی معلومات کو چوری کرنے اور امریکہ کے خفیہ اداروں میں گھسنے کی کوششں کر رہا ہے۔ سی آئی کے سربراہ نے اس تاثر کو بھی رد کیا کہ شام کے تنازعہ میں امریکہ کا اثر و رسوخ انتہائی کم ہے جہاں روس اور ایران کے حمایت یافتہ بشار الاسد اب بھی اقتدار میں ہیں۔ مائیک پومپیو نے کہا ’ہم اس پیچیدہ مسئلے پر مزید کام کریں گے اور ہم ایران کو جہاں بھی پیچھے دھکیل سکتے ہیں دھکیل دیں گے۔‘ مائیک پومپیو نے کہا ’میں قاسم سلیمانی پر یہ واضح کرنا چاہتا تھا کہ خطے میں امریکی مفادات ہیں، یورپی مفادات ہیں، برطانوی مفادات ہیں اور اگر ان پر حملہ ہوا، تو اس کا مناسب جواب دیا جائے گا۔ انھوں نے کہا’ کہ میں ان پر بالکل واضح کرنا چاہتے تھے کہ امریکہ کے لیے یہ ناقابل قبول ہے کہ ایران امریکہ کے مفادات کو نقصان پہنچائے۔‘ سی آئی اے کے سربراہ نے کہا کہ ایران یمن میں اپنے ایک حواری کے ذریعے سعودی عرب پر میزائل داغ رہا ہے جو کسی صورت میں قابل قبول نہیں ہے اور یہ عمل 'جنگی اقدام' کے زمرے میں آتا ہے۔ جھگڑے کو بڑھنے سے روکنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایرانی عوام اپنی حکومت کی جانب سے خطے میں اور خطے سے باہر کیے جانے والے اقدامات کے نتائج سے آگاہ ہوں۔ مجھے امید ہے کہ وہ اٹھ کھڑے ہوں گے اور یہ سمجھ لیں گے کہ یہ ان کے ملک کے مفاد میں نہیں ہے کہ وہ اپنی فوج کو یورپ اور دوسری جگہ بھجیں جبکہ انھیں اپنے ملک کو ایک بہتر ملک بنانے کے لیے بہت کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ پومپیو نے روس کے بارے میں امکان کا ظاہر کیا ہے کہ وہ امریکہ کے وسط مدتی انتخابات کو ہدف بنائے گا۔ تاہم انہوں نے سی آئی اے کے ہیڈ کوارٹرز میں خبررساں ادارے سے گفتگو کے دوران کہا کہ تاحال امریکہ اور یورپ کے معاملات میں مداخلت کی روسی کوششوں میں قابل ذکر کمی کا کوئی عندیہ نہیں ملا ہے۔ وہ اب بھی روس کو بالخصوص حریف ہی تصور کرتے ہیں تاہم امریکہ کے نومبر میں منعقد ہونے والے وسط مدتی انتخابات پر خدشات کے حوالے سے ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کیوں نہیں۔ مجھے ہر طرح سے توقع ہے کہ روس اپنی کوشش جاری رکھے گا اور ایسا کرے گا لیکن مجھے یقین ہے کہ امریکہ میں اتنی صلاحیت موجود ہے کہ یہاں شفاف اور منصفانہ انتخابات ہوں اور اس قابل ذکر حد تک استعداد کوکم کر سکیں کہ اس کا ہمارے انتخابات پر اثر زیادہ نہ ہو تاہم امریکہ روس کی مداخلت کو روکنے میں مصروف ہے ۔