فوج عدلیہ کیساتھ بیک ڈور بات چیت نہیں ہورہی :وزیر اعظم

31 جنوری 2018

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی)و زیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے قومی اسمبلی تحلیل ہونے سے ایک ماہ قبل نگران وزیر اعظم کی تقرری پر قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیٖڈر سے مشاورت کی جائے گی میرا قوم سے وعدہ ہے ایک ایسا دیانت دار وزیر اعظم دوں گا جس پر کوئی انگلی نہیں اٹھا سکے گا ۔2013ء کے نگران وزیر اعظم نے دو ماہ میں ممنوعہ بور کے 45ہزار لائسنس جاری کر دئیے تھے گیس پر پابندی کے باوجود 12بڑے اداروں کو گیس کے کنکشن دئیے میرا آج بھی یہی موقف ہے کہ میاں شہباز شریف کو آئندہ انتخابات کے لئے وزیراعظم نامزد کرنے کے حوالے سے پارٹی کے کسی فورم پر فیصلہ نہیں ہوا۔ پارٹی کے اعلیٰ فورم سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور سنٹرل ورکنگ کمیٹی ہیں جس میں فیصلے کئے جاتے ہیں میاں نواز شریف نے اس بات کا عندیہ تھا میاں شہباز شریف وزیر اعظم ہوں گے لیکن اس بات کا فیصلہ آئندہ انتخابات کے نتائج کو پیش نظر رکھ کر پارٹی کرے گی. مجھ سے پوچھا گیا تھا آئندہ انتخابات میں کس کی تصویر پر انتخاب لڑیں تو میں نے کہا کہ آئندہ انتخابات میں عوام میری یا شہباز شریف کی تصویر پر مسلم لیگ ن کو ووٹ نہیں دیں گے بلکہ نواز شریف جو ہم سب کے لیڈر ہیں اس پر ہی الیکشن لڑیں گے ہمیں نواز شریف کے نام پر ہی ووٹ پڑیں گے عوام جس جماعت کے حق میں فیصلہ کریں گے وہ حکومت بنا لے گی امیدوار چوکنا ہو تو انتخابات میں دھاندلی نہیں کی جا سکتی کوئی ادارہ کسی امیدوار کے حق میں دھاندلی کیوں کرے گا، الیکشن میں ہر امیدوار کامیابی کیلئے اپنا اپناز ور لگائے گا چوہدری نثار علی خان اور پرویز رشید پارٹی کے اہم رہنما ہیں ، بیانات کوئی مسئلہ نہیں، اختلافات گھرمیں بھی ہو جاتے ہیں، یہ مسئلہ بھی حل ہو جائے گا، فوج اور عدلیہ دو ریاستی ادارے ہیں سب کا مقصد ملک کی بہتری ہے، فوج اور عدلیہ کے ساتھ بیک ڈور بات چیت نہیں ہو رہی ، آئین نے رشتے بنا دیئے ہیں، بات چیت سامنے ہوتی ہے انہوں نے یہ بات پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس (دستور)کے وفد سے بات چیت کرتے ہوئے کہی جس نے وزیر اعظم آفس میں محمد نواز رضا کی قیادت میں ملاقات کی، جس میں صحافیوں کی تنخواہوں اور دیگر صحافتی مسائل پر گفتگو ہوئی۔ وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا سینٹ الیکشن میں پارٹی امیدوار سے ہٹ کر ووٹ دینے والے کا عوام احتساب کریں گے،،نوازشریف کو پہلے بھی سزا ہوئی تھی پھر بھی وزیراعظم بنے، کسی کو ایک دن، کسی کو پوری زندگی کیلئے نااہل قراردیا گیا، عجیب فیصلے ہیں، مسلم لیگ (ن) کو ڈیڑھ کروڑ عوام نے ووٹ دئیے ہیں باقی مسلم لیگی دھڑے تانگہ پارٹیاں ہیںانہوں نے کہا کہ صحافتی تنظیموں میں اتحاد نہیں پھر بھی ہم ویج ایوارڈکا مسئلہ حل کرنے کی کوشش کریں گے،جرنلسٹس تنظیمیں اتحاد پیدا کریں تا کہ صحافیوں کے مسائل حل کرنے میں آسانی ہو، صحافیوں اور میڈیا مالکان کے تحفظات دور کرنے کیلئے وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اورنگزیب کو ذمہ داری سونپ دی ہے،۔انہوں نے سی پی این اور اے پی این ایس کے وفد کی ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا ان سے ملاقات میں میڈیا مالکان نے کچھ تحفظات ظاہر کئے تھے،جلدمسائل حل ہو جائیں گے۔ انہوں نے کہا صحافیوں کے مسائل مل بیٹھ کر حل کریں گے،ویج ایوارڈ ، بھارہ کہو ہاسنگ سکیم ،انشورنس اور صحافیوں کی تنخواہوں کی عدم ادائیگی کا مسئلہ بھی یقینی حل کریں گے، جس طرح شوگر ملز کے مسائل حل کئے۔وزیراعظم نے کہا یہ بات درست ہے مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف نے شہباز شریف کو آئندہ وزیراعظم نامزد کیا لیکن کچھ لوگ ابہام پیدا کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں، انہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا مسلم لیگ (ن) ہی واحد جماعت ہے جسے عوام میں پذیرائی حاصل ہے۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا اپوزیشن کا کام بیان بازی کرنا ہے جبکہ ہمارا کام عوام کی خدمت کرنا ہے،الیکشن میں نتائج سب کے سامنے آ جائیں گے اور پتہ چل جائے گا کس نے کام کیا اور کس نے تنقید کی۔ الیکشن میں دھاندلی کے حوالے سے وزیراعظم نے کہا ہر امیدوار الیکشن جیتنے کیلئے زور لگاتا ہے کوئی ادارہ دھاندلی نہیں کرنے دیتا۔ 2013کی نگران حکومت کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ اس حکومت کا کام قوم کے سامنے آ چکا ہے،اب ہم چاہتے ہیں کہ ایسا نگران سیٹ اپ ہو جس پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے، میرے ذہن میں کچھ نام ہیں ان ناموں پرمشاورت کے بعد ہی بات چیت کی جا سکتی ہے۔ آئین کے آرٹیکل 62ون ایف پر بات چیت کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا نا اہلی معاہدے کی مدت عدلیہ نے طے کرنی ہے کسی کو ایک ماہ، کسی کو دو ماہ اور کسی کو ایک سال کی نااہلی کے معاملات عدلیہ ہی حل کرے گی۔ ایک سوال کے جواب میں وزیراعظم نے کہا سپریم کورٹ نے نواز شریف کو اسمبلی رکنیت سے نا اہل قرار دیا تھا لیکن پارٹی صدارت سے نہیں اس لئے وہ پارٹی کے صدر رہ سکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا نواز شریف کو ہائی جیکر بنا کر باہر بھیج دیا گیا تھا، وہ پھر واپس آ گئے، اب پانامہ سے فیصلہ شروع ہو کراقامہ پر آ گیا ہے،اب عوام کارکردگی پر فیصلہ کریں گے ۔ وزیراعظم نے کہا سینٹ انتخابات میں صوبوں میں ایم پی ایز اور وفاق میں ایم این ایز نے ووٹ دینے ہیں جو اپنا ضمیر بیچے گااسے بعد میں دیکھیں گے۔ پاکستان میں احتساب صرف سیاستدانوں کا ہوتا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ میں نے کہا تھا کہ نواز شریف کی تصویر پر ہی ووٹ ملے گا، میری یا شہباز شریف کی تصویر لگانے سے ووٹ نہیں ملے گا، جس طرح جہانگیر ترین یا شاہ محمود قریشی کی تصویر لگانے سے تحریک انصاف کو ووٹ نہیں مل سکتا، اسی طرح نواز شریف کی تصویر پر ہی مسلم لیگ (ن) کو ووٹ ملے گا۔ قبل ازیں پی ایف یو جے کے صدر نواز رضا اور سیکریٹری جنرل سہیل افضل نے صحافیوں کے مسائل پر روشنی ڈالی وزیراعظم نے پی ایف یو کے صدر کو ویج ایوارڈ، صحافیوں کی انشورنس اور تنخواہوں کی عدم ادائیگی جیسے مسائل حل کرنے کی یقین دہانی کرائی۔ آن لائن کے مطابق وزیراعظم نے کہا عدلیہ اور فوج کے ساتھ بیک ڈور کوئی رابطہ نہیں تاہم دونوں ادارے ریاست ہی کے ہیں سب مل جل کر کام کر رہے ہیں۔ نواز شریف کو ماضی میں بھی سزا ہوئی تھی لیکن وہ دوبارہ وزیراعظم بنے، سیاست کے فیصلے عدالت میں نہیں عوام میں ہونے چاہئیں، فیصلے ایسے ہونے چاہئیں تاریخ جن کو یاد رکھے اب ایسے فیصلے ہو رہے ہیں جنہیں شاید ہی تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔