کتب بینی کا رجحان کبھی کم نہیں ہو سکتا، اعتبار ساجد

31 جنوری 2018

موجودہ دور میں کتب بینی کا رجحان کم بھی نہیں ہوا اور نہ ہی کتاب لکھنے کا شوق ختم ہوا ہے۔ آج بھی لوگ شوق سے کتاب پڑھتے ہیں وہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ کتاب کو کتابی شکل میں کم پڑھا جانے لگا ہے لیکن اس کے باوجود حاجی محمد لطیف کھوکھر نے جس دلجمعی اور خلوص سے کتاب کو فروغ دیا ہے وہ قابل ستائش ہے۔ حاجی محمد لطیف کھوکھر نے اپنی کتاب ہتھ جوڑی کو شائع کرکے اپنی پنجابی شاعری کو محفوظ توکیا ہے ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ کتاب کے فروغ کو تقویت بھی دی ہے۔ ہتھ جوڑی میں لکھی نظم نمرا آئی سکول سے پڑھ کر دل روتا ہے کہ نمرا توسکول سے واپس آجائے گی لیکن ہماری قوم کی ننھی بیٹی زینب کبھی بھی سکول نہیں جا سکے گی اور نہ ہی سکول سے واپس آسکے گی ۔ ان خیالات کا اظہار معروف شاعر اور ماہر تعلیم اعتبار ساجد نے وفائے پاکستان ادبی فورم کے زیر اہتمام حاجی محمد لطیف کھوکھر کی کتاب ہتھ جوڑی کی تقریب رونمائی میں کیا۔

اس موقع پر آپ نے کہا کہ حاجی صاحب کی کتاب ہتھ جوڑی سے قبل جو جوکتب شائع ہو چکی ہیں وہ سب کی سب شاہکار ہیں۔ ان کو اللہ کریم نے خداداد صلاحیتوں سے نوازا ہے جو بہت کم لوگوں میں ہوتی ہیں۔ اس موقع پر پروفیسر ارشد اقبال ارشد نے کہا کہ آج کا دن اس لحاظ سے بھی یادگار ہے کہ آج پنجابی ادب میں ایک اور کتاب کا اضافہ ہوگیا ہے۔ پنجابی زبان صرف پنجابیوں کی زبان نہیں ہے بلکہ یہ ہر محبت کرنے والے کی زبان ہے۔ بچوں کے معروف ادیب اور ماہر تعلیم نذیر انبالوی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حاجی محمد لطیف کھوکھر کا نام نہ صرف بڑوں کے ادب میں اپنا خاص مقام رکھتا ہے بلکہ بچوں کے ادب میں بھی قابل احترام ہے۔ حاجی لطیف کھوکھر کا شوق اور ذوق ادبی اعتبار سے تعریف کے قابل ہیں۔ اس موقع پر معروف شاعر اور شہرہ آفاق کتاب ہیرکہانی کے مصنف اقبال راحت کی چھٹی برسی بھی منائی گئی۔ جس میں ملک کی معروف ادبی وعلمی شخصیات صائمہ محمد علی، ڈاکٹرایم ابرار، اقبال راہی، سہیل قیصر ہاشمی، محمد اشرف سہیل، شہباز اکبرالفت، امان اللہ نیر شوکت، فدا شاہین بھٹی، نجمہ شاہین، عبدالخالق عابد قادری، عمران اقبال راحت، محمد نادرکھوکھر، ڈاکٹرسعید الفت، شہزاد اسلم راجا، تاثیرنقوی، فراست بخاری، عطاء العزیز،ہمایوں پرویز شاہد، حکیم سلیم اختر،چودھری ارشد اور شیخ فیصل نواز شامل تھے۔ شہزاد احمد شیخ نے خصوصی مقابلہ بھی پیش کیا تقریب کی نظامت ڈاکٹرایم ابرار نے کی۔