مغربی تہذیب ، میٹھا زہر

31 جنوری 2018

مکرمی۔ جب سے ہمارے ذہنوں پر مغربی تہذیب کی بدبختی سوار ہوئی ہے اس نے ہمارے اسلامی معاشرے کو دیمک کی طرح چاٹ کھایا ہے۔ آج مسلمانوں کونہ تو کھانے پینے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا یاد رہا ہے، نہ کھانے کے بعد الحمدللہ کہنا یاد ہے۔ ہم دنیاوی اور عارضی چمک دمک میں اسلام کی دائمی روشنی کو فراموش کر چکے ہیں۔اب کوئی بھی اچھا کام کرنے سے پہلے کسی کو بھی اللہ کریم سے رجوع کرنے کی توفیق نہیں رہی۔ کافروں کے دماغ میں اللہ تعالیٰ کے شافی ہونے کا کوئی تصور موجود نہیں انہیں صرف اپنی سائنسی ایجادات پر اعتماد ہے ، اسی طرح ہم بھی اب اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں پر تو اعتماد کرتے ہیں اللہ تعالیٰ کے شافی ہونے پر نہیں۔ آج کے والدین قبر تا حشر اور عالم برزخ کی زندگی کو بھول کر دنیاوی مسرتوں میں ڈوب کر اپنی اولاد کو بڑے فخر کے ساتھ مغربیت کے فتنہ میں ڈھالنے میں دن رات ایک کئے ہوئے ہیں۔ اور جب یہی اولاد جوان ہو کر اپنے ماں باپ کے تقدس کو پامال کرتی ہے تو ہم آسمان کی طرف منہ اٹھا کر شکوہ کرتے ہیں کہ یہ کیسی ناخلف اولاد ہے ۔ یہی نہیں کہتے کہ ہماری اسلام مخالف تربیت نے ہمیں اس مقام تک پہنچایا ہے۔ اس وقت مغرب پرست والدین کے پاس ماسوائے پچھتاوے کے کچھ پاس نہیں رہتا۔ ماضی میں مسلمانوں کو دنیا وی تعلیم کے ساتھ دینی تعلیم کی فکر لاحق ہوا کرتی تھی کہ ہماری نسلیں مومنین و مومنات بن کر ہماری آخرت کیلئے صدقۂ جاریہ بنیں۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں حرام حلال کی تمیز ختم ہو کر رہ گئی ۔اسلامی تعلیمات سے روگردانی حضور ؐ کی سنت سے منہ موڑ کرنہ صرف دنیاکے عذابوں میں مبتلا ہیں اورآخرت کا عذاب ہمارے انتظار میں ہے۔ اس لئے بحیثیت مسلمان ہمیں اپنا قبلہ درست کرنا ہو گا۔ ٰ(مسلم لیگی رہنما چودھری محمد طارق گڑھی شاہو لاہور)