سالانہ امتحان کی تیاری میں بچوں کی مصروفیت ایک قدم اور

31 جنوری 2018

تاریخ شاید ہے کہ قوموں کے عروج و زوال میں تعلیم نے بڑا اہم کردار ادا کیا۔ یہ امر طے شدہ ہے کہ سائنسی علوم ہی قوموں اور ملکوں کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتی ہے اور یہی علوم آج بھی قوموں کی ترقی اور خوشخالی کی ضامن ہیں اور آئندہ بھی رہیں گے۔ دنیا میں سب سے زیادہ ترقی بیسوی صدی میں ہوئی اس کی وجہ یہ ہے کہ اس صدی میں سائنس کی ترقی میںاہم ایجادات ہوئیں بیل گاڑیوں اور گھوڑے گاڑیوں میں سفر کرنے والے انسان ہوائوں کے دوش پر آڑنے لگے،یہ ترقی تعلیم کی وجہ سے ہوئی، آج کا انسان چاند تک پہنچ گیااور برسوں کے کام مہینوں ،گھنٹوں کے کام منٹوں اور منٹوں کے کام سیکنڈوں میں ہونے لگے جبکہ کمپیوٹر کی ایجاد نے بھی تہلکہ مچا دیا،اس کی وجہ بھی تعلیم ہے۔آج جو بھی کام اتنی جلدی ہونے لگا ہے ماضی میں اس کا تصور بھی نہ تھا۔ یہ سب تعلیم بلکہ سائنس کے کمالات ہیں۔ سائنس کی ترقی بنی نوع انسان کے لئے بہت سی سہولتیں اور فوائد لائی ہے۔ آج کا انسان گزشتہ زمانہ کے مقابلہ میں زیادہ اسودہ خوش اور مطمئن نظر آتا ہے۔ آج کا انسان اپنے چھوٹے سے گھر میں پوری دنیا کے ساتھ رہتا ہے کمپیوٹر کابٹن دبانے سے یہ معلوم کرنا مشکل نہیں کہ دُنیا میں کیا ہو رہا ہے یعنی وہ اردگرد کے ماحول سے باخبر ہے ۔دُنیا میں بہت سے لوگوں نے مقام حاصل کیا ، نام کمایا اور اپنے ملک وقوم کا سر فخر سے بلند کیا، یقیناً یہ سب کچھ تعلیم کی بدولت ہوا۔اس وقت ملک جہاں دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے وہاں خوشی کی خبر یہ ہے کہ پاکستان کا مستقبل یقیناً روشن ہے، گزشتہ کئی سالوں سے پاک وطن کے نونہال بازی لے رہے ہیں اور لیتے رہیں گے انشاء اللہ ۔ یوں تو پہلے بھی پاک وطن کے بہت سے بچوں نے ریکارڈ قائم کئے جوشہ سرخیوں سے اخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں۔ ننھے منے دوست بھی نام پیدا کرنے کے خواہش مند ہوں گے۔یہ حقیقت ہے کہ تعلیم کے بغیر کوئی کام ممکن نہیں تعلیم کے بغیر انسان ادھورا ہے۔پڑھائی میں دلچسپی رکھنے والا ہر طالب علم یہ بات جانتا ہے اورچاہتا ہے کہ وہ بھی تعلیمی میدان میں اپنا اپنے والدین سب سے بڑھ کر یہ کہ ملک وقوم کا نام روشن کرے اور اس کے لئے وہ دن رات محنت بھی کرتا ہے کیونکہ محنت شوق اور لگن انسان کو فرش سے عرش تک لے جاتی ہے جبکہ محنت کرنے والوں کے ساتھ اللہ ہوتا ہے اور محنت کبھی رائیگاں نہیں جاتی ۔آج کے جدید دور میں چھوٹے چھوٹے بچوں نے ورلڈ ریکارڈ قائم کر کے نہ صرف اپنی ذہانت کا لوہا منوایا بلکہ پوری دُنیا میں اپنے پیارے وطن پاکستان کا نام روشن کیا۔ماضی میں طالب علموں کو وہ سہولتیں میسر نہ تھیں جو آج کے جدید دور میں ہیں یہی وجہ تھی کہ اُس وقت طالب علم پاسنگ مارکس حاصل کر کے مطمئین ہو جاتا تھا بہت کم بچے ایسے تھے جو پوزیشن حاصل کرتے اور انہیں بآسانی اچھے کالج میں داخلہ مل جاتا تھا خوشی کی بات یہ ہے کہ آج کے دور میں ہر طالب علم پوزیشن حاصل کرتا ہے،اگرپوزیشن نہیں ملتی تو اتنے نمبرضرورمل جاتے جس سے اچھے کالج میں داخلہ لینا اس کے لئے کوئی مسئلہ نہیں رہتا کیونکہ اب تو ایک ایک نمبرسے پوزیشن بدل جاتی ہے اور وہی بچہ اچھے کالج میں سکالر شپ حاصل کر سکتا ہے یا داخلہ لے سکتا ہے جو میرٹ پر ہوخوش قسمتی یہ ہے کہ اس جدید دور میں کوئی سفارش نہیں چلتی آج کے دور میں سب سے بڑی سفارش طالب علم کی قابلیت ہے۔یہ حقیقت ہے کہ بچوں کا مستقبل روشن ہے آنے والے وقتوں میں اُس شخص کی کوئی اہمیت نہیں ہو گی جو زیادہ پڑھا لکھا نہ ہو گا۔اس لئے اپنا مستقبل سنوارنے کے لئے ابھی سے محنت کرنا ہو گی،سرکاری وغیر سرکاری سکولوں میں سالانہ امتحان کا سلسلہ دسمبر سے وسط مارچ تک جاری رہتا ہے آپ کے سالانہ امتحان سر پر ہیںاس کیلئے آپ کو نمایاں پوزیشن حاصل کرنے کی ضرورت ہے۔ سال میں چار امتحانات ہوتے ہیں۔ ہر امتحان آپ کو کوئی نہ کوئی سبق ضرور دیتا ہے اپنی غلطیوں اور کوتاہیوں کو مدنظر رکھنا اور اپنے آپ کا جائزہ لینا آپ کا کام ہے پورے سال کی کارکردگی کا پتہ سالانہ امتحان میں چلتا ہے انسان جو بوتا ہے وہی کاٹتا ہے۔ یہ کبھی نہیں ہوا کہ کسان چاول بوئے اور گندم کاٹے یاگندم بوئے اور چاول حاصل کرے۔ اسی طرح جو طالب علم محنت کرتا ہے اس کا پھل پا لیتا ہے اور جو محنت نہیں کرتا یقیناً اسے ناکامی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ پہلے تین امتحانات اپنی تعلیمی کمی پوری کرنے کے لئے آپ کی نشاندہی کرتے ہیں تاکہ سالانہ امتحان میں کامیابی حاصل کر سکیں۔ آپ نے کبھی سوچا کہ تعلیم کس مقصد کے لئے حاصل کرتے ہیں؟ صرف رٹا لگا لینے سے کام نہیں چلتا تعلیم ہمیں اچھے بُرے کی پہچان سکھاتی ہے تاکہ عملی زندگی میں آپ کچھ بن کر دکھائیں اور اپنے والدین کا نام روشن کرے۔ بعض بچوں نے پڑھائی کے لئے ایک خاص ٹائم مقرر کیا ہوتا ہے۔ جس پر وہ سختی سے عمل پیراہوتے ہیں یعنی پڑھائی کے وقت پڑھائی اور کھیل کے وقت کھیل۔ لیکن سالانہ امتحان میں وہ کوئی کھیل نہیںکھیلتے بلکہ اپنی ساری توجہ حصول تعلیم کے لئے وقف کر دیتے ہیں اور وہی بچے اعلیٰ پوزیشن حاصل کرتے ہیں جو اپنے ٹائم ٹیبل کے مطابق اپنے کام سرانجام دیتے ہیں۔بچپن سے یہ سنتے آئے ہیں کہ
پڑھو گے لکھوگے بنوگے نواب
جو کھیلوگے کودو گے ہوگے خراب
اس کا مطلب یہ نہیں کہ کھیل کود ترک کر دیں۔جو بھی نامور کھیلاڑی ہیں اُنہوں نے کھیل کود اورپڑھائی دونوں عوامل کویکسوئی سے جاری رکھا بلکہ وقت کی قدر کرتے ہوئے تعلیم کو ترجیح دی اورآج وہ غیرممالک میں کھیلنے جاتے ہیں۔ان دنوں جو بچے ٹی وی، ویڈیو گیم یا کرکٹ غرض یہ کہ جو کھیل بھی کھیلتے ہیںاسے وقتی طور پرترک کر دیں،کیونکہ سالانہ امتحان سر پرہیں ،محنت میں ہی آپ کی کامیابی کا راز پنہاں ہے۔ان دنوں آپ کے سامنے صرف ایک ہی مقصد ہونا چاہئے اور وہ مقصد اعلیٰ پوزیشن حاصل کرنے کا نہ کے صرف اور صرف پاس ہونے کا تاکہ خاندان والے بہن، بھائی اور والدین اور اساتذہ کرام عزت کی نگاہ سے دیکھیں سالانہ امتحانات کا ایک خاص خوف بھی ہوتا ہے۔اس امتحان کی نسبت سال میں ہونے والے دوسرے امتحانات زیادہ مشکل ہوتے ہیں۔اگر پوری توجہ سے پڑھا جائے وقت کی پابندی کی جائے تو ان کی راہ میں آنے والی ہر مشکل آسان ہو جاتی ہے۔ آپ کو ایسا بچہ بننے کی کوشش کرنی چاہئے جس کی مثال دی جاتی ہے اورہر کام کومقررہ وقت میں سر انجام دینا چاہئے۔ کائنات کا پورا نظام ایک خاص ترتیب سے چلتا ہے۔ چاند، سورج، ستارے اپنے وقت پر طلوع اور غروب ہوتے ہیں،وقت کی قدر کریں۔