تاجروں نے ٹریڈ لائسنس فیس میں ا ضافہ مسترد کردیا

31 جنوری 2018

کراچی(کامرس رپورٹر) پاکستان آرگنائزیشن آف ا سمال ٹریڈرز اینڈ کاٹیج انڈسٹریزکراچی کے صدر محمود حامد اور نائب صدور عبدالماجد‘عثمان شریف اور نوید احمد نے ڈی ایم سی سائوتھ کی جانب سے ٹریڈ لائسنس فیس میں 500روپے سالانہ سے 15000 روپے کرنے کے فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے ناقابل عمل قراردیا ہے اورکہا ہے کہ ڈی ایم سی سائوتھ کی جانب سے تاجروں کی درجہ بندی اوران پر عائد ٹریڈ لائسنس فیس کی مختلف شرحیں رشوت ستانی کو فروغ دینے کا ذریعہ بنے گا۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ایم سی سائوتھ نے مجوزہ ٹیکس کو واپس نہ لیا تو تاجر احتجاج کریں گے۔ اسمال ٹریڈرز کے رہنمائوں نے کہا کہ تاجر برادری اورکراچی چیمبر بار بار یہ مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ ٹیکسوں کے نظام کو آسان اورون ونڈو آپریشن طرز کا بنایا جائے۔ ٹیکسوں کی شرحوں میں پیچیدگیاں‘راشی اہلکاروں کو اپنے مذموم مقاصد پورے کرنے میں مددگار ہوتی ہیں۔ اسمال ٹریڈرز کے رہنمائوں نے کہا کہ تاجروں نے بہت جدوجہد کے بعد انکم ٹیکس کے نظام میں سیلف اسسمنٹ اسکیم کو منظورکروایا جس کے بعد ٹیکس دہندگان کی شرح میں اضافہ ہوا۔ صوبائی حکومت کو اوربلدیہ کو بھی ایسے ہی آسان نظام کو اختیار کرنا ہوگا۔