واٹر کمیشن نے چیف سیکرٹری سندھ سے ورک پلان طلب کر لیا

31 جنوری 2018

کراچی (وقائع نگار) واٹر کمیشن نے چیف سیکرٹری سے بدھ تک ورک پلان طلب کر لیا ۔ کمیشن نے واٹر بورڈ اور بلدیاتی اداروں کے استحکام کیلئے اقدامات کی رپورٹ بھی پیش کرنے کی ہدایت کر دی ۔ سندھ ہائیکورٹ میں واٹر کمیشن کے سربراہ جسٹس(ر) امیر ہانی مسلم کی سربراہی میں معاملے پر سماعت ہوئی ۔ کمیشن کے روبرو چیف سیکرٹری و چیئرمین پلاننگ و ڈویلپمنٹ پیش نہ ہو سکے ۔ کمیشن کے روبرو ایڈیشنل سیکرٹری ریحان بلوچ ‘ ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل سرور خان اور دیگر پیش ہوئے ۔ کمیشن کے سربراہ نے چیف سیکرٹری اور چیئرمین پلاننگ و ڈویلپمنٹ کی عدم پیشی پر سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ کمیشن کے روبرو ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کا کہنا تھا کہ چیف سیکرٹری نے ماہرین کا اجلاس ایک بجے بلایا ہے اس لئے وہ پیش نہیں ہو سکے ۔ کمیشن کے سربراہ نے ریمارکس دیئے کہ اگر حکومت نے اپنا پلان نہیں دیا تو میں اپنا پلان دوں گا۔ کمیشن کے سربراہ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم نے سولڈ ویسٹ مینجمنٹ بورڈ کی کارکردگی پر بھی سخت برہمی کا اظہار کیا ۔ جسٹس (ر) امیر ہانی مسلم کا اپنے ریمارکس میں کہنا تھا کہ سولڈ ویسٹ نے جو کام کیا اس کی کارکردگی کا ہمیں پتہ چل گیا ہے ۔ سول اسپتال اور لیاری اسپتال کا برا حال ہے ۔ کمیشن کے سربراہ نے ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ ریحان بلوچ سے استفسار کیا کہ اب تک انسنریٹرز کیوں نہیں لگائے گئے تو ان کا کہنا تھا کہ ہم نے اس حوالے سے کنسلٹنٹ ہائر کر لیا ہے ۔ کمیشن کے سربراہ نے دوبارہ استفسار کیا کہ آپ کتنے عرصے میں ایم ایس اسپتال تعینات کرتے ہیں جس کا جواب ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ نہ دے سکے تو کمیشن کے سربراہ نے سخت برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سول اسپتال میں ایک پروفیسر کو ڈی ڈی او کے اختیارات کس قانون کے تحت دیئے گئے ۔ مجھے سب پتہ ہے ۔ سندھ میں کوئی اسپتال ایسا نہیں جو صحیح کام کر رہا ہو ۔ سپریم کورٹ نے انسنریٹرز لگانے کا حکم دیا لیکن اب تک عدالتی حکم پر عمل نہیں کیا گیا میں آج ہی یہ معاملہ سپریم کورٹ کو بھیج رہا ہوں۔

امیر ہانی مسلم