پنجاب یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر کا تقرر ، تقاضے اور ترجیحات

31 جنوری 2018

شاہ نواز تارڑ
ch_shahnawaztarar@yahoo.com
پنجاب یونیورسٹی 14 اکتوبر 1882ء کو قائم ہوئی۔ انگریز راج کے دوران برصغیر پاک و ہند میں قائم کی جانیوالی یہ چوتھی یونیورسٹی تھی۔ اس سے پہلے بمبئی، مدراس اور کلکتہ میں بھی یونیورسٹیاں قائم کی جاچکی تھیں۔ سر جیمز لائل پہلے وائس چانسلر مقرر ہوئے جو صرف ایک سال رہے۔ اگست 1883 ء میں ڈاکٹر بیڈن ہنری پائول نے دوسرے وائس چانسلر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔
1947ء تک اکلوتی پنجاب یونیورسٹی خطے کی تعلیمی، تدریسی تحقیقی ضروریات پوری کرتی رہی۔ مسٹر اے سی وولنر (A.C Woolner) اکتوبر 1928ء میں وائس چانسلر بنے جنہوں نے یونیورسٹی کی بہتری کیلئے بہت سے اقدامات کئے۔ یونیورسٹی اورینٹل کالج سے متصل عقب میں خالد بن ولید ہال (سابق نام لاء کالج ہاسٹل) میں وولنر ہاسٹل بھی انہیں کے نام پر قائم ہے جہاں پچھلے کچھ عرصہ سے ڈے کیئر سنٹر بنا کر وولنر ہاسٹل کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے۔ مال روڈ پر فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے باہر وولنر کا مجسمہ بھی نصب ہے۔
خان بہادر محمد افضل حسین اکتوبر 1938ء میں پنجاب یونیورسٹی کے پہلے مسلمان وائس چانسلر بنے۔ قیام پاکستان کے بعد ڈاکٹر عمر حیات ملک ستمبر 1947ء میں وائس چانسلر کے منصب پر تعینات ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے مسلمان چیف جسٹس سر عبدالرشید جون 1950ء میں وائس چانسلر بنے جو صرف ستمبر تک (تین ماہ) رہے۔ جو تمام وائس چانسلرز میں تعیناتی کا سب سے کم ترین عرصہ ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر خیرات ابن رسا، لیفٹیننٹ جنرل (ر) ارشد اور پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران سب سے زیادہ عرصہ وائس چانسلر کے منصب پر فائز رہے۔ دسمبر 2016ء میں ڈاکٹر ظفر معین نصر وائس چانسلر تعینات ہوئے جو 5 جنوری 2018ء تک رہے اور مستعفی ہوگئے۔
انگریز دور کے بعد بھی پنجاب یونیورسٹی میں اکثر ’’امپورٹڈ‘‘ وائس چانسلر تعینات کرنے کی روایت رہی۔ تاہم کبھی کبھار طلبہ و طالبات، اساتذہ، ملازمین اور یونیورسٹی کے در و دیوار کی قسمت جاگتی ہے تو ’’اپنا‘‘ وائس چانسلر مل جاتا ہے جیسے اب ہوا۔
پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر کو 6 جنوری 2018ء سے پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔
ملا عبدالحکیم سیالکوٹی، مولوی میر حسن، علامہ اقبال، میر ابراہیم سیالکوٹی، فیض احمد فیض کی جنم بھومی سے نسبت رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر کی تعلیم و تربیت کا آغاز بھی مسجد و مدرسہ سے ہوا۔ انہوں نے دینی تعلیم مدرسہ شہابیہ سے حاصل کی۔ عربی، فارسی قرآن، حدیث، تفسیر، فقہ کا وسیع مطالعہ کیا۔ سکاچ مشن سکول سے میٹرک کیا۔ مرے کالج سے انٹر پھر گریجویشن کی۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ 1990ء میں اعزاز کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پراجیکٹ مینیجر لوکل گورنمنٹ تعینات ہوئے لیکن تعلیم و تعلم کا شوق دوبارہ پنجاب یونیورسٹی لے گیا۔ پراجیکٹ مینیجر سے استعفیٰ دے کر 1991 میں پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرر بن گئے۔ بعدازاں 1998ء میں جرمن یونیورسٹی سے اعزاز کے ساتھ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور واپس آکر دوبارہ معمار قوم کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ڈاکٹر زکریا ذاکر کے درجنوں تحقیقی مضامین بین الاقوامی جرائد میں چھپ چکے ہیں اور اہل علم و فن سے داد وصول کرچکے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح کے 35 سے زائد پراجیکٹ پر رہنمائی کر کے اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ بین الاقوامی سطح کے کئی پبلشر نے آپ کی کتاب شائع کیں جو علمی دنیا سے داد و تحسین وصول کرچکی ہیں اور نسل نو کا سرمایہ افتخار ہیں۔
پی ایچ ڈی، ایم فل اور ماسٹر ڈگری کے سینکڑوں طلبہ و طالبات ان کی رہنمائی میں تعلیم و تحقیق کی نئی جہتیں متعارف کرا چکے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر کی شاندار تعلیمی و تدریسی اور تحقیقی خدمات پر 2012ء میں ہائرایجوکیشن کمیشن نے یونیورسٹی کے بہترین استاد کا ایوارڈ دیا۔ 2015ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی ایوارڈ دیا گیا جو یقیناً یونیورسٹی کے ہزاروں طلبہ و طالبات اور دنیائے تعلیم و تدریس کیلئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب یوینوسٹی کو عالمی رینکنگ میں شامل کرنے کیلئے وائس چانسلر، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور جملہ ملازمین ’’اپنے اپنے حصے‘‘ کا کام کر جائیں تاکہ میری مادر علمی (جامعہ پنجاب) جس طرح اپنے تاریخی پس منظر، اور پرشکوہ محل و قوع کے اعتبار سے لاثانی ہے اسی طرح تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی شان و عظمت کا استعارہ بن جائے اور تعلیم و تحقیق اس پر ہمیشہ نازاں رہے۔
خدا کرے میری ارض پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ علم و تحقیق میں جہاں جہاں جائیں دنیا وہاں وہاں ان کی راہوں میں آنکھیں بچھائے اور ایک سرائیکی شاعر کی زبان میں یوں۔
راہ تے دید و چھیسن اکھیں
ڈیکھ تے ٹھر ٹھر ویسن اکھیں
جے تئیں تسیں لنگھ نہ آسو
پیلیاں نہ جھمکیسن اکھیں
پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر کے پاس انتہائی قابل اور بین الاقوامی شہرت یافتہ اساتذہ کی ٹیم موجود ہے جن میں پروفیسر ڈاکٹر خالق داد ملک، پروفیسر ڈاکٹر سید قمر علی زیدی، پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی، پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر، پروفیسر ڈاکٹر افتخار تارڑ سمیت سینکڑوں اساتذہ اور فاضلین جامعہ شامل ہیں۔ لہٰذا ’’ٹیم ورک‘‘ کے ذریعے ایسی جدوجہد کی ضرورت ہے کہ دنیا پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کو اپنی یونیورسٹیوں میں بلاکر رہنمائی حاصل کرے۔ پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹس کو اپنی یونیورسٹیوں تک تعلیم و تحقیق کیلئے رسائی دے اور جامعہ ازہر کی طرح ہمارے ’’شیخ الجامعہ‘‘ کی رائے کو بھی پالیسی سازی میں جگہ دی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فائنل
پنجاب یونیورسٹی کے نئے وائس چانسلر کا تقرر ، تقاضے اور ترجیحات
شاہ نواز تارڑ
ch_shahnawaztarar@yahoo.com
پنجاب یونیورسٹی 14 اکتوبر 1882ء کو قائم ہوئی۔ انگریز راج کے دوران برصغیر پاک و ہند میں قائم کی جانیوالی یہ چوتھی یونیورسٹی تھی۔ اس سے پہلے بمبئی، مدراس اور کلکتہ میں بھی یونیورسٹیاں قائم کی جاچکی تھیں۔ سر جیمز لائل پہلے وائس چانسلر مقرر ہوئے جو صرف ایک سال رہے۔ اگست 1883 ء میں ڈاکٹر بیڈن ہنری پائول نے دوسرے وائس چانسلر کی حیثیت سے ذمہ داریاں سنبھالیں۔
1947ء تک اکلوتی پنجاب یونیورسٹی خطے کی تعلیمی، تدریسی تحقیقی ضروریات پوری کرتی رہی۔ مسٹر اے سی وولنر (A.C Woolner) اکتوبر 1928ء میں وائس چانسلر بنے جنہوں نے یونیورسٹی کی بہتری کیلئے بہت سے اقدامات کئے۔ یونیورسٹی اورینٹل کالج سے متصل عقب میں خالد بن ولید ہال (سابق نام لاء کالج ہاسٹل) میں وولنر ہاسٹل بھی انہیں کے نام پر قائم ہے جہاں پچھلے کچھ عرصہ سے ڈے کیئر سنٹر بنا کر وولنر ہاسٹل کا حلیہ ہی بگاڑ دیا ہے۔ مال روڈ پر فارمیسی ڈیپارٹمنٹ کے باہر وولنر کا مجسمہ بھی نصب ہے۔
خان بہادر محمد افضل حسین اکتوبر 1938ء میں پنجاب یونیورسٹی کے پہلے مسلمان وائس چانسلر بنے۔ قیام پاکستان کے بعد ڈاکٹر عمر حیات ملک ستمبر 1947ء میں وائس چانسلر کے منصب پر تعینات ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد پہلے مسلمان چیف جسٹس سر عبدالرشید جون 1950ء میں وائس چانسلر بنے جو صرف ستمبر تک (تین ماہ) رہے۔ جو تمام وائس چانسلرز میں تعیناتی کا سب سے کم ترین عرصہ ہے۔
پروفیسر ڈاکٹر خیرات ابن رسا، لیفٹیننٹ جنرل (ر) ارشد اور پروفیسر ڈاکٹر مجاہد کامران سب سے زیادہ عرصہ وائس چانسلر کے منصب پر فائز رہے۔ دسمبر 2016ء میں ڈاکٹر ظفر معین نصر وائس چانسلر تعینات ہوئے جو 5 جنوری 2018ء تک رہے اور مستعفی ہوگئے۔
انگریز دور کے بعد بھی پنجاب یونیورسٹی میں اکثر ’’امپورٹڈ‘‘ وائس چانسلر تعینات کرنے کی روایت رہی۔ تاہم کبھی کبھار طلبہ و طالبات، اساتذہ، ملازمین اور یونیورسٹی کے در و دیوار کی قسمت جاگتی ہے تو ’’اپنا‘‘ وائس چانسلر مل جاتا ہے جیسے اب ہوا۔
پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر کو 6 جنوری 2018ء سے پنجاب یونیورسٹی کا وائس چانسلر مقرر کیا گیا ہے۔
ملا عبدالحکیم سیالکوٹی، مولوی میر حسن، علامہ اقبال، میر ابراہیم سیالکوٹی، فیض احمد فیض کی جنم بھومی سے نسبت رکھنے والے پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر کی تعلیم و تربیت کا آغاز بھی مسجد و مدرسہ سے ہوا۔ انہوں نے دینی تعلیم مدرسہ شہابیہ سے حاصل کی۔ عربی، فارسی قرآن، حدیث، تفسیر، فقہ کا وسیع مطالعہ کیا۔ سکاچ مشن سکول سے میٹرک کیا۔ مرے کالج سے انٹر پھر گریجویشن کی۔ بعد ازاں پنجاب یونیورسٹی میں داخلہ لے لیا۔ 1990ء میں اعزاز کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے سوشیالوجی میں ماسٹر ڈگری حاصل کی۔ پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پراجیکٹ مینیجر لوکل گورنمنٹ تعینات ہوئے لیکن تعلیم و تعلم کا شوق دوبارہ پنجاب یونیورسٹی لے گیا۔ پراجیکٹ مینیجر سے استعفیٰ دے کر 1991 میں پنجاب یونیورسٹی میں لیکچرر بن گئے۔ بعدازاں 1998ء میں جرمن یونیورسٹی سے اعزاز کے ساتھ ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور واپس آکر دوبارہ معمار قوم کی ذمہ داریاں سنبھالیں۔ ڈاکٹر زکریا ذاکر کے درجنوں تحقیقی مضامین بین الاقوامی جرائد میں چھپ چکے ہیں اور اہل علم و فن سے داد وصول کرچکے ہیں۔ قومی اور بین الاقوامی سطح کے 35 سے زائد پراجیکٹ پر رہنمائی کر کے اپنی خداداد صلاحیتوں کا لوہا منوا چکے ہیں۔ بین الاقوامی سطح کے کئی پبلشر نے آپ کی کتاب شائع کیں جو علمی دنیا سے داد و تحسین وصول کرچکی ہیں اور نسل نو کا سرمایہ افتخار ہیں۔
پی ایچ ڈی، ایم فل اور ماسٹر ڈگری کے سینکڑوں طلبہ و طالبات ان کی رہنمائی میں تعلیم و تحقیق کی نئی جہتیں متعارف کرا چکے ہیں۔ پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر کی شاندار تعلیمی و تدریسی اور تحقیقی خدمات پر 2012ء میں ہائرایجوکیشن کمیشن نے یونیورسٹی کے بہترین استاد کا ایوارڈ دیا۔ 2015ء میں حکومت پاکستان کی طرف سے صدارتی ایوارڈ دیا گیا جو یقیناً یونیورسٹی کے ہزاروں طلبہ و طالبات اور دنیائے تعلیم و تدریس کیلئے کسی اعزاز سے کم نہیں۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ پنجاب یوینوسٹی کو عالمی رینکنگ میں شامل کرنے کیلئے وائس چانسلر، اساتذہ، طلبہ و طالبات اور جملہ ملازمین ’’اپنے اپنے حصے‘‘ کا کام کر جائیں تاکہ میری مادر علمی (جامعہ پنجاب) جس طرح اپنے تاریخی پس منظر، اور پرشکوہ محل و قوع کے اعتبار سے لاثانی ہے اسی طرح تعلیم و تربیت کے میدان میں بھی شان و عظمت کا استعارہ بن جائے اور تعلیم و تحقیق اس پر ہمیشہ نازاں رہے۔
خدا کرے میری ارض پر اترے
وہ فصل گل جسے اندیشہ زوال نہ ہو
پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ علم و تحقیق میں جہاں جہاں جائیں دنیا وہاں وہاں ان کی راہوں میں آنکھیں بچھائے اور ایک سرائیکی شاعر کی زبان میں یوں۔
راہ تے دید و چھیسن اکھیں
ڈیکھ تے ٹھر ٹھر ویسن اکھیں
جے تئیں تسیں لنگھ نہ آسو
پیلیاں نہ جھمکیسن اکھیں
پروفیسر ڈاکٹر زکریا ذاکر کے پاس انتہائی قابل اور بین الاقوامی شہرت یافتہ اساتذہ کی ٹیم موجود ہے جن میں پروفیسر ڈاکٹر خالق داد ملک، پروفیسر ڈاکٹر سید قمر علی زیدی، پروفیسر ڈاکٹر حماد لکھوی، پروفیسر ڈاکٹر شاہد منیر، پروفیسر ڈاکٹر افتخار تارڑ سمیت سینکڑوں اساتذہ اور فاضلین جامعہ شامل ہیں۔ لہٰذا ’’ٹیم ورک‘‘ کے ذریعے ایسی جدوجہد کی ضرورت ہے کہ دنیا پنجاب یونیورسٹی کے اساتذہ کو اپنی یونیورسٹیوں میں بلاکر رہنمائی حاصل کرے۔ پنجاب یونیورسٹی کے گریجویٹس کو اپنی یونیورسٹیوں تک تعلیم و تحقیق کیلئے رسائی دے اور جامعہ ازہر کی طرح ہمارے ’’شیخ الجامعہ‘‘ کی رائے کو بھی پالیسی سازی میں جگہ دی جائے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
فائنل