شریف فیملی، مسلم لیگ ن نے عدالتوں کیخلاف ہرزہ سرائی بند نہ کی تو تحریک چلائیں گے: وکلا رہنما

31 جنوری 2018

لاہور (وقائع نگار خصوصی) لاہور ہائی کورٹ بار، پاکستان بار کونسل، سپریم کورٹ بار، پنجاب بار کونسل کے عہدیداروں نے مسلم لیگ (ن) اور نوازشریف فیملی کو متنبہ کیا ہے کہ وہ عدالتوں کے خلاف ہرزہ سرائی بند کر دیں ورنہ وکلاء اٹھ کھڑے ہوں گے اور تحریک چلائیں گے۔ عہدیداروں نے یہ اعلان بھی کیا ہے کہ اگر اس حوالے سے لانگ مارچ بھی کرنا پڑا تو پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ کراچی ہال میں پاکستان بار کونسل کی نمائندگی کرتے ہوئے چودھری اشتیاق اے خاں، پنجاب بار کونسل کے منیر حسین بھٹی، لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر چودھری ذوالفقار علی، نائب صدر راشد لودھی، سیکرٹری عامر سعید راں، فنانس سیکرٹری ظہیر بٹ نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ لاہور ہائی کورٹ بار کے صدر چودھری ذوالفقار علی نے کہا کہ ہم وکلاء قانون کی حکمرانی چاہتے ہیں ہم سب کا ایک ہی مقصد ہے کہ ملک میں رول آف لاء قائم ہو۔ مسلم لیگ (ن) کی جانب سے عدلیہ کے خلاف بیان بازی کسی طور قبول نہیں کی جائے گی۔ ہم عدلیہ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ وکلاء ملکی اداروں پر کوئی سمجھوتہ قبول نہیں کریں گے۔ پاکستان بار کونسل کے رکن چودھری اشتیاق اے خاں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) عدلیہ کے خلاف بیان بازی بند کرے ورنہ وکلاء عدلیہ کی فوج بن کر میدان میں ہوں گے اگر انہوں نے اپنا رویہ نہ بدلا تو پھر تحریک چلے گی جو شریف فیملی کو بہا کر لے جائے گی انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے فیصلوں پر من وعن عمل درآمد کرنا ہو گا عدلیہ کی توہین لمحہ فکریہ ہے۔ پنجاب بار کونسل کے منیر حسین بھٹی نے کہا کہ پانامہ کیس کے بعد شریف فیملی سوشل میڈیا پر عدلیہ کو تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں جو قابل قبول عمل نہیں ہے۔ نائب صدر لاہور ہائی کورٹ بار راشد لودھی نے کہا کہ ایک نا اہل شخص کی جانب سے عدلیہ کے خلاف مہم جوئی کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ملک کی جمہوریت کو خطرات لاحق ہوگئے ہیں۔ سیکرٹری عامر سعید راں نے کہا کہ ہر ادارے کو اپنی حدود و قیود میں رہ کا کام کرنا چاہئے۔