زن' زر اور بگڑے عرب شہزادے

31 جنوری 2018
زن' زر اور بگڑے عرب شہزادے

قطر کے جاری بحران کے اصل محرکات کیا ہیں سعودی عرب اور اس کے اتحادیوں کے غصے کے پس پردہ کہانی کون سے رخ لے رہی ہے یہ مسافر پیرس سے ساری رات سفر کرکے دوحہ قطر پہنچا تو نئے حقائق اور انکشافات اس کالم نگار کے منتظر تھے جس کا محرک کوئی اور نہیں قطر کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ تھے۔ خطرات اور محاصرے میں گھرے قطر کے وزیرخارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی نے چار عرب اتحادیوں کی ناراضگی کے اصل راز سے آخر کار پردہ اٹھاہی دیا جس کا آغاز ایک "نافرمان" خاتون کو متحدہ عرب امارات کی طلبی پر قطر کے انکار سے شروع ہوا تھا۔ قطر کے اس سنگین ’جرم‘ پر ’آتش مزاج‘ چار عرب ممالک نے قطر کو سزا دینے کا فیصلہ کیا۔ کہاں دہشت گردی کے خاتمے کی لمبی چوڑی داستانیں، منصوبے اور بلند و بانگ دعوے اور کہاں یہ حقیقت کہ ایک مظلوم عورت کو قابو کرنے کیلئے عرب دنیا کو سنگین بحران کی بھٹی میں جھونک دیا۔ پوری امت کے اتحاد کو دائو پر لگا دیا۔ 

قطر کے وزیرخارجہ محمد بن عبدالرحمن الثانی بتاتے ہیں کہ سنگین سفارتی بحران میں ڈھلنے والا یہ قضیہ ایک پاسپورٹ کی تجدید سے شروع ہوا۔ متحدہ عرب امارات، یواے ای نے اپنے ایک نافرمان شہری اوراپوزیشن رہنما کی اہلیہ کی حوالگی کا مطالبہ کیا جسے قطر نے تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ یواے ای کو قطرکی یہ جسارت پسند نہ آئی اور اپنے ہمسائے پر آستانیں چڑھالیں۔ میڈیا پر قطر کے خلاف ابلاغی جنگ کا باضابطہ آغاز کردیا۔
2013ء میں حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والا یہ رہنما اپنی اہلیہ کے ہمراہ یواے ای سے قطر ہجرت کرگیا تھا۔ بعدازاں شوہر نے برطانیہ میں سکونت اختیارکرلی لیکن اسکی اہلیہ رشتہ داروں کے ساتھ قطر میں ہی مقیم رہی۔ اس دوران خاتون نے اپنے پاسپورٹ کی تجدید کیلئے یواے ای سفارت خانہ سے رابطہ کیا جہاں اسکی سفری دستاویز کی تجدید سے انکار کرتے ہوئے قطر حکومت سے مطالبہ کیاگیا کہ خاتون کو فی الفور یواے ای حکومت کے حوالے کیا جائے۔
معاملہ یہیں نہیں رْکا۔ ابوظہبی کے ولی عہد شیخ محمد بن زید نے اپنے کئی ایلچی امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی کے پاس بھجوائے اور اپنا مطالبہ دہرایا۔ شیخ تمیم نے یہ درخواست مستردکردی۔ امیر قطر کا موقف تھا کہ خاتون پر کسی جرم کے سرزد ہونے کا الزام نہیں لہٰذا اسے یواے ای کے حوالے نہیں کیا جا سکتا۔ یہ اقدام عالمی قانون اور قطری دستور کے منافی ہوگا۔ چھ ماہ قبل قطر کے ہمسایوں یعنی یواے ای، سعودی عرب، بحرین اورمصر نے نہ صرف سفارتی تعلقات منقطع کرلئے بلکہ قطر کے بری، بحری اور فضائی راستے بھی مسدود کر دئیے۔ جیسے آج بھی پنجاب کے دیہات میں "کمی کمینوں" کو سزا دینے کیلئے اس کا راستہ بندکر دیا جاتا تھا۔ پابندیوں'رکاوٹوں اور غیر انسانی محاصرے کی وجہ سے قطر کو شدید مالی نقصان اور سلامتی کے امور میں سنگین مسائل کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ دو ماہ قبل سفارتی بحران کی شدت مزید بڑھی اور یواے ای نے میڈیا پر قطر کو نشانہ بنانے کی بھرپور اورمنظم مہم کا آغاز کردیا۔ قطر کے وضاحت طلب کرنے پرجواب ملا کہ خاتون حوالے کردو، میڈیا کو لگام دے دی جائیگی۔ دوحہ نے ایک بارپھر خاتون کی حوالگی کا اصرار نامنظور کردیا۔ اس گستاخی پر آگ بگولا یواے ای شکایت کا پٹارا لئے شریفین کے پاس جاپہنچا۔ امیر قطر نے ولی عہد کے جاہ وجلال سے گمنامی کے پردے میں گم ہوجانیوالے شہزادہ محمد بن نائف کو آگاہ کیا۔ شہزادہ محمد نے تنی گردن کے ساتھ قطر کو اچھا بچہ بن کر خاتون یواے ای کے حوالے کرنے کی تلقین کی اور تسلی کرائی کہ ایسا کرتے ہی معاملہ فَٹ سے ٹھیک ہوجائے گا۔ بھولا بسرا گیت یاد آرہاہے۔
بھولی صورت دل کے کھوٹے
نام بڑے اور درشن چھوٹے
قطری وزیرخارجہ کا انکشاف ایسا تھاکہ منہ کھلے رہ گئے۔ قدیم یونانی ادب کو شاہکار شاعری سے زندہ رکھنے والے ہومر کی ’ہیلن آف ٹروئے‘ کا تاریخی کردار یاد آگیا۔ ہیلن کی خوبصورتی ہی اسکی دشمن تھی کہ پورا یونان ہی ریاست ٹراوئے پر ٹوٹ پڑاتھا۔ ٹراوئے کے شہزادے ’پیرس‘ کی محبت کا تاوان اسکی ریاست نے اداکیا۔ دس سال اس عورت کی واپسی کے مشن پر ڈٹی یونان اور اتحادی فوج ٹراوئے کا محاصرہ کئے رہی۔ ’کاٹھ کا گھوڑا‘ یعنی ’ٹروجن ہارس‘ یہیں سے ضرب المثل بنا۔ یہی گھوڑا تھا جس میں چھپے یونانی لڑاکا جتھوں میں دیومالائی جنگجو کردار’ایکلیس‘بھی شامل تھا جنہوں نے اس خوبصورت ریاست کی اینٹ سے اینٹ بجادی اور خود بھی ماراگیا۔
اسی طرح کا ایک قصہ تاریخ میں 1298سے 1300 عیسوی کے دوران ’تھربھنگھار‘ کے مقام پر دہلی سلطنت کے سلطان علائوالدین اور سندھ کے بادشاہ اسد الملت دودو کے درمیان ہولناک جنگ کاسبب بنا تھا جس میں ہزاروں سپاہی جان سے گئے۔ اس جنگ کی وجہ شہزادی بلقیس بھاگی تھی جو اسدالملت دودو سومرو کی بہن تھی۔ اس خاتون کوتاریخ میں پاکباز، حسین وجمیل اور ریاستی امور میں دانا کردار کے طورپر یاد کیا جاتا ہے۔ روایت ہے کہ اسکے حسن کے چرچے تونہ تھے لیکن کسی طرح یہ خبر جنرل ظفرخان کو ٹھٹھہ میں مل گئی۔ وہ شہزادی کو پاناچاہتاتھا لیکن اس نے علائوالدین کی عسکری قوت استعمال کی۔ دودو اور اس کے بھائی سلطان چینیسر میں چپقلش کو سندھ کی بادشاہی کی حصول کی لالچ کی صورت پیش کیا۔ یہ جنگ ظفرخان کی فوج اور اسکی زندگی کھاگئی۔ دو دو سومرو کے بعد چینیسر اور پھر بلقیس بھاگی اور دیگر خواتین کو امان دینے والاراجپوت ابڑوسامو آف ’کچھ‘ جانثاروں سمیت لہو میں نہلوادیاگیا۔ تاریخ کے خونی صفحات میں درج ہے کہ پہاڑوں میں پناہ لینے والی بلقیس نے عزت کے تحفظ کی دعا کی اور دیگر خواتین کے ہمراہ زمین پھٹنے پر اس میں سماگئی۔ زیادہ تر جنگیں علاقے، وسائل اور سیاسی اختیار ومفاد کیلئے لڑی گئی ہیں لیکن بعض کے نزدیک چھ جنگیں فروعی اور کچھ کے مطابق مضحکہ خیز وجوہات پر لڑی گئیں۔ ایسی ہی ایک جنگ ’پِگ وار‘ کے نام سے جانی جاتی ہے جو امریکہ اور برطانیہ کے درمیان 1859ء میں سین جوآن جزیرہ پر ہوئی۔امریکی کسان لے مین کٹلر نے ایک برطانوی کا سیاہ سؤر ماردیا کہ وہ اسکے آلو کے کھیت اجاڑتا ہے۔ کئی ہفتے جاری رہنے والی فوجی صف بندی کے بعد تقریبا پانچ ماہ کے بعد معاہدہ پر یہ تنازعہ ختم ہوسکا۔
ایک قصہ 532عیسوی کا ہے جب یونانی گھڑدوڑ کے روایتی تانگوں کی لڑائی ’نیکا فساد‘ کے نام سے تاریخ کے صفحات میں رقم ہوئی۔ بیسویں صدی میں کتے کی وجہ سے عالمی بحران پیدا ہوا۔ یونان اور بلغاریہ میں اکتوبر1925ء میں اس وقت شدت بنی جب یونانی سپاہی اپنے کتے کا پیچھا کرتے بلغاریہ کی سرحد عبورکربیٹھا۔ پچاس لوگ اسکی بھینٹ چڑھ گئے تھے۔
1738ء میں برطانوی بحریہ کے رابرٹ جِنکِنز نے پارلیمنٹ کے ارکان کے سامنے گواہی دی کہ سپین کے کوسٹ گارڈ افسر نے سات سال قبل سمگلنگ پر سزا دینے کی رنجش پر اس کا کان کاٹ دیا۔ برطانیہ نے طیش میں آکر کر سپین کے خلاف اعلان جنگ کردیا۔ یہ ’جِنکِنز کے کان پرجنگ‘ کے عنوان سے مشہور ہے۔ اس جنگ کی اصل وجہ 1700 میں ہونیوالے عوامل اوراراضی کے تنازعے تھے، بہانہ جنکنز کا کان بن گیا۔ مشی گن اور اوہائیو آج فٹ بال میں حریف مشہور ہیں لیکن امریکہ میں شامل یہ ریاستیں 1803ء میں سرحدی تنازعہ پر جنگ کے دھانے پر پہنچ گئی تھیں۔ یہ جھگڑا تولیدو کی پٹی سے شروع ہوا۔ لڑنے مرنے پر تیار دونوںریاستوں میں صدر انڈریو جیکسن نے معاہدہ کرایا اور یہ معاملہ حل ہوا۔
ایک دلچسپ واقعہ 1828ء کی ’پیسٹری جنگ‘ کا ملتا ہے۔ فوجی بغاوت کے دوران میکسیکو شہر میں پیسڑیاں بنانے والے فرانسیسی شیف رومینٹل کے چھوٹے سے کیفے کو بلوائیوں نے لوٹ لیا۔ میکسیکو کے حکام کے نظرانداز کرنے پر اس نے فرانس حکومت کو شکایت لکھ بھیجی۔ ایک سال بعد یہ معاملہ فرانس کے بادشاہ لوئیس فلپ کی توجہ میں آیا۔ ’بادشاہ سلامت‘ پہلے ہی قرض نہ لوٹانے پر میکسیکو پر شدید خارکھائے بیٹھا تھا۔ بادشاہ نے میکسیکو سے پیسٹری شیف کو چھ لاکھ پیسوز اداکرنے کا مطالبہ کردیا۔ انکار پر لوئیس فلپ نے جنگ شروع کردی۔اکتوبر1838ء میں فرانسیسی فلیٹ میکسیکو پہنچ گیا اور ’ویراکرز‘ شہر کی ناکہ بندی کردی پھر گولہ باری کا آغاز ہوگیا۔ دسمبر تک اڑھائی سو سپاہی اس تنازعہ میں ہلاک ہوچکے تھے۔ مارچ 1839ء میں برطانوی حکومت کی ثالثی سے امن معاہدہ ہوگیا۔ میکسیکو کو چھ لاکھ پیسوز پیسٹری شیف کو اداکرنے پڑے۔ دو شہزادے' دو جوان سال ولی عہد اسی طرح کی تاریخ صحرائے عرب کی مقدس سر زمین پر دھرائے جا رہے ہیں۔
بوڑھا آسمان عجب منظر دیکھ رہا ہے اور مسافر یورپ کے ہنگامی و طولانی دورے کے آخری مرحلے میں دوحہ کے ایک لبنانی مطعم میں بیٹھا یہ کہانی بیان کر رہا ہے۔