پاکستان کا وکیل بلاول، اقبال اور افغان

31 جنوری 2018

بھٹو خاندان محب وطنی کے اعتبار سے پاکستان کا نمبرون خاندان بن چکا ہے۔ اس خاندان سے سیاسی غلطیاں ضرور ہوئی ہوں گی مگر تاریخ اور تحقیق کی سند یہ ہے کہ بھٹو خاندان اپنی سرزمین کے ساتھ جڑا رہا اور اپنی دھرتی کے قومی مفادات نظرانداز کرتے ہوئے کسی بیرونی قوت کا آلۂ کار نہ بنا۔ پاکستان کے نامور محقق منیر احمد منیر اپنی کتاب ’’دی گریٹ لیڈر‘‘ جلد دوم صفحہ نمبر 7پر لکھتے ہیں کہ ذوالفقار علی بھٹو کے انکل لاڑکانہ کے سردار نبی بخش بھٹو اگر1946ء کے انتخابات میں تحریک پاکستان کے حساس موڑپر مسلم لیگ کا ساتھ نہ دیتے تو سندھ کو پاکستان میں شامل کرنا ممکن نہ ہوتا۔ سرشاہنواز بھٹو نے بھی قائداعظم کا ساتھ دیا اور تحریک پاکستان میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے ایٹمی صلاحیت کیلئے وطن پر اپنی جان نثار کردی اور ہمیشہ کیلئے پاکستان کو ایٹمی سایہ فراہم کردیا۔ بے نظیر بھٹو نے پاکستان کے دفاع کیلئے ایٹمی میزائل حاصل کیے اور قومی مقاصد کیلئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کردیا۔ بے نظیر بھٹو کا تربیت یافتہ بیٹا بلاول بھٹو حب الوطنی کی طویل روایت کا امین بن چکا ہے۔ بلاول بھٹو نے ڈیوس میں انڈیا ٹوڈے اور انڈین چینل کو انٹرویو دیتے ہوئے اپنی سیاسی بصیرت اور حب الوطنی کا ثبوت پیش کیا اور پاکستان کی پرعزم اور دوٹوک وکالت کی۔ جب بلاول سے پاک فوج کے بارے میں سوال کیا گیا تو پاکستان کے وکیل بلاول بھٹو نے پاک فوج کا دفاع کیا اور اسکی دہشت گردی کے خاتمے کیلئے خدمات اور قربانیوں کو سراہا۔ بلاول نے بھارت اور پاکستان کے نوجوانوں کو امن کا توانا پیغام دیا اور کہا کہ امریکہ اور بھارت پاکستان کو ڈکٹیٹ کرکے جنوبی ایشیا کو مضبوط اور مستحکم نہیں بنا سکتے۔ باہمی افہام و تفہیم اور ایک دوسرے کے احترام اور عزت کے اُصول پر ہی امن کا قیام ممکن ہوسکتا ہے۔

بلاول نے مودی کو گجرات کے سانحہ کے ساتھ جوڑا اور کہا کہ پاکستان کے عوام کو مودی کے بارے میں جائز تحفظات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریاستوں کے درمیان تعلقات افراد اور خاندان کی بنیاد پر نہیں بلکہ ریاستوں کی بنیاد پر ہونے چاہئیں۔ لیڈرز کو خفیہ ملاقاتیں کرکے اپنے عوام کے ذہنوں میں شکوک وشبہات پیدا کرنے کی بجائے میڈیا کے سامنے شفاف ملاقاتیں کرکے تنازعات کو حل کرنا چاہئیے تاکہ عوام کے ذہنوں میں اپنے لیڈروں کے بارے میں اعتماد برقرار رہے ۔ بلاول نے کہا کہ ہمیں دہشت گردی کے ساتھ انتہا پسندی کیخلاف بھی جدوجہد کرنی چاہیئے اور فوجی آپشن کے علاوہ دوسرے آپشنز پر بھی غور کرنا چاہیئے۔ بلاول نے امریکی صدر ٹرمپ کو یاد دلایا کہ امریکہ نے پاکستان کو امداد بھیک کے طور پر نہیں دی بلکہ ان خدمات کے عوض دی ہے جو پاکستان نے دہشتگردی کیخلاف جنگ میں فراہم کیں۔ عالمی اور قومی میڈیا نے بلاول بھٹو کی سیاسی بصیرت اور اعلیٰ سفارت کاری کو سراہا۔ پاکستان کی وکالت وہی لیڈر کرسکتا ہے جسکے ذاتی، خاندانی اور تجارتی مفادات نہ ہوں۔ بلاول بھٹو کو امریکہ میں پاکستان کی سابق سفیر شیری رحمن کی معاونت حاصل تھی۔ بلاشک بلاول بھٹو نوجوانوں کو اپنی خداداد صلاحیتوں سے متاثر کررہے ہیں۔ اگر بلاول بھٹو اپنے والد آصف زرداری کے سیاسی دبائو سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوگئے تو وہ مستقبل میں پاکستان کے کامیاب لیڈر ثابت ہونگے اور پاکستان انکی صلاحیتوں سے فائدہ اُٹھاسکے گا۔ بلاول اپنے عظیم نانا ذوالفقار علی بھٹو کی طرح عوام سے براہ راست رابطہ رکھیں اور اپنے شفاف ذاتی کردار سے نوجوانوں کے دل اور دماغ جیتنے کی کوشش کریں۔ پاکستان کو بے لوث باکردار اور اہل قیادت کی ضرورت ہے جو قومی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دیکر پاکستان کو ترقی اور خوشحالی کی راہ پر گامزن کرسکے۔ پاکستان قدرتی خزانوں سے مالا مال ملک ہے جس کی ستر فیصد آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ سوہنی دھرتی نیشلسٹ قیادت کو ترس رہی ہے۔ اگر بلاول بھٹو قائداعظم کو اپنا سیاسی رول ماڈل بنالیں تو وہ پاکستان کے مقبول سیاسی لیڈر بن کر قیادت کے خلاء کو پرکرسکتے ہیں۔
کابل افغانستان میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران المناک خودکش حملوں میں سینکڑوں افغان بھائی شہید اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔ کابل میں جب بھی دہشت گردی کا سانحہ ہوتا ہے پاکستانیوں کے دل دہل جاتے ہیں۔ امریکہ کی تاریخ گواہ ہے کہ وہ دنیا کا سب سے بڑا دہشتگرد ملک ہے جو دنیا کے لاکھوں انسانوں کو اپنے جدید اسلحہ سے ہلاک کرچکا ہے۔ وہ عالمی قوانین کو پامال کرتے ہوئے افغانستان پر قابض ہے۔
افغان طالبان اپنے ملک کو آزاد کرانے کیلئے جہاد کررہے ہیں مگر دکھ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے مسلمان ہی جان بحق ہورہے ہیں۔ اگر افغانستان سے امریکہ اور نیٹو کی افواج نکل جائیں تو علاقائی طاقتیں مشاورت سے افغانستان میں مستقل امن قائم کرسکتی ہیں۔ علامہ اقبال نے ایک صدی قبل افغانستان کے بارے میں جو لکھا وہ آج بھی سچ ثابت ہورہا ہے۔ اقبال افغانستان اور ملت افغانیہ کے بڑے مداح تھے۔ انہوں نے ’’جاوید نامہ‘‘ میں تحریر کیا ’’ایشیا آب و گل کا ایک پیکر ہے اور اس پیکر کے اندر ملتِ افغان دل کی مانند ہے۔ اسکے فساد سے سارے ایشیا میں فساد رونما ہوسکتا ہے اور اسکے سکون سے پورا ایشیا سکون اور امن سے ہمکنار ہوگا۔ اگر دل آزاد ہے تو بدن بھی آزاد ہے۔ دل آزاد نہ ہو تو بدن ایک تنکے کے برابر ہے جسے ہوا جب چاہے اُڑالے جائے‘‘۔ [زندہ اقبال: صفحہ نمبر 230]
امریکی اور نیٹو افواج اگر کابل میں بھی افغان عوام کے جان و مال کا تحفظ نہیں کرسکتیں تو ان کا افغان سرزمین پر قابض رہنے کا کیا جواز باقی رہ جاتا ہے۔ امریکہ کی بے شرمی کی انتہا یہ ہے کہ وہ اپنی ذمے داری قبول کرنے کی بجائے ہرخودکش حملے کا الزام پاکستان پر لگاتا رہتا ہے۔ پاکستان کا امن افغانستان کے امن کے ساتھ وابستہ ہے لہذا پاکستان کبھی کابل میں دہشت گردی کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا۔ جو ملک دہشت گردی کیخلاف جنگ میں بھاری جانی اور مالی قربانیاں دے چکا ہو اسے قربانی کا بکرا بنانے کی کوششیں کامیاب نہیں ہوں گی۔ اب شاید وقت آگیا ہے کہ چین ، روس، ایران اور پاکستان مشترکہ طور پر امریکہ پر سفارتی دبائو ڈال کر اسے افغانستان سے نکلنے پر مجبور کردیں کیونکہ امریکہ نے جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کو خطرے میں ڈال رکھا ہے۔ بھارت کو بھی اپنی نسلوں کے مستقبل کیلئے ہوش کے ناخن لینے ہونگے اور بقائے باہمی کے اُصول پر عمل کرنا ہوگا۔پاکستان بھارت اور افغانستان کے نوجوان اپنے مستقبل کی خاطر امن اور استحکام کیلئے فیصلہ کن کردار ادا کرسکتے ہیں۔ وہ اپنے ملکوں کی روایتی سیاسی قیادتوں سے جان چھڑا لیں اور کسی ایسی قیادت میں متحد ہوجائیں جس کے اوصاف علامہ اقبال نے بیان کیے تھے۔ ’’اگر آپ مجھ سے دریافت کریں تو میں کہوں گا کہ افغانستان کو ایک ایسے مرد کی ضرورت ہے جو اس ملک کو قبائلی زندگی سے نکال کر وحدتِ ملی کی زندگی سے آشنا کرسکے اور مجھے خوشی ہے کہ افغانستان کو ایک ایسا مرد کامل مل گیا ہے جس کا وہ عرصہ سے انتظار کررہا تھا اور مجھے یقین ہے کہ اعلیٰ حضرت نادرشاہ کی شخصیت کو اسی لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ افغانستان کو ایشیا میں ایک نئی قوم بنا کردنیا سے متعارف کرائیں۔ اس ملک کے نوجوانوں کو چاہیئے کہ اس بزرگ رہنما کو اپنی تعلیم و تربیت کا معلم سمجھیں کیونکہ اُنکی زندگی ایثار، اخلاص اور اپنے ملک کے ساتھ صداقت اور اسلام کے ساتھ عشق و محبت سے لبریز ہے‘‘۔ (عبدالواحد معینی: مقالاتِ اقبال صفحہ 261)
اگر پاکستان، بھارت اور افغانستان کے نوجوان قائداعظم اور علامہ اقبال کے سیاسی اور اخلاقی تصور اور نظریہ سے باشعور ہوکر اپنے ملکوں کی غیر نظریاتی اور مفاداتی قیادتوں سے جان چھڑا لیں اور قوم پرست عوام دوست اور محب وطن قیادتوں کا انتخاب کرلیں تو جنوبی ایشیا کے تینوں ممالک دنیا کے آزاد، خودمختار اور مستحکم ملک بن سکتے ہیں۔ کیا بلاول بھٹو جنوبی ایشا کے نوجوانوں کو متاثر ، باشعور اور متحد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اسکے بارے میں تجزیہ قبل از وقت ہوگا البتہ یقینی طور پر جنوبی ایشیا کے مقدر اور مستقبل کا تعین نوجوانوں کو ہی کرنا ہے۔