کم عمری کی شادی مسائل کو جنم دیتی ہے‘ روک تھام کیلئے قانون سازی کی جائے

31 جنوری 2018
کم عمری کی شادی مسائل کو جنم دیتی ہے‘ روک تھام کیلئے قانون سازی کی جائے

ملتان (لیڈی رپورٹر) پاکستانی معاشرے میں عورت آبادی کا بڑا حصہ ہے۔ اس کا تعلیم یافتہ ہونا وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے۔ جو شادی شدہ جوڑا غیر تعلیم یافتہ ہو گا اپنی نسل کو بھی غیر تعلیم یافتہ رکھنے اور غیر صحت مند زندگی دینے کا سبب بنتا ہے۔ ایسے میں کم عمری کی شادی معاشی‘ معاشرتی اور سماجی اعتبار سے لاتعداد مسائل کو جنم دیتی ہے۔ ان خیالات کا اظہار نوائے وقت فورم ’’کم عمری کی شادی سے پیدا ہونے والے مسائل‘‘ پر مختلف طبقۂ فکر سے تعلق رکھنے والی خواتین نے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ ایم پی اے بیگم سلطانہ شاہین نے کہا کہ حکومت پنجاب نے کم عمری کی شادی سے متعلق باقاعدہ قانون سازی کی ہے تاکہ بچیوں میں شعور کے ساتھ حصول تعلیم کا جذبہ پروان چڑھ سکے۔ مسلم لیگ کی رہنما بیگم عذرا واجد نے کہا کہ کم عمر میں شادی ہو جانے سے لڑکیاں اس بڑی ذمہ داری کی ادائیگی احسن طریقے سے نہیں کر پاتیں جس سے گھر‘ بچے اور سسرال انتہائی تکلیف دہ حالات سے دوچار ہو جاتا ہے۔ ایسے میں والدین کو بھی بچیوں کی تعلیم کو اہمیت دینی چاہیے۔ ڈاکٹر حمیدہ خانم نے کہا کہ 15 سے 19 سال کی لڑکیاں اس قابل نہیں ہوتیں کہوہ گھر کو سنبھال سکیں۔ اس طرح وہ بہت سے مسائل سے دوچار ہوجاتی ہیں۔ شادی حقیقی معنوں میں بہت سنجیدہ ذمہ داری کی ادائیگی کا نام ہے۔ والدین کو بچوں اور بچیوں کی گھر پر تربیت ضرور کرنی چاہیے۔ کہکشاں آرگنائزیشن کی چیف ایگزیکٹو عالیہ افضل نے کہا کہ بڑھتی ہوئی مہنگائی نے سب سے زیادہ غریب طبقے کو متاثر کیا ہے لیکن افسوس سب سے زیادہ شرح جو 83 فیصد بنتی ہے غریب افراد پر مشتمل ہے۔ وہی لڑکے اور لڑکیوں کی کم عمری کی شادی کو ترجیح دیتے ہیں کیونکہ یہ لوگ تعلیم سے بے بہرہ ہوتے ہیں۔ اسی طبقے میں سماجی برائیوں کا رحجان بھی زیادہ پایا جاتا ہے۔ حکومت کو سختی سے قانون سازی کے ذریعے کم عمری کی شادیوں کی روک تھام کرنی چاہیے اور میٹرک تک تعلیم کو لازی قرار دیتے ہوئے شادی شدہ جوڑے کے لئے ہنرمندی کا ڈپلومہ بھی لازمی قرار دیا جانا چاہیے۔ سماجی رہنما رفعت اعظم نے کہا کہ لڑکیوں کو جنسی اور تولیدی صحت سے معلق تعلیم دینا انتہائی ضروری ہے تاکہ انہیں گھر سنبھالنے اور عملی زندگی سے آگاہی حاصل ہو سکے اور وہ اچھی بیوی اور صحت مند ماں ثابت ہو سکے۔ پاکستان تحریک انصاف کی رہنما آصفہ سلیم نے کہا کہ پڑھی لکھی عورت معاشرتی و سماجی قدروں کو احسن طریقے سے ادا کرتی ہے۔ کم عمری میں شادی کر دینے پر قانون سازی کی جائے۔ سماجی رہنما غزل غازی نے کہا کہ دوسرے ممالک کی نسبت پاکستان میں بچوں کی شرح اموات زیادہ ہے۔ جسک بنیادی وجہ کم عمری کی شادی ہے۔