پی آئی اے سمیت اداروں کی نجکاری روکی جائے، قائمہ کمیٹی: دانیال عزیز، سلیم مانڈوی والا میں جھڑپ

31 جنوری 2018

اسلام آباد (نامہ نگار) ایوان بالا کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری و شماریات کے اجلاس میں پی آئی اے سمیت دیگر اداروں کی نجکاری کے معاملہ پر دانیال عزیز اور سینیٹر سلیم مانڈوی والا میں جھڑپ ہوئی، کمیٹی نے حکومت کو پاکستان انٹرنیشنل ائیر لائنز (پی آئی اے) سمیت دیگر اداروں کی انتخابات تک نجکاری نہ کرنے کی ہدایت کردی۔ جبکہ وفاقی وزیر نجکاری دانیال عزیز نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پی آئی اے سمیت اداروں کی نجکاری کا عمل قانون کے تحت جاری ہے، نجکاری کا عمل روک کر قانون کی خلاف ورزی نہیں کرسکتے کمیٹی کی نجکاری کا عمل روکنے کی سفارش خلاف قانون ہوگی، وقت ضائع کریں گے تو خسارہ بڑھتا چلا جائے گا ،پی آئی اے ،ماڑی پٹرولیم، ایس ایم ای بنک اور پی آئی اے کی نجکاری کا عمل جاری ہے، پاکستان ریلوے کو نجکاری کی فہرست سے نہیں نکالا گیا ہے، سینیٹر سلیم مانڈوی والانے کہا کہ ساڑھے چار سال مکمل ہوگئے ہیں حکومت اپنی مدت پوری کر رہی ہے اب تک پی آئی اے اور دیگراداروں کی نجکاری نہیں کرسکی، آخری چار مہینے میں قومی اثاثوں کی نجکاری کا کوئی جواز نہیں ہے۔ نجکاری کا بوجھ اگلی حکومت پر آئے گا، کوئی بھی سیاسی جماعت چار ماہ کے دوران نجکاری کی حمایت نہیں کرے گی۔ اجلاس چیئرمین سینیٹر محسن عزیز کی صدارت میں ہوا۔ سیکرٹری نجکاری کمیشن عرفان الٰہی نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ اب تک 170حکومتی اداروں کی نجکاری کی جا چکی ہے۔ نجکاری کیلئے کوئی نئی پالیسی نہیں تشکیل دی جا رہی۔ وزیر برائے نجکاری دانیال عزیز نے کہا کہ چند بڑے حکومتی ادارے قومی خزانے کو بہت زیادہ نقصان پہنچا رہے ہیں۔ جن کی نجکاری کا عمل جاری ہے ۔ جنکوز اور ڈسکوز کی نجکاری کے حوالے سے مسائل ہیں۔ فیسکو اور گیپکو کی پہلے مرحلے پر نجکاری کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایئر لائنز کی نجکاری کے حوالے سے پارلیمنٹ نے دو سال قبل ایکٹ کی منظوری دی تھی جس کے تحت پی آئی اے کا ائر ٹرانسپورٹ بزنس کو علیحدہ کیا جائے گا۔ سٹیل ملز کے بقایا جات کو کلیئر کرنے کیلئے کام جاری ہے اس کے بعد سٹیل ملز کو چلانے کیلئے 30سال کی لیز پر دیا جائے گا۔ جون 2018 تک ملازمین کے بقایا جات کی ادائیگی کیلئے 12 ارب کا انتظام ہو جائے گا۔ نسرین جلیل نے کہا کہ اگر پی آئی اے اور اداروں کی نجکاری کا عمل قانون کے تحت جاری ہے تو پھر اس کو روکنا درست نہیں ہے۔ بعد ازاں اپنے بیان میں پیپلزپارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے پی آئی اے اور پاکستان سٹیل ملز کی مجوزہ نجکاری کو مسترد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی وزراء کے بیان میں تضاد ہے۔ مشیر ہوا بازی سردار مہتاب نے ایوان میں کہا کہ پی آئی اے کی نجکاری کا کوئی پروگرام نہیں مگر وزیر نجکاری کہہ رہے ہیں کہ پیسے لے آؤ اور پی آئی اے لے جاؤ۔ یہ طریقہ کار غلط ہے۔