سی پیک پر تنازعات کا حل چاہتے ہیں :جسٹس ثاقب تمام چیف جسٹس صاحبان کو آئندہ ہفتے بلالیا

31 جنوری 2018

اسلام آباد (اے پی پی + این این آئی + صباح نیوز) سپریم کورٹ نے ضلع جہلم میں واقع کٹاس راج مندر کے حوالے سے از خود نوٹس کیس میں کٹاس راج مندر کے پانی کے استعمال کے حوالے سے رپورٹ کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے پنجاب حکومت پر ایک لاکھ جرمانہ عائد کردیا۔ چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ ایڈیشل ایڈووکیٹ جنرل پنجاب نے عدالت کو کٹاس راج مندر کے تالاب میں پانی کے حوالے سے رپورٹ پیش کی، جس کا جائزہ لینے کے بعد چیف جسٹس نے رپورٹ کو غیرتسلی بخش قرار دیتے ہوئے کہاکہ پانی کے معاملے پر پنجاب نے جو رپور ٹ پیش کی ہے وہ درست نہیں، چیف جسٹس نے کہاکہ کٹاس راج کا تالاب اور مندر دونوں بحال ہونے چاہئیں، سوال یہ ہے کہ جب کٹاس راج کے تالاب کا پانی فیکٹریوں کی وجہ سے کم ہورہا ہے تو فیکٹریاں پانی کے لیے دوسرا بندوبست کریں، کیونکہ سیمنٹ فیکٹریوں کی وجہ سے پانی کی کمی کے ساتھ آلودگی بھی پھیل رہی ہے اور ہم چاہتے ہیں کہ یہ مسائل حل ہوں۔ چیف جسٹس نے کہاکہ سی پیک پاکستان کیلئے انتہائی اہم منصوبہ ہے، ہم چاہتے ہیں کہ سی پیک منصوبے سے متعلق تمام تنازعات حل ہوں۔ عدالت عظمیٰ نے پنجاب میں لائم سٹون کی ایکسپورٹ کے حوالے سے جواب طلب کرتے ہوئے چیئرمین متروکہ وقف املاک صدیق الفاروق کا مکمل ریکارڈ آج پیش کرنے کی ہدایت کردی۔ چیف جسٹس نے کہا ہے کہ سی پیک تنازعات کے حل کیلئے تمام ہائیکورٹس کے چیف جسٹس صاحبان کا اجلاس بلایا ہے جو آئندہ ہفتے کے روز ہوگا جس میں پالیسی طے کرینگے کہ سی پیک تنازعات کو کیسے حل کرنا ہے۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ صدیق الفاروق نے کتنا عرصہ مسلم لیگ (ن) کے دفتر میں کام کیا۔ کتنا عرصہ اے پی پی میں کام کرتے رہے؟ یہ متروکہ وقف املاک بورڈ کے چیئرمین کیسے رہ سکتے ہیں۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ یہ تقرری سیاسی اقرباپروری پر ہوئی ہے۔ وزیراعظم کی منشا سے یہ کب تک بطور چیئرمین بیٹھے رہیں گے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ حکام کو یہ بتا دوں مفاد عامہ اور بنیادی حقوق کے معاملات نمٹا کر جائونگا، چیف جسٹس نے کہاکہ صدیق الفاروق بطور چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ کیسے بیٹھے ہیں، ان کے عہدے کی میعاد ختم ہوچکی ہے۔ سیمنٹ فیکٹریاں پہاڑ کھود رہی ہیں تاہم ملکی ضرورت اور سی پیک کو بھی دیکھنا ہے ہم صنعتی ترقی میں مداخلت نہیں کرنا چاہتے لیکن یہ نہیں ہونا چاہئے کہ فیکٹریاں ماحولیاتی مسائل پیدا کریں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ بنیادی حقوق کو یقینی بنانا پنجاب حکومت کی ذمہ داری ہے۔ چیف جسٹس کا کہنا تھا کہ پنجاب میں سب اچھا ہوتا نظر نہیں آ رہا، پنجاب کو اپنا گھر بھی دیکھنا چاہئے، لوگ بنیادی حقوق کے لئے عدالتوں میں آ رہے ہیں۔