سنا تھا خیبر پی کے پولیس بہت مستعد ، عاصمہ کے قاتل نہ پکڑنا کوتاہی ہیغ چیف ثاقب

31 جنوری 2018

اسلام آباد (این این آئی‘نوائے وقت رپورٹ) سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے عاصمہ قتل از خود نوٹس کی سماعت کے دوران ملزم کی عدم گرفتاری پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملزم گرفتار نہ کیا جانا خیبرپی کے پولیس کی کوتاہی ہے۔ چیف جسٹس کی سربراہی میں جسٹس عمر عطا بندیال اور جسٹس اعجاز الاحسن پر مشتمل تین رکنی بینچ نے سماعت کی۔ خیبرپی کے پولیس کے ڈی آئی جی نے عدالت میں پیش ہوکر بتایا کہ عاصمہ کی نعش کھیتوں سے ملی اور واقعہ شام کا ہے، فرانزک جائزے کے لیے سیمپل لاہور بھیجے گئے، جے آئی ٹی بھی بنادی گئی۔ اس دوران چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا آپ کے پاس لاہور کی طرح فرانزک لیب نہیں ہے؟ اس پر ڈی آئی جی نے بتایا کہ ہمارے پاس آلات ہیں مگر لیب نہیں۔ چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا ملزم گرفتار کیا گیا؟ اس پر پولیس افسر نے بتایا کہ نہیں ابھی تک ملزم نہیں پکڑا گیا، ہم فرانزک رپورٹ کا انتظار کررہے ہیں۔ 350 افراد کو واقعہ میں شامل تفتیش کیا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پوچھا آپ کے پاس کوئی طریقہ کار نہیں ہے؟ محترم یہ آپ کی کوتاہی ہے۔ ڈی آئی جی نے عدالت کو آگاہ کرتے ہوئے بتایا عاصمہ کیس کے نمونے سیف کسٹڈی میں ہیں۔ اس پر چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ کیا نمونوں نے بھاگ جانا تھا؟ چیف جسٹس نے عدالتی معاون کو ہدایت کی کہ رپورٹ مکمل کیوں نہیں ہوئی، پنجاب فرانزک لیب سے پوچھیں۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ میں نے بہت سنا تھا کہ کے پی پولیس بہت مستعد ہے، ملزم کو گرفتار نہ کیا جانا خیبرپی کے پولیس کی کوتاہی ہے۔ آئی جی خیبر پی کے کو یہاں ہونا چاہیے تھا، آئی جی کہاں ہیں؟ ابھی کل ہی ایک واقعہ ہوا ہے اس پر کیا پراگریس ہے؟ یہ کوئی نیا کیس نہیں پہلے بھی ایسے واقعات ہوتے ہیں۔ چیف جسٹس نے ڈی آئی جی سے مکالمہ کیا کہ آپ کی اپنی لیب میں جو ہوا وہ ہمارے ساتھ شیئر کریں۔ اس پر ڈی آئی نے بتایا کہ خیبر پی کے میں اس حوالے سے ابھی کچھ نہیں ہوا۔ جسٹس ثاقب نثار نے ریمارکس دیئے اس کا مطلب ہے صوبے میں ابھی اس حوالے سے اہلیت ہی نہیں۔ بعدازاں عدالت نے کیس کی مزید سماعت آئندہ منگل تک ملتوی کردی۔ دریں اثناء چیف جسٹس میاں ثاقب نثار نے کوہاٹ میں میڈیکل کی طالبہ عاصمہ کے قتل کا از خود نوٹس لے لیا۔ ڈی پی او کوہاٹ کے مطابق عاصمہ کے قتل میں نامزد ملزم صدیق آفریدی کو گرفتار کرلیا ہے جو مرکزی ملزم مجاہد گل آفریدی کا بھائی ہے جبکہ بیرون ملک فرار مرکزی ملزم کی گرفتاری کے لیے انٹرپول سے رابطہ کیا جارہا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ سنا ہے پی ٹی آئی کے رہنما کا عزیز ملوث ہے؟ وہ لڑکا کس طرح ملک سے بھاگ گیا؟ چیف جسٹس نے آئی جی خیبر پی کے صلاح الدین محسود سے 24گھنٹوں میں رپورٹ طلب کرلی۔