محبتوں کے سفر پر نکلی پروین شاکر اور خوشبو

31 جنوری 2018

فہمیدہ کوثر
شہر ذات کا سفر بڑی کٹھنائیوں سے گزرتا ہوا کبھی ختم ہونے والے سفر اور لمبی مسافت کے راستے کھولتا جاتا ہے۔ پروین شاکر محبت اور خوشبو کا ہاتھ تھامے چاند کی تمنا میں نکل کھڑی ہوئی۔ لیکن اس لڑکی کا ہر اٹھنے والا قدم شہر ذات کی طرف تھا وہ خود کہتی ہے کہ کچی عمروں کی لڑکیاں نہیں جانتی ہیں کہ آشوب آگہی سے بڑا عذاب زمین والوں پر آج تک نہیں اترا۔ گریزیا لمحوں کی ٹوٹتی دہلیز پر ہوا کے بازو تھامے ایک لڑکی نے اپنے رب سے دعا کی کہ اس کے اندر کی لڑکی اس پر منکشف کردے۔ وہ اسکی بات مان گیا۔ اور اسے چاند کی تمنا کرنے کی عمر میں ذات کے شہر ہزاردر کا رسم عطا کردیا گیا۔ جس کے سب دروازے اندر کو کھلتے ہیں۔ واپسی کا سفر ممکن نہیں۔ پروین شاکر ذات در ذات سفر کرتی رہی۔ اس کے اندر پھول چننے اور خوشبو کے سنگ سفر کرنے کی خواہش نے جنم لیا۔ لیکن وہ تو سنسان گلی تک آپہنچی جہاں کانچ کے ریزوں نے اسکی انگلیاں لہولہان کردیں۔ خیال و خواب ہوا برگ و بار کا موسم، بچھڑ گیا تیری صورت بہار کا موسم، اس لڑکی نے شاعری میں بارش کی ہنسی، پھولوں کی مسکراہٹ چڑیوں کے گیتوں اور اپنی ہی سرگوشیوں میں محبت کو امرکرنا چاہا لیکن یوں ہوا کہ روزن زندان سے آنے والی اجنبی سیاہ بخت زمینوں کی ہوا کے آنسوئوں کو اس نے اپنی پلکوں پر محسوس کیا، اس کے وجود نے محبت میں ہجر، فراق جدائی قربت اور فرقت کے جذبوں کو محسوس کیا اور ان جذبوں کو صفحہ قرطاس پر منتقل کردیا۔ کبھی جذبے سسکیوں میں ڈھل گئے تو کبھی خود کلامی اور سرگوشی سنائی دینے لگی ۔ خواب، سراب اور عذاب کے سفر پر نکلی اس لڑکی کو شاہد اپنے خوابوں پر یقین تھا لٰہذا اس کے ہاتھ میں گلاب اور آنکھ میں خواب ہی رہے۔ پروین شاکر بڑی بہادری کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ ’’اگر زندگی سے محبت کرنا جرم ہے تو یہ لڑکی پورے غرور کے ساتھ اپنے جرم کا اعتراف کرتی ہے۔ جو لڑکی کی بسنت بہار کی نرم ہنسی میں بھیگ چکی ہو اسے خزاں کا دکھ تو ہوسکتا ہے عناد نہیں۔ یہی خزاں کا دکھ پھیلا تو وہ خوشبو کے سفر پر جانکلی۔ راہ میں ہزار ہا صد برگ آئے، مگر موسموں نے اسکے ارادے کو چکنا چور نہیں کیا۔ بلکہ وہ عزم اور حوصلہ بخشنا جوکہ محبت کرنے والوں کو عطا ہوتا ہے۔ سوال تو یہ بھی رکھتا ہے کہ پروین شاکر کو زندگی سے محبت تھی یا محبت نے اسے زندگی کا احساس دیا تھا کہ وہ جی اٹھی تھی۔ محبت کی ہی طاقت اسے تن تنہا، پھول، روشنی، جگنو، چاند اور بارشوں کے تعاقب میں لے آتی تھی۔ وہ کہتی ہے کہ خوشبو جو محبت کی طرح ہفت آسماں دوستی کی طرح مہرباں، نیکی کی طرح یاد رہنے والی اور رفاقت کی طرح دکھ بٹانے والی بچپن کی سہیلی کی طرح ماتھے پر ہاتھ رکھ دیتی ہے۔
اس نے جلتی ہوئی پیشانی پر جو ہاتھ رکھا
روح تک آگئی تاثر مسیحائی کی
پروین شاکر ایک کام کرگئی ہم سے بچھڑنے سے پہلے وہ خوشبو کا تعارف پورے اعتماد سے کروا گئی۔ شاعری میں اس نہج کی بنیاد رکھ گئی کہ جس تک پہنچنے کے لئے کسی شاعر کو اسی احساس کرب، جدائی، ہجر اور وصال کے لمحوں سے گزرنا ہوگا اور اس انتہا پر پہنچنا ہوگا کہ کسی کرب کو صفحہ قرطاس پر اتارا جاسکے۔ پروین شاکر وقت سے لمحے چرانے کا وصف جانتی تھی۔ خود کلامی کے ذریعہ اپنی ذات کو دریافت کرنے کے فن سے آشنا تھی۔ لیکن ذات در ذات سفر کرنے والی لڑکی شاید وہ گوہر نایاب چن رہی تھی جو ادب کے لئے گراں قدر سرمایہ ہیں۔
عمر کا بھروسہ کیا پل کا ساتھ ہوجائے
ایک بار اکیلے میں اس سے بات ہو جائے