سورۃ بقرہ کے مضامین (۹)

31 جنوری 2018

حضرت موسیٰؑ :اللہ رب العزت کے جلیل القدر اور الوالعزم پیغمبروں میں سے حضرت موسیٰؑ کلیم اللہ ایک ہیں، آپکی مبارک اور محمود زندگی عبادت، ریاضت، زہد، تقویٰ، جہد مسلسل، جہاد اورمحبت الٰہی کے گہرے گداز سے عبارت ہے، قرآن مجید کے متعدد مقامات پر آپکا ذکر خیر انتہائی محبت سے کیا گیا ہے، بنی اسرائیل جیسی قوم کو ہدایت سے آشنا کرنے کیلئے انھوں نے جو انتھک جدوجہد کی وہ آپ ہی کا حصہ ہے، آپ فرعون ریمسیس کے عہد میں پیدا ہوئے، امام فخرالدین رازی تحریر فرماتے ہیں، لفظ ’’موسیٰؑ‘‘ عبرانی زبان کا لفظ ہے اور یہ دو کلموں سے مل کر بنا ہے، ’’مو‘‘ کا معنی ہے، پانی اور ساکی معنی ہے، درخت حضرت موسیٰؑ کو انکی والدہ نے فرعون کے خوف سے تابوت میں رکھ دیا تھا اور اس تابوت کو دریا میں بہا دیا، پانی کی لہریں اس تابوت کو فرعون کے گھر کے قریب درختوں کے جھنڈ میں لے آئیں اور آپ فرعون کی اہلیہ آسیہ تک پہنچ گئے، چونکہ اسے یہ بچہ پانی اور درختوں میں ملا تھا اس مناسب سے اس نے آپکا نام موسیٰ رکھ دیا، آپکا نسب اسطرح ہے: موسیٰ بن عمران بن یصھر بن قاعث بن لادیٰ بن یعقوب بن اسحاق بن ابراہیم علیہم السلام۔ (تفسیر کبیر) فرعون نے محل میں آپکی پرورش ہوئی، جوان ہوئے تو ایک واقعہ کے نتیجے میں ندائن کی ہجرت کر گئے، وہاں عائلی زندگی اختیار کی اور تکمیل کے مرحلوں سے بھی سرفراز ہوئے، فرازِ طور پر اللہ رب العزت سے ہم کلام ہونیکا شرف حاصل کیا، اور فرعون سے مکالمے اور بنی اسرائیل کی تبلیغ و تربیت پر مامور کیے گئے واپس مصر پہنچے تو فرعون سے کشاکش اور ایک طویل اور انتھک جدوجہد کا آغاز ہوا، کلام اللہ کے مختلف مقامات پر ان واقعات کا ذکر کیا گیا، سورہ بقرہ میں بنی اسرائیل پر اس انعام کا ذکر کیا گیا کہ اللہ رب العزت نے انھیں فرعون کے مظالم سے نجات عطاء فرمائیں اوران کیلئے سمندر میں راستے کشادہ کر دیئے گئے۔ معجزئہ فلقِ بحر اور فرعون کی غرقابی:حضرت موسیٰؑ نے اپنی قوم کو ارشاد فرمایا کہ اب اللہ تعالیٰ کے حکم سے مصر سے نکلنے کا حکم ہے، اسکی تیاری کر لو، نکلنے سے پہلے قربانی اور عید فسح کا حکم ہوا، کنعان اور فلسطین کیلئے خشکی کا راستہ شمال مغرب کی جانب تھا، حضرت موسیٰؑ نے مشرق کی سمت واقع بحر قلزم کا رخ کیا، بحیر قلزم دراصل، بحیرہ عرب کی ایک شاخ ہے اسکے مشرق میں عرب اور مغرب میں مصر واقع ہے، جب بنی اسرائیل تقریباً چھ لاکھ کی تعداد میں نکلے تو فرعون کے عمائدین نے اسے احساس دلایا کہ ان تعداد نہیں مفت بیگار کرنیوالوں کا یہاں سے چلے جانا مناسب نہیں ہے، فرعون نے بنی اسرائیل کا تعاقب کرنا شروع کر دیا، عین اسوقت جبکہ سمندر کی سرکش موجیں انکے سامنے تھیں فرعون کے ہتھیار بند لشکر نے انھیں آلیا، بنی اسرائیل سخت گھبراہٹ کا شکار ہو گئے لیکن حضرت موسیٰؑ نے انھیں سرزنش فرمائی اپنا عطا پانی پر مارا اس میں بارہ راستے کشادہ ہو گئے، اور وہ سلامتی کیساتھ پار اتر گئے، فرعون اور اسکا لشکر انکے تعاقب میں آگے بڑھے تو پانی آپس میں مل گیا اور وہ غرق ہو گئے۔