ملک میں موجود‘ پیش نہیں ہو سکتا‘ چیف جسٹس کو درخواست بھجوا رہا ہوں: رائو انوار

31 جنوری 2018

کراچی+ اسلام آباد+ پشاور (کرائم رپورٹر + وقائع نگار + اپنے سٹاف رپورٹر سے) کراچی میں جعلی پولیس مقابلے میں نقیب اللہ محسود کی ہلاکت میں ملوث سابق ایس ایس پی ملیر رائو انوار کی گرفتاری کیلئے سپریم کورٹ کی جانب سے دی گئی 72 گھنٹے کی مہلت ختم ہو گئی‘ تاہم پولیس رائو انوار کو تلاش کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکی۔ آن لائن کے مطابق رائو انوار کے خیبر پی کے میں نہ ہونے کے بارے میں رپورٹ سندھ حکومت کو دیدی ہے۔ اسلام آباد سے اپنے سٹاف رپورٹر کے مطابق سندھ پولیس رائو انوار کی تلاش میں اسلام آباد میں ان کی رہائش گاہ پہنچ گئی۔ معطل ایس ایس پی سیکٹر ایف ٹین فور میں واقع اپنے گھر پر نہ ملے۔ چوکیدار موجود تھا جس نے بتایا اس گھر میں میرے علاوہ کوئی نہیں جس کے بعد سندھ پولیس نے معطل ایس ایس پی کے گھر کے باہر ان کی تصویر پر مبنی نوٹس لگایا۔ کراچی سے وقائع نگار کے مطابق رائو انوار نے کہا پاکستان میں ہی ہوں‘ کہیں نہیں بھاگا۔ کوئی کہتا ہے میں بلاول ہائوس میں ہوں۔ یہ غلط ہے۔ میرے آصف زرداری سے ایسے مراسم نہیں۔ اسلام آباد والی رہائش میری نہیں‘ عرصہ ہوا بیچ چکا۔ ملک ریاض کا طیارہ دیکھا تک نہیں۔ بلاوجہ کی باتیں اڑائی جا رہی ہیں۔ نجی ٹی وی چینل نے دعویٰ کیا رائو انوار نے کہا شناختی کارڈ پر گھر کا ایڈریس سکیورٹی وجوہات کی بنیاد پر تبدیل نہیں کرایا۔ موجودہ حالات میں پیش نہیں ہو سکتا۔ انصاف کیلئے چیف جسٹس پاکستان کو درخواست بھیج رہا ہوں۔ میری ایک تنخواہ ہے۔ میرے پاس تو سائیکل بھی نہیں۔ انکم ٹیکس کہاں سے دوں گا۔ ہر ماہ کی 9 یا 10 تاریخ کو اپنی تنخواہ نکال لیتا ہوں۔ صرف ایک اکائونٹ وہ بھی سرکاری بنک میں ہے جس میں تنخواہ آتی ہے۔ آصف زرداری نے کبھی مجھے کوئی غلط کام نہیں کہا۔ 1995ء کے آپریشن میں اچھا کام کیا۔ اس لئے زرداری عزت کرتے ہیں۔ صباح نیوز کے مطابق وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ بھی رائو انوار کے ٹھکانے سے لاعلم نکلے۔ کراچی میں میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہا رائو انوار کی گرفتاری کیلئے امید ہے سب ادارے مل کر کام کریں گے۔ ایک بیان میں ملک ریاض حسین چیئرمین بحریہ ٹائون نے رائو انوار کی بحریہ ٹائون کے طیارے میں بیرون ملک فرار کی بے بنیاد افواہوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے مکمل تردید کی ہے۔ اپنے ویڈیو پیغام میں ملک ریاض حسین چیئرمین بحریہ ٹائون نے کہا کہ نقیب اللہ ان کے بیٹوں کی طرح تھا اور وہ دکھ کی اس گھڑی میں نقیب اللہ کے والدین اور بہن بھائیوں کے غم میں برابر کے شریک ہیں۔ رائو انوار کے بیرون ملک فرار سے متعلق افواہوں کے بارے میں اپنے تردیدی پیغام میں ملک ریاض حسین نے کہا بحریہ ٹائون کے پاس ذاتی طیارے قریب عرصہ آٹھ سال سے ہیں اور ان آٹھ برسوں میں رائو انوار نے کبھی بھی بحریہ ٹائون کے کسی بھی طیارے میں سفر نہیں کیا نہ تو کبھی قانون شکنوں کا ساتھ دیا اور نہ کبھی ایسا کرنے کا سوچ بھی سکتا ہوں۔ آن لائن کے مطابق رائو انوار کی ٹیم کے ہاتھوں مارے گئے قاری محمد اسحاق کی فیملی بھی کراچی پہنچ گئی۔ مزید براں جوڈیشل مجسٹریٹ ملیر میں نقیب اللہ محسود قتل کیس کی سماعت ہوئی۔ عدالت میں تفتیشی افسر نے رائو انوار کے ساتھیوں کی شناخت پریڈ کیلئے درخواست دائر کی‘ تاہم عدالت میں گواہوں کے پہنچنے میں تاخیر کے سبب تفتیشی افسر نے مزید وقت دینے کی استدعا کی۔ عدالت نے مہلت کو منظور کرتے ہوئے مزید سماعت ملتوی کر دی۔ شاہ لطیف ٹائون میں جعلی مقابلے میں ہلاک تینوں افراد کی تفصیلات جاری کر دی گئیں، ہلاک افراد کی تفصیلات سابق ایس ایس پی ملیر راؤ انوار نے جاری کیں راؤ انوار نے دعویٰ کیا محمد اسحاق نے 1997ء میں کالعدم لشکر جھنگوی میں شمولیت اختیار کی۔ بس حملے میں بھی سہولت کار تھا۔ دوسر شخص قاری محمد صابر نے 1995ء میں کالعدم لشکر جھنگوی میں شمولیت اختیار کی محمد صابر اور ساتھیوں نے کورنگی میں مولوی محمد شریف کو قتل کیا تیسرا شخص نذر محمد عرف شاہد نے 2011ء اور 2012ء میں مہران شاہ میں اسلحہ کی تربیت حاصل کی اس کے کالعدم ٹی ٹی پی کمانڈر حکیم اللہ محسود سے تعلقات تھے۔