62 ہزار افراد کیلئے ایک جج‘ مقدمات نسل در نسل چلتے ہیں: چیف جسٹس ہائیکورٹ

31 جنوری 2018

راولپنڈی (نمائندہ خصوصی) چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ سید منصور علی شاہ نے راولپنڈی چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا دورہ کیا اور تنازعات کے متبادل حل کے بارے میں ایک اہم اجلاس میں شرکت کی۔ اجلاس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ماتحت عدالتوں میں کیس التواء کا شکار ہیں‘ 62 ہزار افراد پر ایک جج ہے یہ ممکن ہی نہیں ہے جج دن میں ہزاروں مقدمات کا فیصلہ دے‘ آپ نے د یکھا ہو گا کہ مقدمات نسل در نسل چلتے ہیں‘ دادا کا مقدمہ پوتے تک چلتا ہے‘ راولپنڈی چیمبر میں اے ڈی آر مرکز کے قیام سے تنازعات کے جلد حل میں مدد ملے گی‘ مقدمات کے فیصلے جلد اور لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا ہوں گی۔ انہوں نے کہا کہ ایک حل تو یہ ہے ججز کی تعداد میں اضافہ کیا جائے اس بارے میں حکومت ہماری تجویز پر غور کر رہی ہے‘ انفراسٹرکچر کی ضرورت ہے‘ ہمیں تھوڑا ہٹ کے بھی سوچنا تھا‘ ہم چیزیں ٹھیک کرنے کے لئے کیا کر سکتے ہیں‘ دنیا بھر میں اے ڈی آر سی ہیں لیکن حقیقت میں ایسا چلتے ہوئے کہیں نہیں دیکھا‘ بزنس کمیونٹی کو زیادہ سمجھ ہوتی ہے تاجر کا فوکس اپنا کاروبار ہو یا وہ اپنا وقت مقدمہ بازی میں لگائے کہیں سٹے آرڈر ہوتا ہے یا بار بار پیشی بھگتنی پڑتی ہے اس کا حل یہی ہے کہ قانون کے اندر رہتے ہوئے ایسا فریم ورک بنایا جائے جس میں دونوں فریق مطمئن ہوں‘ صلح کیسے کرانا ہے اس کے لئے ہمارے عدلیہ کے اداروں میں خاص تربیت دی جاتی ہے‘ چیمبر آف کامرس اپنے نمائندے بھیج سکتی ہے جہاں وہ ثالثی کے بارے تربیتی پروگرام میں حصہ لے سکتے ہیں‘ ہم نے لاہور سے آغاز کیا تو پتہ چلا کہ چھ ماہ میں سات ہزار مقدمات کا فیصلہ کیا گیا‘ پنجاب میں 36 اضلاع میں یہ اے ڈی آر سی بنائی گئی ہیں۔