عارف عبدالمتین

31 جنوری 2018

(خالد یزدانی )

امرتسر کی زرخیز زمین نے صرف پہلوان ہی پیدا نہیں کئے بلکہ علم و ادب کو بھی ایسے سپوت دیئے جن کے قلم سے فکر و خیال کے نئے جہاں تخلیق ہوئے ظہیر کاشمیری، احمدراہی ، سیف الدین سیف اور اے حمیدقلمکار اسی شہر کے باسی رہے اسی شہر کے کوچہ وکیلاں میں یکم مارچ1927ء کو جس بچے نے آنکھ کھولی آگے چل کر اس نے شعر و ادب کے ساتھ درس و تدریس کے شعبہ میں بھی نام کمایا ، علمی و ادبی دنیا ان کو عارف عبدالمتین کے نام سے جانتی ہے اردو پنجابی ادب میں ان کا نام جگمگاتا رہے گا ۔ قیام پاکستان کے بعد وہ ہجرت کر کے لاہور آ گئے اور چشتیہ ہائی سکول اسلام پورہ (کرشن نگر) میں پڑھانے لگے جبکہ وہ ترقی پسند مصنفین کی تحریک کے سرگرم رکن تھے ۔ اسی دوران ادبی رسالہ ادب لطیف ،جاوید اور ’’ سویرا‘‘ کی ادارت کے فرائض بھی انجام دیئے، وہ طویل عرصہ درس و تدریس کے علاوہ وزیر آغا کے ساتھ ’’اوراق‘‘ کی ادارت بھی کرتے رہے۔ چشتیہ ہائی سکول کے بعد گورنمنٹ ایم اے او کالج لاہور آ گئے، مجھے فخر ہے کہ چشتیہ ہائی سکول میں عارف عبدالمتین اور حسن بخت جیسے شاعر میرے استاد تھے ۔ان دنوں عارف عبدالمتین نویں اور دسویں کی کلاسوں کو پڑھاتے تھے بعد ازاں ان کی پنجابی تنقیدی کتابیں امکانات اور ’’ پرکھ پڑچول شائع ہوئیں آخر الذکر کو رائیٹر گلڈ نے ایوارڈ بھی دیا، ان کی رہائش چشتیہ ہائی سکول کے اندر ہی تھی، جہاں اکثر شام کو کوئی نہ کوئی شاعر ادیب ان سے ملنے آ جایا کرتا تھا۔ ستر کی دہائی میں جب کاظم آزاد کے ساتھ مل کر انجمن عوامی ادب پاکستان کے نام سے ادبی تنظیم کی داغ بیل ڈالی تو پہلا عظیم الشان مشاعرہ بیاد گار علامہ لطیف انور ٹائون ہال میں کرنے کا پروگرام بنایا اور صدارت کے لئے جناب عارف عبدالمتین سے درخواست کی، انہوں نے نہ صرف صدارت کی حامی بھری بلکہ ہماری تنظیم کے نام کو بھی پسند کیا اور پھر ہم نے ان کو اس تنظیم کا سر پرست بنایا ، وہ کالج سے آنے کے بعد زیادہ تر وقت تخلیقی کاموں میں صرف کیا کرتے تھے اور نئے لکھنے والوں کی بھی حوصلہ افزائی کرتے ان کی گفتگو سننے والوں کے دل میں اتر اتر جاتی تھی، دھیما لہجہ ، ٹھہر ٹھہر کر آرام سے بولتے اور جب کبھی اپنا کلام تحت الفظ سناتے تو سامعین ان کے ہر ہر شعر پر داد دیتے۔ میں نے ان سے اسی کی دھائی میں ایک اخبار کے لئے انٹرویو کیا تھا جو ایک سو سوالوں پر مشتمل تھا۔ اس مختصر سوال جواب میں ان کے خیالات کی جھلک پڑھنے والوں کو ملی۔ مجھے یاد ہے جب میں نے پوچھا تھا۔ عارف صاحب آپ کی پہچان تو انہوں نے فوراً جواب دیا نسبت رسولؐ اور قیمتی اثاثہ ،کے جواب میں کہا ’’ محبت رسول‘‘ؐ میں نے پوچھا آپ کا عشق، ان کا جواب تھا کائنات پر خیر کی حکمرانی دیکھنا چاہتا ہوں، میرا اگلا سوال تھا، دوسروں کی ایک عادت جو آپ کو نا پسند ہو، کہنے لگے’’ خود ستائی‘‘ آٹو گراف بک پر کیا لکھتے ہیں، کے جواب میں کہا ’’میں اکثر یہ شعر لکھ دیتا ہوں۔‘‘
میری عظمت کا نشان میری تباہی کی دلیل
میں نے حالات کے سانچے میں نہ ڈھالا خود کو
میں نے پوچھا جب ڈپریشن ہو تو کیا کرتے ہیں؟ بولے، دل زندگی سے روابط کو تو توڑنے پر مائل ہو جاتا ہے مگر اکثر اوقات’’ لاتقنطومن رحمت اللہ ‘‘کا ارشاد زریں اپنی تالیفی پناہ ہوں میں لے کر اسے بچا لیتا ہے۔ میں نے پوچھا اپنی زندگی سے مطمئن ہیں، کہنے لگے اطمینان جیسی شے شاید میری زندگی میں عنقا ہے۔ میں نے سوال کیا وہم پریشان کرتا ہے؟ جواب میں کہا ’’ مجھے کوئی وہم پریشان نہیں کرتا کہ اس کی شناخت ہلاکت کا سبب بن جاتی ہے البتہ حقائق مجھے ضرور پریشان کرتے ہیں بالخصوص جو تلخ ہوں اور جن سے چھٹکارہ میرے بس میں نہ ہو۔
غصے کے وقت کیا کرتے ہیں’’ کہنے لگے غیر اختیاری طور پر تیز قدموں سے چلنے لگتا ہوں اور اس دوران اپنے مقا بل کے رویے کا معروضی جائزہ لینے لگتا ہوں تا کہ حالت اشتعال میں اس کے ساتھ کسی قسم کی زیادتی کا مرتکب نہ ہو جائوں میں نے پوچھا، آئینہ دیکھتے ہیں تو کیا خیال آتا ہے فوراً جواب شعر میں دیا۔
آئینہ دیکھنے سے لرزاں ہوں
اپنی صورت سے پیار تھا مجھ کو
میرا سوال تھا، وہ لمحہ جب اپنے آپ پر رشک آیا ہو؟ کہنے لگے جب سیرت مشن کی طرف سے نعت نگاری کے حوالے سے خدمات کو پذیرائی بخشتے ہوئے مجھے حج کا شرف عطا کرنے کے فیصلے کا اعلان کیا گیا ۔
میں نے پوچھا’ عارف صاحب آپ کو زندگی کا خاص دن یاد ہے؟ بولے بالکل یاد ہے یہ 1947ء کی بات ہے جس دن میں اپنی معذور ماں کو فسادات کے دوران اپنی بانہوں میں اٹھا کر بھاگتا ہوا غیر محفوظ علاقے سے محفوظ علاقے کی طرف آیا۔ میں نے پوچھا خوشی کے لمحات میں کیا کرتے ہیں، بولے چائے پیتا ہوں۔ شعر کہتا ہوں، گنگناتا ہوں۔
مجھے یاد ہے آخر میں انہوں نے ایک شعر سنایا
بانٹ جی بھر کے اسے دہر کے صحرائوں میں
پیار دولت تو نہیں ہے کہ جو گھٹ جائے
عارف عبدالمتین کو اللہ تعالیٰ نے تین بیٹے اور دو بیٹیاں عطا کیںجن سے وہ بے حد پیار کرتے تھے ، سب بچے ہی اپنے باپ کی تصویر تھے ان کا جواں سال فرزند گوجرانوالہ سے لاہور آتے ہوئے روڈ ایکسیڈنٹ میں چل بسا ، وہ اس سے بے حد پیار کرتے تھے۔ بیٹے کی ناگہانی وفات سے وہ اندر سے ٹوٹ گئے اور پھر بیماری نے سر اٹھایا، کچھ عرصہ وہ امریکہ بھی رہے مگر ان کی صحت ٹھیک نہ تھی اسی دوران کو فالج کا حملہ ہوا، جب میں ان کو ملنے گیا تو ان کی اہلیہ ان کو اپنے ہاتھ سے چمچے کے ساتھ سوپ پلا رہی تھیں اور وہ بمشکل اسے پی رہے تھے ۔مجھے یاد ہے سکول کے زمانے میں ان کی سرخ و سفید رنگت اور صحت مند جسم کو دیکھ کر سب رشک کیا کرتے تھے ، اور اب وہی عارف عبدالمتین انتہائی لاغر دکھائی دے رہے تھے ۔ علم و ادب کا یہ پیکر30جنوری 2001ء کو اس جہاں فانی سے عالم جاودانی کو سدھار گیا جہاں جانے والے نہیں آتے لیکن ان کی یادیں رہ جاتی ہیں آہستہ آہستہ لاہور علمی و ادبی ستارے جو جگمگایا کرتے تھے گم ہوتے چلے جا رہے ہیں۔