قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی، ترقیات، اصلاحات کے اجلاس میں 213 منصوبوں کا جائزہ

31 جنوری 2018

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) سینٹ قائمہ کمیٹی برائے منصوبہ بندی و ترقیات اور اصلاحات کا اجلاس میں سست روی کا شکار 213منصوبہ جات کا تفصیل سے جائزہ لیا گیا۔ سیکرٹری پلاننگ نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ متعلقہ منصوبوں پر عمل درآمد کرانا متعلقہ شعبوںکی ذمہ داری تھی۔ پلاننگ ڈویژن نے فنڈز متعلقہ منصوبوں کے فراہم کردیئے تھے۔ سیکورٹی ودیگر مسائل کی وجہ سے 53.4ارب روپے 213 منصوبوں پر خر چ نہیں ہو سکے۔ جس پر چیئرمین کمیٹی نے کہا کہ بلوچستان کے حوالے سے منصوبوں پر عمل درآمد نہ ہونا تشویش ناک ہے اس سے نہ صرف صوبے بلکہ ملک کا بھی نقصان ہوا ہے۔ تاخیر کی وجہ سے قومی خزانے کو اربوں کا نقصان ہوتا ہے۔ سیکورٹی کا بہانہ بنایا جاتا ہے ۔ مواصلات ، مختلف ڈیمز ، اعلیٰ تعلیمی اداروں کی تعمیر میں تاخیر کے حوالے سے متعلقہ اداروں سے وزارت پلاننگ ڈویژن وضاحت طلب کرکے آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو پیش کرے اور قائمہ کمیٹی بھی اس حوالے سے متعلقہ اداروں کو اپنے تحفظات بارے آگاہ کرے گی۔ سیکرٹری منصوبہ بندی نے قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ بلوچستان میں سو سمال ڈیمز کی تعمیر کے حوالے سے پیکج ون میں 20ڈیمز مکمل ہوچکے ہیں ۔ پیکج ٹو کے تحت 26میں سے 24ڈیم بن چکے ہیں اور پیکج تین کے تحت 20ڈیموں پر کام جاری ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بلوچستان کی ترقی وخوش حالی کے لیے بہت سے منصوبے پی ایس ڈی پی میں رکھے گئے ہیں۔ تاکہ ان پر عمل درآمد کرکے بہتری لائی جاسکے۔ چیئرمین کمیٹی نے کہاکہ جب تک بلوچستان میں مواصلات کا نظام بہتر نہیں ہوگاگوادر پورٹ موثر فنکشنل نہیں ہوسکے گی۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ بسیمہ ، خضدار N-30پر کام جاری ہے۔ منگی ڈیم کے حوالے سے کوئی ٹھیکیدار کام پر تیار نہیں تھا۔ سینیٹر عثمان خان نے کہا کہ مسلم باغ میں یونیورسٹی کے آئی ٹی کیمپس کے لیے پی ایس ڈی پی میں کوئی فنڈز کیوں نہیں رکھے گئے ۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ گوادرمیں وزیر اعظم پاکستان کی ہدایت پر پانی کے مسئلے کے حل کے لیے اقدامات اٹھائے جارہے ہیں۔ چین کی ایک کمپنی نے جنوری سے دولاکھ گیلن پانی کی سپلائی شروع کردی ہے اور بلوچستان میں تین وومن یونیورسٹیوں پر بھی کام جاری ہے۔ کچی کنال پر بھی کام شروع ہے ۔ سینیٹر عثمان خان کاکڑ نے کہا کہ قلا ت ، کوئٹہ اور چمن روڈ کا پی سی ون تک روڈ نہیں بنایا جاسکا اور60 ملین روپے بھی خرچ نہیں کیے گئے۔ قلعہ سیف اللہ سے لورالئی 15سالا پرانامنصوبہ ہے۔ 250ملین مختص کیے گئے تھے ادارے کی نااہلی کی وجہ سے خرچ نہیں کیے گئے۔ یہ منصوبہ 49.9ارب روپے کا تھا۔ ڈی آئی خان سے مغل کوٹ منصوبے کی سست روی پر بھی تشویش کا اظہار کیا گیا۔ رکن کمیٹی سینیٹر ڈاکٹر کریم احمد خواجہ کے سوال کے جواب پر بتایا گیا کہ سمندری پھیلاؤ کو روکنے کے حوالے سے پی سی ون تیارکرلیاگیا ہے۔ آئندہ اجلاس میں کمیٹی کو آگاہ کردیا جائے گا۔ ہرنائی سے سنجاوی روڈ کی تعمیر کے حوالے سے بتایا گیا کہ ایک ہفتے پہلے پی سی ون بن گیا ہے۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے کہا کہ ژوب سے کچلاک روڈ کی فیزبلٹی بھی نہیں کرائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ لورالئی یونیورسٹی کی تعمیر کے لیے 285ملین روپے مختص کیے گئے تھے مگر خرچ نہیں کیے۔ ایچ ای سی سے وضاحت طلب کی جائے۔ کمیٹی کو بتایاگیا کہ 2011کا منصوبہ تھا اور اب تک 829ملین روپے خرچ ہو چکے ہیں۔