صحافیوں کو بھی امتحان سے گزرنا چاہئے

31 جنوری 2018
صحافیوں کو بھی امتحان سے گزرنا چاہئے

ملک عزیز میں حالیہ واقعات نے سیاست دانوں اور عوام کی توجہ آئندہ انتخابات سے ہٹا کر ملک میں درندہ صفت انسانوں کی جانب سے ننھی جانوں کی شہادتوںپر مرکوز کردی ہے، عوام تو ان سنگین واقعات میں گھرے ہیں مگر سیاست دان ان واقعات کی بھی ایماندارآنہ مذمت کرنے، انہیں حل کرنے، آئندہ ایسے واقعات رونما نہ ہونے کی طرف اپنے ایماندارنہ مشوروں سے نوازنے کے بجائے نہایت ڈھٹائی سے ان درندہ صفت واقعات پر زور و شور سے سیاست کر رہے ہیں، ہر سیاست دان کی خواہش ہے کہ ان واقعات کو بھی ایک دوسرے پر الزام تراشی کا مرکز بنا دیا جائے، پیشہ ور سیاست دان الیکٹرانک چینلز پر بیٹھ کر چند الفاظ مذمتی کہتے ہیں پھر اس سلسلے میں ایک دوسرے پر الزام لگانا شروع کردیتے ہیں۔ اگر قصور میں قاتل کم وقت میں پکڑا گیا تو الزام اس طرح ہوتا ہے کہ اتنا وقت کیوں لگا، دوسری جانب سے صوبہ سرحد میں اسی طرح کے واقعہ میں معصوم بچی کے قتل پر بجائے اسکے اس بچی کو پاکستان کی بچی اور پاکستان کا مسئلہ سمجھا جائے یہ کہا جاتا ہے کہ وہاں اب تک ایساکیوں نہیں ہوا، آجکل صوبہ سرحد کو اپنی جائیداد سمجھنے والے عمران خان سندھ میں آکر نقیب اللہ کی شہادت پر تعزیت کرتے ہوئے اپنے خطاب میں فرماتے ہیں کہ صوبہ پختونخواہ کے نوجوانوں کو سندھ کی پولیس نے مارا، ساتھ ہی وہ یہ بھول کر کہ اپنے صوبے میں معصوم جان لینے والے کو ابھی تک وہاں کی پولیس تلاش نہ کر سکی، سرحد پولیس کی بے شمار تعریف کرتے ہیں، سرحد پولیس کی تعریف جتنی چاہیں کرلیں مگر پختونخواہ اور سندھ کا نام لیکر صوبوں کے عوام میں نفرت نہ پھیلائیں تو انکی نوازش ہوگی، یہ بات بہت زہریلی ہے وہ تو بھلا ہو انکے بیانات کا کہ لوگ اس پر زیادہ توجہ دینا بند کرچکے ہیں۔ پولیس کے کھیل تو نرالے ہوتے ہیں، ایک وقت ’’ہتھوڑا گروپ‘‘ کی واردات ہوئی تو ہر شہر میں ہی پولیس نے ہر واقع کو ’’ہتھوڑا گروپ‘‘ سے وابستہ کر دیا۔ کراچی میں الطاف حسین پر مصیبت ٹوٹی تو ہر واردات کو ’’ایم کیوایم لندن‘‘ کے حساب میں ڈال دیا، اسی طرح آج بھی معصوم بچوں جیسے واقعات ہی میڈیا میں آرہے ہیں پولیس کے سابقہ ریکارڈ کے مطابق نہ جانے کتنے لوگوں کو اب یہ مقدمات بھی سہنے پڑینگے۔ آج دنیا جانتی ہے کہ رائو انوار کہاں ہے مگر کوئی نہیںکہتا کہ رائو انور کو اسلام آباد سے اس لئے بھگانے کی کوشش کی گئی کہ بعد کی تحقیق میں پتہ چلے کہ پنجاب حکومت یا مرکزی حکومت ملوث تھی، یہ کام سندھ سے آسانی سے ہوسکتا تھا مگر نام سندھ حکومت کا آتا، جب حسین حقانی کسی اعلیٰ ترین عہدیدار کے گھر روپوش رہ سکتا ہے تو رائو انوار تو چھوٹا آدمی ہے، جب پولیس خود ہی اپنے اندر کے مجرموں کو پکڑنے میں ناکام ہو جیسے نقیب اللہ مسحود کے قاتل، کراچی کے نوجوان انتظار کے قاتل تو عام آدمی کہاں شکایت کرے؟؟ چیف جسٹس ملک کے دیگر مقدمات چھوڑ کر کب تک ازخود نوٹس لیں؟؟ بغیر ’ازخود نوٹس‘ لئے جانے کے کسی جرم کی بھی کہیں شنوائی نہیں؟ عدالتوںمیں قانون کی تشریح کرنے کے خواہش مند ججوں کا یہ حال کہ ججز کے حالیہ امتحان میں جو پہلی دفعہ ہوئے ہیں 6500 جج بننے کے خواہش مندوں میں سے صرف 21 افراد جج بنے کے اہل ثابت ہوئے ہیں۔ ججز کی کمی ہے 22 کروڑ کی آبادی میں ججز کی تعداد کم ہے۔ چیف جسٹس کے اقدامات پر جو حالیہ واقعات پر کررہے ہیں وہ قابل تحسین ہیں جس اقدام پر عوام کی جانب سے سے سب زیادہ پذیرائی ہے وہ ایک ٹی وی اینکر کے خلاف اقدام ہے جو ’’بے برکی‘‘ اڑانے میں اپنا ثانی نہیں رکھتا ہے‘ یہاں بھی ہماری تعلیم اور سسٹم کا قصور ہے۔ سینئر صحافیوںنے 1970 سے لیکر 1978 آزادی صحافت کیلئے بے پناہ جدوجہد کی ہے، مارشل لاء کے کوڑے کھائے ہیں جیلوںمیں گئے، تادم بھوک ہڑتالیںکیں جس میں راقم کا بھی کچھ حصہ ہے اس جدوجہد کے نتیجے میں آزادی اظہار تو ہوگیا عوام کو آگاہی ہوئی، کچھ عرصے بعد الیکٹرانک چینلز کی بھرمار ہوئی، لوگ PTV کے یکطرفہ خبرناموں سے تنگ آچکے تھے مگر مارکیٹ میں اس تعداد میں جس کی ضرورت چینلز کو تھی وہ نہ مل سکے اس لئے صحافت سے نابلد لوگ اس میدان میںکود گئے، چینلز اور کچھ اخبارات کے مالکان نے صحافت کو ملک اور معاشرے کی خدمت نہیں بلکہ کاروبار بنا دیا۔ ملک میںکوئی ایماندارانہ میڈیا پالیسی نہ ہونے کی بناء پر اس لئے کہ جو حکومت آئی اس نے اپنے سر پر فٹ آنے والی صحافت کو آزادی صحافت سے تشبیہ دی‘ ملک کی خدمت اور بین الاقوامی حالات سے نابلد لوگوںکی پذیرائی ہوئی، سوشل میڈیا کے نام پر ایک آفت آ گئی جس پر حکومت کی جانب سے کوئی روک ٹوک نہیں ہوئی بلکہ مقابلے کیلئے اپنے خیالات کے پرچار کیلئے سوشل میڈیا کی ٹیمیں بنا دیں، بڑے سے لیکر چھوٹا ہر شخص صحافی بن گیا۔ سوشل میڈیا پر خبر کم پگڑیا ں اچھالنے کا کام زیادہ کیا گیا جس سے عوام کے ذہن پراگندہ ہوئے۔ چیف جسٹس کا میڈیا کے معاملے پر قدم اٹھانا ایک نہائت ہی اچھا اقدام ہے مگر اس میں صرف ڈاکٹر شاہد مسعود ہی نہیں بلکہ دیگر احباب بھی شامل ہیں جو خبر نہیں دیتے، اصلاح کی بات نہیں کرتے کبھی ججز کو چینل پر بیٹھ کر مختلف معاملات پر مشوروں سے نوازتے ہیں کبھی پگڑی اچھالنے کیلئے نازیبا قصے اور زبان بھی استعمال کرتے ہیں جو کسی بھی مہذب معاشرے کو زیب نہیں دیتے۔ کیا چیف جسٹس ایک کام اور اپنے ذمہ لے سکتے ہیں کہ صحافت میں قدم رکھنے کی خواہش رکھنے والوں کیلئے میڈیا ہائوس کو پابند کیا جائے کہ صحافت کے حوالے سے انکی قابلیت دیکھی جائے۔ نیز جس طرح ججز بننے کے خواہش مندوںکے امتحان ہوتے ہیں نومولود صحافیوںکو بھی امتحان سے گزرنا پڑے خاص طور پر اینکرز کو تو جواب دہ ہونا بہت ضروری ہے۔ چونکہ آج ٹاک شو، ایک وقت کے کراچی ٹی وی کے مشہور ڈرامے بن چکے ہیں جب ڈراموں کے وقت سڑکیں سنسان ہو جایا کرتی تھیں۔ ہر سیاست پارٹی کا کارکن اپنے من پسند خیالات سننے کے لئے اپنے چینل کا دیکھتا ہے۔