لیڈر شپ

31 جنوری 2018

پاکستان میں قانون، آئین، اخلاق، مذہب، شرافت اور سیاست کے ساتھ ساتھ صحافت کو جس پستی میں گرا دیا گیا ہے اسے کو دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ واقعی یہ ملک اللہ کے سہارے چل رہا ہے حق حکمرانی کے سارے پیمانے نظرانداز کرکے ہوس حکمرانی پنجوں میں سارے نظام کو جکڑے اور سیاسی لیڈر اول فول کہنے میں نہ صرف آزاد ہوں بلکہ ان کے اس اول فول کی کوریج بھی ضرورت سے زیادہ ہو۔ پست خواہشات قاعدے قانون آئین اور ضابطے کی طاقت کو مسترد کرنے کی شہرت پا جائیں اور اس پر احمقانہ ردعمل بھی خبروں اور تبصروں کی زینت بنے تو ایسے انداز اور ایسی خواہشات کو جنگل کے قانون سے بھی نچلے درجے پر رکھا جائے گا۔ 

بلوچستان میں حکومت کی آئینی تبدیلی پر جس طرح بعض سیاسی اور صحافتی حلقے سیاپا کرنے والے بے نقاب ہوئے ہیں اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ وہ اپنی خواہشات ہی کو سب کچھ سمجھتے ہیں ان کے نزدیک ملک کا نہ کوئی آئین ہے نہ قانون اور نہ ہی کسی شخص کی عزت ہے ہر طرف سازش۔ ہر طرح کی بے حرمتی اور ڈھٹائی سے خلاف حقیقت باتیں کرنے میں شرم وحیا تک سے ناتا توڑ لینے کے مظاہرے دیکھ کر احساس ہوتا ہے کہ ہمارے ہاں اس قدر قحط الرجال ہمارے کن اعمال کی سزا ہے اور یہ سزا کب تک اس قوم کو ملے گی۔
آج مجھے ’’تاریخ عالم‘‘ میں مستند اور معتبر کتاب کے مصنف ڈاکٹر ٹوئن بی کی دانش اور حکمت کی باتیں بہت یاد آ رہی ہیں جنہوں نے بہت ہی سہل انداز میں بعض بنیادی باتیں سمجھا کر اہل جہان کو ایسی رہنمائی فراہم کرنے کی کوشش کی کہ اگر وہ ان کی سادہ سی بات پر عمل کریں یا اسی کو سمجھ کر اپنی منزل پر پہنچنے کے لئے راستے کا انتخاب کریں تو منزل بڑی آسانی سے مل جائے گی۔ ایک شامی کہاوت کے حوالے سے ڈاکٹر ٹوئن بی نے حق حکمرانی کی جس اہلیت اور صلاحیت کا ذکر کیا ہے اس کو سمجھنے کی جتنی ضرورت آج پاکستان میں محسوس ہو رہی ہے شاید اس سے پہلے اتنی شدت سے کبھی محسوس نہیں ہوئی۔ ڈاکٹر ٹوئن بی اس کہاوت کو اس طرح بیان کرتے ہیں۔ کہ ایک رات حضرت سلیمانؑ کو ہاتف غیبی سے آواز آئی اگرچہ یہاں پر آواز حالت بیدار میں آنے اور خواب میں آنے کے حوالے سے دو رائے مگر دونوں کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت سلیمانؑ کو یہ آواز آئی اور انہوں نے اس پر اپنا نقطہ نظر بھی دیا۔
ہاتف غیبی کی طرف سے سنی جانے والی آواز میں کہا گیا میں تمہارا رب ہوں، مانگو کیا مانگتے ہو تاکہ تمہیں عطا کر دیا جائے۔ حضرت سلیمانؑ نے کہا اے پروردگار عالم اپنے اس بندے کو ہوش مند قلب عطا فرما دے۔
حضرت سلیمانؑ کی اس طلب پر اللہ تعالی خوش ہوا کہ سلیمانؑ نے نہ لمبی زندگی کی خواہش کی نہ اپنے لئے دولت مانگی نہ اپنے دشمنوں کی تباہی وبربادی مانگی بلکہ وہ چیز مانگی کہ تمہیں سچائی کو سمجھنے، حق اور باطل میں تمیز کرنے اور حق پھیلانے کی طاقت نصیب ہو۔ ہاتف غیبی سے بشارت دی جاتی ہے تمہاری خواہش پوری کر دی گئی ہم نے تمہیں ہوش مند اور صحیح سوجھ بوجھ رکھنے والا دل عطا کر دیا اور اس خوبصورت طلب پر تمہیں وہ کچھ بھی دیا جا رہا ہے جو تم نے طلب نہیں کیا دولت اور عزت بھی دی جا رہی ہے اور ہوش مند قلب مانگ کر یا لینے کے بعد تمہیں یہ بشارت دی جاتی ہے کہ بادشاہوں میں تیری طرح کا کوئی دوسرا نہیں ہوگا۔ ٹوئن بی اسی کہاوت کا لب لباب یہ نکالتے ہیں کہ حکمرانوں میں اگر ہوش مند دل ہو تو ہر بگاڑ سدھر سکتا ہے۔
اگرچہ ہمارے ہاں حکمران عرصہ دراز سے قیادت اور سیاست کے غلط تصورات کو اپنائے ہوئے ہیں، ہر شبے کو غلط سمجھنا اور غلط پیش کرنا سیاست کی پہچان رہا ہے۔ بلوچستان میں حکومت کی تبدیلی پر پہلے وفاقی وزیر داخلہ کا بیان ان کی فہم کا پردہ چاک کر گیا اور پھر ن لیگ کے سربراہ نوازشریف نے اس پر حیران کن تبصرہ کیا۔ وہ اگر بلوچستان کی معروضی صورت حال پر طائرانہ نظر بھی ڈال لیتے کہ بلوچستان میں ن لیگ کی حکومت سے وہاں کے منتخب نمائندے سخت نالاں تھے۔
سیاست کی تھوڑی بہت سوجھ بوجھ رکھنے والے شاید یہ بات نہ جانتے ہوں کہ 2013 کے انتخابات میں بلوچستان میں مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومت سازی کے لئے مطلوبہ تعداد نہ ہونے کی وجہ سے مری معاہدہ کے تحت پہلے اڑھائی سال کے لئے ڈاکٹر عبدالمالک کو وزیراعلی بنایا گیا اور انہوں نے جون 2013 کو بلامقابلہ یہ معرکہ سر کر لیا۔
ن لیگ کے نواب ثنااللہ زہری نے اس معاہدہ کے تحت 24 دسمبر 2015 سے بلوچستان کے وزیراعلی کا منصب سنبھال لیا انہیں بھی بلامقابلہ منتخب کیا گیا اور پھر وزیراعلی سے ممبران صوبائی اسمبلی کو جو شکایات پیدا ہوئیں اس پر آخری حد تک جانے کی نوبت آ گئی۔ 3 جنوری کو موجودہ وزیراعلی عبدالقدوس بزنجو نے اپنا آئینی اور پارلیمانی جمہوری حق استعمال کرتے ہوئے وزیراعلی زہری کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک پیش کی اس میں کون سی خفیہ سازش تھی۔ وزیراعلی زہری کا اس تحریک سے زعم نہ ٹوٹا شاید وہ بھی ن لیگ کے لیڈر نوازشریف کی طرح ہی سمجھتے ہوں کہ بیچارے بزنجو کا تعلق ق لیگ سے ہے اور اسمبلی میں ق لیگ کے ارکان کی تعداد سے وہ اس منصب سے علیحدہ نہیں کئے جا سکتے جب ان کی کابینہ کے اپنے ساتھیوں نے تحریک کی حمایت کرنے اور وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کر دیا تب بھی اقتدار کے نشہ میں مدہوش زہری کو ہوش نہ آیا وہ وفاقی حکومت، ن لیگ اور وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی مکمل حمایت پر زمینی حقائق کو نظرانداز کرنے کی اپنی جماعت کے قائدین کی روش کو چھوڑنے پر آمادہ نہ ہوئے اعلان کر دیا کہ تحریک ناکام ہو گی۔
ن لیگ میں شریف برادران کے بعد جماعت کو سنبھالنے والا جاوید ہاشمی، پنجاب کی وزارت اعلی پر فائز ہونے والا کھوسہ اپنے باپ اور پنجاب میں سینئر ایڈوائزر ذوالفقار کھوسہ کے ساتھ ن لیگ سے باغی ہو سکتے ہیں تو ان کے اسمبلی کے ن لیگی ارکان کیوں ان کا ساتھ نہیں چھوڑ سکتے۔ 9 جنوری کو اسمبلی کے اجلاس سے ایک گھنٹہ پہلے وزیراعلی زہری نے تحریک عدم اعتماد سے بچنے کے لئے استعفی دے دیا، یہاں تک کہاں سازش نظر آتی ہے، وزیراعلی کے انتخاب کے لئے 13 جنوری کو اسمبلی کا اجلاس آئینی وقانونی طور پر کیسے غلط قرار دیا جائے اس تحریک میں بہت متحرک سرفرازبگٹی کے علاوہ صالح بھوتانی اور جان محمد جمالی وزیراعلی کے متوقع امیدوار کے طور پر سامنے آئے۔ کسی ایک پر اتفاق نہ ہونے پر اس عدم اعتماد کی تحریک کے محرک عبدالقدوس بزنجو کو وزیراعلی نامزد کرنے پر اتفاق کر لیتے ہیں۔ کہاں خفیہ سازش دکھائی دیتی ہے الیکشن کے دن ووٹنگ کے لئے 65 کے ایوان میں 54 ارکان موجود تھے۔
ق لیگ کے عبدالقدوس بزنجو نے 41 ووٹ حاصل کئے جب کہ ان کے مدمقابل کو 13 ووٹ ملے اس رائے شماری میں بھی سازش تلاش نہ کی جا سکی۔ ن لیگ کے 14 ارکان نے بھی اپنی جماعت سے کھلی بغاوت کرکے ق لیگ کے امیدوار کو ووٹ دیا۔ حیرت ہے کہ میاں صاحب یہاں بھی فرما رہے ہیں ’’بلوچستان میں ہونے والی سازش بے نقاب کروںگا‘‘استغفراللہ پہلے وہ عدلیہ، فوج اور صحافت پر سازشیں کرنے کے الزامات لگاتے تھے ایک اسمبلی بھی تھی وہ بھی نشانے پر آ گئی۔ نہ جانے کیوں انہیں ہر طرف سازش ہی سازش دکھائی دیتی ہے۔