سزائوں کا نفاذ نا گزیر

31 جنوری 2018
سزائوں کا نفاذ نا گزیر

مکرمی! پاکستانی تاریخ کے تناظر میں بات کی جائے تو شاذ و نادر ہی سزائوں کے نفاذ کو یقینی بنایا گیا جس کے باعث مجرم ہر طرف بلا خوف و خطر دندناتے پھر رہے ہیں، ہمارے آئین و قانون میں جو سزائیں مقرر کی گئی ہیں وہ صرف لکھنے کی حد تک ہی ہیں، فوجی عدالتوں کو اس بات کا کریڈٹ جاتا ہے کہ انہوں نے متعدد مجرموں کو پھانسی پر لٹکایا۔ زینب زیادتی و قتل کیس قصور میں پہلا واقعہ نہیں تھا اگر اس سے پہلے والے مجرموں کو ان کے کیفر کردار تک پہنچایا جاتا تو آج نوبت یہاں تک نہ آتی، اسلامی سزائوں کے نفاذ میں سعودی عرب اور پھر ایران سر فہرست ہیں، ایک دفعہ امریکی صحافیوں کا وفد سعودی عرب کے ایک ہفتہ دورے پر آیا اس دوران انہوںنے امن وامان کی صورتحال کا بغور جائزہ لیتے ہوئے اس بات پر سوال اُٹھا دیا کہ یہاں چوری کرنے والے کے سزا کے طور پر ہاتھ کاٹ دینا اور دہرے جرم پر سرعام کوڑوں کی سزا سراسر زیادتی اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ سوال شاہ فیصل سے ملاقات کے وقت ایک صحافی نے دہرایا تو جواب میں انہوں نے کہا اگر آپ کی بیگمات ساتھ آئی ہوئی ہیں تو ان کو سونے کی مارکیٹ میں لے جائیں اور میرے خرچے پر اپنے پسند کے زیورات کی خریداری کریں اور وہی زیورات پہن کر سعودی عرب کے گلی بازاروں میں گھومیں ان کی طرف کوئی میلی آنکھ سے بھی نہیں دیکھے گا مگر امریکہ واپسی پر کیا وہ بلا خوف و خطر گھروں کو پہنچ پائیں گی جس پر صحافی ایک دوسرے کا منہ تکتے رہ گئے اور ایک نے جواب دیا کہ گھر پہنچنا تو درکنار ہم امریکی ائیر پورٹ سے باہر بھی قدم نہیں رکھ سکتے جس پر شاہ فیصل نے کہاکہ آپ نے اپنے سوال کا جواب خود دے دیا ہے۔ سعودیہ میں اتنی سخت سزائوں کا نفاذ ہی آپکی پریشانی کا جواب ہے۔ اس سے ہمیں پتا چلتا ہے کہ اسلامی سزائوں کا نفاذ کس قدر ناگزیر ہے اگر ہم بروقت سزائوں کو یقینی بناتے تو ہم بھی پاکستان کو امن کا گہوارہ بنا سکتے تھے۔ (محمد رضوان علی۔ گوجرہ)