اگلے 10برسوں کے دوران ملکی انرجی کی طلب 70 فیصد بڑھ جائیگی

31 جنوری 2018

اسلام آباد(کامرس ڈیسک) تھر کول پراجیکٹ اور پن بجلی کے منصوبوں میں درکار وقت کے سبب پاکستان فی الحال اپنی انرجی کی ضروریات کیلئے درآمدی کوئلے اور ایل این جی پر انحصار کرے گا جس کی وجہ سے عوام اور صنعتوں کو مہنگی انرجی اور سرکلر ڈیبٹ جیسے مسائل کچھ سال مزید برداشت کرنا ہوں گے۔ ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کے نقصانات بھی گردشی قرضوں کی موجودگی کا سبب رہیں گے ملکی انرجی کی ضروریات اگلے10سالوں میں 70فیصد سے زائد بڑھ جائیں گی جو کہ حالیہ 11ارب ڈالر سالانہ کی انرجی درآمدات بل میں بھی نمایاں اضافے کا باعث بنے گا۔ اس کا انکشاف اوورسیز انوسٹر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی انرجی ریفارمز رپورٹ 2017 میں کیا گیا ۔ او آئی سی سی آئی کی انرجی رپورٹ میں تیل، گیس، کوئلے اور متبادل انرجی ، آئل اینڈ گیس کی تلاش و ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن پر جامع تجویز دی گئی ہیں۔ رپورٹ میں ملک میں پاور جنریشن، ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن کو بہتر بنانے کیلئے بھی جامع تجاویز دی گئی ہیں۔ او آئی سی سی آئی نے یہ رپورٹ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر برائے پانی و بجلی اویس احمد خان لغاری اور سینئر سرکاری عہدیداروں کو پیش کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق او آئی سی سی آئی کے ممبران کو احساس ہے کہ پاکستان کو انرجی سیکٹر میں کئی چیلنجز درپیش ہیں جن میں انرجی کی قیمت اہم چیلنج ہے جس سے برآمدی صنعتوں کو مسابقت کے مسائل جبکہ دوسری صنعتوں کو کاروبار کرنے کی لاگت میں اضافے جیسے معاملات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ او آئی سی سی آئی انرجی ریفارمز رپورٹ 2017 او آئی سی سی آئی کے ممبران کی جانب سے حکومت کو قابلِ عمل پالیسی تبدیلیاں تجویز کرنے کا مقصد دستیاب وسائل کا بہتر استعمال کرکے انرجی سیکٹر کو معاشی ترقی کی رفتار کے برابر لاناہے۔رپورٹ نے ایل این جی کی درآمدات کو تیز رفتار مگر عارضی حل قرار دیا ہے اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ مقامی تیل،گیس، کوئلے، شمسی اور ہوا سے بجلی پیداکرنے جیسے ذرائع پر اپناانحصار بڑھائے جبکہ غیر موثر پیداواری صلاحیت والے تیل سے چلنے والے پاور پلانٹس پر سے بھی بتدریج انحصار کم کیا جائے۔