ٹرمپ کے بعد افغان حکومت نے بھی طالبان سے مذاکرات مسترد کر دئیے، حملے تیز کرینگے: عسکریت پسند

31 جنوری 2018

کابل/نیویارک(نیٹ نیوز) ٹرمپ کے بعد افغان حکومت نے بھی طالبان کیساتھ مذاکرات سے انکار کردیا ہے۔ اشرف غنی کے ترجمان شاہ حسین نے کہا طالبان کو شکست دینا ہوگی طالبان نے ریڈ لائن کراس کرلی اور امن کا موقع گنوا دیا، ادھر طالبان نے اپنے بیان میں کہا ہے افغانستان میں حملے تیز کردئیے جائیں گے۔ ٹرمپ اور اس کے اتحادی جنگ چاہتے ہیں تو ہم پھول نہیں پیش کرسکتے ۔اقوام متحدہ میں افغان سفیر محمود سائیکال نے الزام عائد کیا ہے کہ پاکستان میں دہشت گرد کے محفوظ ٹھکانے موجود اور عالمی برادری اس حقیقت سے آگاہ ہے۔ بھارتی خبررساں ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے رکن ممالک بھی اس حقیقت سے آگاہ ہیں کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانے موجود ہیں انہوں نے پاکسان کا نام لیے بغیر کہا کہ انکی حکومت نے بھی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو خطے میں ایک ملک کی اپنی قرار داد کی خلاف ورزیوں کے بارے میں سلامتی کونسل کو ثبوت پیش کئے ہیں اور سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے مینڈیٹ کے مطابق ملک کے خلاف اقدام کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دہشت گردوں کے محفوظ ٹھکانوں کیلئے تمام ممالک کو متحد ہونا پڑے گا ۔ افغان رکن اسمبلی ایلے ارشاد نے کہا ہے کہ ہم افغان جنگ کا سیاسی حل نکالنے کی کوشش کر رہے ہیں کیوں کہ ہم نہیں چاہتے کہ کوئی بھی فریق فوج کا استعمال کرے۔ پاکستان کی جانب سے کہا جاتا ہے کہ طالبان پاکستان میں موجود نہیں حالانکہ حقانی گروپ سمیت دیگر طالبان رہنما اب بھی پاکستان میں موجود ہیں۔ سب مسلمان اکٹھے ہو کر طالبان کا مقابلہ کریں اور پاکستان کو چاہئے کہ وہ طالبان کی پناہ گاہوں کو ختم کرے۔