یمن میں القاعدہ کا خوکش حملہ، 14 فوجی ہلاک: علحدگی پسندوں نے صدارتی محل کا گھیراؤ کر لیا

31 جنوری 2018

صنعاء (این این آئی + اے ایف پی) یمن میں شبوہ صوبے کے شہر عتق میں ایک چوکی کو خود کش کار بم حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے نتیجے میں شبوہ کے ایک سکیورٹی مرکز میں ایلیٹ فورس کے 14 اہلکار جاں بحق ہو گئے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق یمن میں شبوہ صوبے کے شہر عتق میں ایک سکیورٹی چیک پوائنٹ کو نشانہ بنایا گیا۔ یمنی فورسزکے مطابق مبینہ طور پر القاعدہ سے تعلق رکھنے والے مسلح ارکان نے منگل کے روز ہونے والی اس کارروائی میں بھاری آتشیں ہتھیاروں سے فائرنگ کی اور مارٹر گولوں کا بھی استعمال کیا۔ فوجی ذرائع کے مطابق عبوری دارالحکومت عدن میں علیحدگی پسندوں نے صدارتی محل کا محاصرہ کرکے مرکزی دروازے کا کنٹرول سنبھال لیا۔ ادھر سعودی اتحاد نے عدن میں لڑائی روکنے کیلئے فوری جنگ بندی کا مطالبہ کر دیا۔ ریڈ کراس کے مطابق دو روز میں لڑائی کے دوران 36 افراد مارے اور 185 زخمی ہو چکے ہیں۔ امریکی محکمہ خارجہ نے عدن میں ہونے والی مہلک جھڑپوں کی اطلاعات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہاہے کہ زیادہ مستحکم، متحد اور خوش حال یمن کے حصول کا صرف ایک ہی طریقہ ہے، اور وہ ہے سیاسی مکالمہ،غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق خاتون ترجمان، ہیدر نوئرٹ نے ایک بیان میں تمام فریق پر زور دیا کہ کشیدگی اور مزید خون خرابے سے احتراز کیا جائے۔ترجمان نے یمن کے تمام فریق کے درمیان مکالمے کا مطالبہ کیا، تاکہ سیاسی حل تک پہنچا جا سکے۔انھوں نے کہا کہ یمن کے عوام کو پہلے ہی شدید انسانی بحرانی صورت حال درپیش ہے۔ بقول ترجمان، یمن کے اندر مزید بگاڑ پیدا ہونے اور تشدد کی کارروائیوں کے نتیجے میں محض پریشانیوں میں اضافہ ہوگا۔بیان میں کہا گیا کہ زیادہ مستحکم، متحد اور خوش حال یمن کے حصول کا صرف ایک ہی طریقہ ہے اور وہ ہے سیاسی مکالمہ۔