نواز شریف کی تنقید پر سپریم کورٹ صبر سے کام لے رہی ہے: عمران خان

31 جنوری 2018

فیصل آباد (احمد جمال نظامی) تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے کہا ہے اقتدار میں آ کر کوئی شخص کاروبار نہیں کر سکتا، اقتدار ملا تو اس کے لئے قانون سازی کریں گے کیونکہ جب کوئی شخص اقتدار میں ہو اور وہ اپنی ذات کو فائدہ پہنچانے کے لئے کاروبار کرے تو اصل کاروباری حضرات کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑتا ہے، وہ پیچھے رہ جاتے ہیں اور اس طرح سے ملکی معیشت بحرانوں کی زد میں آ جایا کرتی ہے۔ میں نے صوبہ خیبر پی کے میں کوئی فیکٹری نہیں لگائی۔ کرپشن کے خاتمے کے بغیر سرمایہ کاروں کو اعتماد میں نہیں لیا جا سکتا لیکن شریفوں کی حکومت کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کر رہی ہے۔ تحریک انصاف کا ایجنڈا ملک سے غربت کا خاتمہ ہے۔ میں وعدہ کرتا ہوں تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو ایسی پالیسیوں کا نفاذ کرے گی جو غریبوں کے حق میں ہو۔ مجھے علم ہے صنعت کاروں کو پچھلے کئی برسوں سے کن مسائل اور بحرانوں کا سامنا ہے۔ تحریک انصاف اقتدار میں آئی تو صنعت کاروں اور صنعتی مزدوروں کے حقوق کے لئے اپنا کردار ادا کرے گی۔ نوازشریف، شہبازشریف ملک میں کرپشن کے نئے ریکارڈ قائم کرتے ہوئے اپنی ملوں کی تعداد بڑھا رہے ہیں۔ تحریک انصاف خیبر پی کے میں حکومت میں ہے لیکن میری خیبر پی کے میں ایک فیکٹری بھی نہیں۔ ٹیکسٹائل سیکٹر ہی ملک کی مستحکم اور پائیدار معیشت کی اساس ہے مگر موجودہ حکومت نے اس کو تباہ کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی جبکہ خود ہی اس کو تباہ کرنے کے بعد اب اس کی بحالی کے غیر حقیقی دعوے کئے جا رہے ہیں جن کا مقصد صرف اور صرف آئندہ عام انتخابات میں ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ افراد کی ہمدردیاں حاصل کرنا ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے فیصل آباد میں ٹیکسٹائل کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر ٹیکسٹائل سیکٹر کی ترقی کیلئے جامع حکمت عملی تجویز کی گئی ۔ تقریب کے دوران ٹیکسٹائل انڈسٹریز کی اہم شخصیات کے علاوہ تحریک انصاف پالیسی کے بورڈ ممبرا ن ، ٹیکسٹائل تنظیمیں پاکستان ٹیکسٹائل ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن ۔ آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن ۔ آل پاکستان بیڈ شیٹ اینڈ اپ ہولسٹری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن ۔ پاکستان ہوزری مینو فیکچررز ایسوسی ایشن اور آل پاکستان ٹیکسٹائل پروسیسنگ ملز ایسوسی ایشن کے منتخب عہدیدار اور چیمبر آف کامرس کے موجودہ اور سابق صدور بھی موجود تھے ۔ عمران خان نے کہا ایک سازش کے تحت ملک سے سرمایہ دبئی منتقل کیا گیا جس کے پیچھے چھپے لوگ آج بیرون ملک بیمار ہوئے بیٹھے ہیں۔ ایک سازش کے تحت ہی صنعتوں کے لئے پیداواری لاگت میں اضافہ کر دیا گیا جس کا مقصد بھارت کی صنعتوں کو بین الاقوامی سطح پر موقع فراہم کرنا تھا۔ انہوں نے کہا ٹیکسٹائل کی صنعت ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کا درجہ رکھتی ہے لیکن بجلی، گیس، پٹرولیم مصنوعات کے بحرانوں اور ان کی قیمتوں میں بار بار اضافہ کر کے ٹیکسٹائل کی صنعت کو تباہی کے دہانے پر لاکھڑا کیا گیا ہے جبکہ دوسری طرف عالمی منڈیوں میں بھارت کی صنعت مسلسل ترقی کر رہی ہے کیونکہ وہاں ٹیکسٹائل کے صنعت کاروں کو سستی گیس اور بجلی دستیاب ہے لیکن ہمارے حکمران بجلی کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کے دعوے تو بہت کرتے ہیں لیکن موسم سرما کے آغاز کے ساتھ ہی گیس کی بدترین لوڈشیڈنگ جاری ہے۔ گرمیوں میں بھی بجلی کی لوڈشیڈنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے کہا حکومت بجلی کی ترسیل کا نظام درست کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہے اور مختلف منصوبوں کے ذریعے اتنی مہنگی بجلی تیار کی جا رہی ہے اس سے صنعت کاروں کی مکمل طور پر کمر ٹوٹ کر رہ جائے گی۔ دراصل نوازشریف، شہبازشریف کی حکومت نے ہر شعبے اور ہر محکمے میں اقرباء پروری اور کرپشن کو حد سے زیادہ فروغ دے رکھا ہے۔ عوام ان کی پالیسیوں سے بیزار آ چکا ہے، اب نوازشریف صنعتوں کو تباہ کرنے اور عوام کو مہنگائی، بیروزگاری اور لاقانونیت میں دھکیلنے کے بعد ملک کے سب سے مقدس ادارے سپریم کورٹ پر تنقید کے بار بار تیر چلا رہے ہیں۔ سپریم کورٹ پر بار بار تنقید کی جا رہی ہے کہ مجھے کیوں نکالا۔ انہوں نے کہا نوازشریف کو نکالنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ملک اور قوم کی بجائے اپنے اور اپنے خاندان کے مفاد کو غیرقانونی طریقوں سے مقدم رکھا، عدالت میں بار بار جھوٹ بولتے رہے، جے آئی ٹی میں بھی جھوٹ بولا اور کرپشن کے سارے قصے سامنے آ گئے اور عدالت میں ثابت ہو گئے نوازشریف صرف اور صرف عدلیہ پر اس لئے تنقید کر رہے ہیں کہ کسی طرح ان کی نااہلی ختم کر دی جائے اور دوسری طرف نیب میں ان کے کیسز جن میں ان کو اگلے ماہ سزا متوقع ہے ان کو ختم کر دیا جائے۔ انہوں نے کہا تحریک انصاف میدان میں موجود ہے اور کسی طور پر بھی ان کو آصف علی زرداری کی طرح تحفظ فراہم نہیں کرے گی۔ نوازشریف کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔ شعبہ ٹیکسٹائل اور شعبہ زراعت کی مضبوطی اور بحالی کے لئے اقتدار میں آئے تو کوئی کسر باقی نہیں چھوڑیں گے۔ عمران خان نے کہا نوازشریف، شہبازشریف کا پورا خاندان اور ان کی جماعت کرپشن کا ایک نظریہ اور مافیا ہے۔ یہ کبھی بھی کرپشن نہیں چھوڑ سکتے۔انہوں نے کہا کہ ہماری ملکی معیشت کی تباہی کی سب سے بڑی وجہ وہ اسحاق ڈار ہے جو اس وقت اپنی کرپشن پکڑی جانے پر خوف سے بیرون ملک روپوش ہیں۔ اسحاق ڈار نے ملکی تاریخ میں اتنے قرضے نہیں لئے جتنے چار برسوں میں لئے اور ملک کے بچے بچے کو قرض میں مقروض کر دیا۔ اسحاق ڈار نے ملکی معیشت کو جتنا نقصان پہنچایا اس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔انہوں نے کہا اسحاق ڈار نے عالمی مالیاتی اداروں کی ہر شرط بلاجواز قبول کرتے ہوئے ملکی معیشت کا بیڑہ غرق کر دیا اور آج خود ملک سے باہر چھپا بیٹھا ہے۔ عمران خان نے کہا کہ شعبہ ٹیکسٹائل کا بحران اور اس شعبہ سے وابستہ ہزاروں مزدوروں کی بے روزگاری کی سب سے بڑی وجہ بھی اسحاق ڈار کی غیرمنصفانہ اور بدعنوانیوں پر مبنی پالیسیاں ہیں جس کی وجہ سے نہ صرف ملک کے قرضوں کو حد سے زیادہ بڑھا دیا گیا بلکہ معیشت کو اس قدر بگاڑ کا شکار کر دیا کہ خام مال سے لے کر توانائی ذرائع تک ہر چیز کے نرخ اتنے بڑھ گئے شعبہ ٹیکسٹائل، شعبہ زراعت ہر قسم کی صنعت، تجارت تباہ و برباد ہو کر رہ گئی لیکن حکومت مافیا کی صورت میں جعلی سروے رپورٹ سامنے لا کر دعوے کرتی رہی ملکی معیشت ترقی کر چکی ہے حالانکہ ایسا نہیں ہے۔ اسحاق ڈار نے معیشت کو اتنا نقصان پہنچایا شعبہ ٹیکسٹائل بری طرح بحران کی زد میں ہے۔ ہزاروں مزدور حکومت کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں لیکن حکومت اور اس کی ساری مشینری صرف نوازشریف کے پیچھے لگی ہوئی ہے ایک نااہل شخص کو پہلے پارلیمنٹ سے دوبارہ پارٹی کا صدر بنایا گیا اور اب وزیراعظم بار بار اس کے پاس رائے ونڈ جا کر چھوٹی چھوٹی چیزوں کی منظوری لیتا ہے۔ نوازشریف اب کس منہ سے پوچھتے ہیں کہ مجھے کیوں نکالا۔ انہوں نے ملک کے ہر شعبہ اور ادارے کو تباہ کر دیا اور اب بھی پوچھ رہے ہیں مجھے کیوں نکالا۔ عمران خان نے کہا تحریک انصاف آئندہ عام انتخابات کے دوران مسلم لیگ(ن) اور شریف برادران کا بھرپور مقابلہ کرے گی اور تحریک انصاف آئندہ عام انتخابات کے بعد ملک کی سب سے بڑی جماعت بن کر ابھرے گی۔ پوری قوم تحریک انصاف کے ساتھ ہے اور وہ کسی طور پر بھی نہیں چاہتی کہ ایسے لوگ دوبارہ ان پر مسلط کر دیئے جائیں جو کرپٹ ہوں، جن کا نظریہ صرف اور صرف کرپشن ہو اور وہ ملک کے اداروں کے خلاف محاذ آرائی کریں۔ ان اداروں کو اپنا غلام بنانے کی کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف ایسا بالکل بھی نہیں ہونے دے گی اور اگر نوازشریف یا حکومت نے ایسی کوئی سازش کی تو تحریک انصاف اس کے خلاف ہر محاذ پر عوام کے ساتھ ان کا مقابلہ کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ نوازشریف اپنے جلسوں کو بھرنے کے لئے پٹواریوں اور سرکاری ملازمین کا استعمال کر رہے ہیں۔ پولیس اور ریاستی مشینری کو استعمال کیا جا رہا ہے نوازشریف نے ماضی کی طرح عدلیہ کے خلاف کوئی سازش کرنے کی کوشش کی تو اس کا بھرپور مقابلہ کریں گے۔ انہوں نے کہا دنیا میں آئندہ جنگیں معیشت پر لڑی جائیں گی اور یہ سلسلہ بڑی حد تک شروع ہو چکا ہے۔ پاکستان کو اپنی معیشت کو انتہائی مضبوط کرنے کے لئے گوادر بندرگاہ اور سی پیک سے بھرپور فائدہ اٹھانا ہو گا لیکن کرپٹ حکمرانوں اور سیاستدانوں کو گوادر اور سی پیک پر اپنا قبضہ نہیں جمانے دیں گے۔ عمران خان نے کہا کہ پاکستان کی معیشت کو مضبوط ترین معیشت بنانے اور ٹیکسٹائل انڈسٹری کو اس کے تمام سٹیک ہولڈرز سے باہمی مشاورت کے بعد سارے بحرانوں اور مسائل سے نجات دلائیں گے تاکہ شعبہ ٹیکسٹائل سے وابستہ لاکھوں مزدوروں کے گھروں کا چولہا بھی چل سکے اور ملک میں غربت کے خاتمے کے لئے تحریک انصاف کوئی کسر باقی نہیں چھوڑے گی لیکن یہ کتنے افسوس کا مقام ہے کہ موجودہ حکمرانوں نے ٹیکس کے محکمے میں اپنی نااہلی کے باعث کرپشن کو حد سے زیادہ بڑھا دیا۔ ٹیکس چوری پہلے سے زیادہ بڑھ چکی ہے اور پہلے سے موجود ٹیکس دہندگان کو تنگ کر کے سارا بوجھ اس پر ڈالا جاتا ہے۔ تحریک انصاف ٹیکس اکٹھا کرنے کا منصفانہ نظام سامنے لائے گی جب عوام کو ڈلیور کریں گے تو وہ ٹیکس بھی دیں گے۔ تحریک انصاف عوام کا پیسہ نوازشریف شہبازشریف کی طرح اپنے محلوں اور ذات پر نہیں لگائے گی اس کی منی لانڈرنگ نہیں کرے گی بلکہ یہ سارا پیسہ عوام اور ملک پر خرچ ہو گا جب لوگ ایسی تبدیلی دیکھیں گے تو ٹیکس کی شرح میں خاطرخواہ اضافہ ہو گا۔ ٹیکس اہلکاروں اور محکمے سے تحریک انصاف کرپشن کا مکمل طور پر صفایا کر دے گی تاکہ ٹیکس دہندگان کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑا۔ انہوں نے الزام عائد کیا اسحاق ڈار نے ایک سازش کے تحت سرمایہ ملک سے باہر منتقل کرایا اور اب ایک سازش کے تحت ملک سے باہر بیٹھا ہے تحریک انصاف اسحاق ڈار کو ملک کی معیشت تباہ کرنے اور لوٹ مار کرنے کے بعد ایسے نہیں جانے دے گی۔ اسحاق ڈار کو اتنے زیادہ غیرملکی قرضے لینے، کرپشن کیسز اور سرمایہ دبئی منتقل کرنے کا عوام کو حساب دینا ہی ہو گا۔اس سے قبلپاکستان تحریک انصاف کی مرکزی پالیسی کونسل آف ٹیکسٹائل کے ہیڈ ظفر اقبال سرور نے کہا پی ٹی آئی بجلی اور گیس کی قیمتوں کو علاقائی تجارتی حریف ممالک کی سطح پر لانے پر یقین رکھتی ہے اور اس سلسلہ میں بجلی کی قیمت 8 روپے ،گیس کی قیمت 700 روپے فی ایم ایم بی ٹی یو تجویز کی گئی ہے۔ مزید برآں موجودہ ٹیکسٹائل ریلیف پیکج کو جاری رکھا جائیگا اور اس میں دس فیصد اضافہ کی شرط کو ختم کرنے کے علاوہ زیر التواء ری فنڈ کلیمز فوری طور پر ادا کئے جائیں گے۔ ری فنڈ آرڈرز کو لین دین کے قابل تسلیم کیا جا سکے جبکہ برآمدی سیکٹر کو حقیقی معنوں میں سو فیصد زیر و ریٹ کیا جا ئے گا۔ سٹیٹ بینک سیاسی مہمانوں کی بجائے خالصتاً معاشی تقاضوں کے مطابق کرنسی کو ڈی ریگولیٹ کرے گا۔پراڈکٹ مکس پر خصوصی توجہ دی جائیگی اور اس سلسلہ میں مصنوعی ریشوں کی تیاری اور اس سے تیار کپڑوں اور گارمنٹس کو متعارف کرایا جائیگا تاکہ اس شعبہ میں بھی عالمی منڈیوں میں پاکستان اپنا حصہ ڈال سکے۔ جی ایس پی پلس کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اس کو جاری رکھنے کیلئے یورپین ملکوں سے سفارتی تعلقات کو بھر پور طریقے سے استعمال کیا جائیگا جبکہ اس سے متعلقہ عالمی معاہدوں کی پاسداری کیلئے پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے دائرہ کار کو بڑھایا جائیگا۔ کپاس کی پیداوار کو بڑھانے کے علاوہ پی ٹی آئی ملک میں عالمی معیار کی ٹیسٹنگ لیبارٹریاں بھی قائم کریگی تاکہ ہر قسم کی برآمدی مصنوعات کی مقامی طور پر تصدیق ہو سکے۔ انہوں نے کہا پاکستان کی زیادہ تر ٹیکسٹائل مشینری درآمد کی جاتی ہے جدید ٹیکسٹائل مشینری کی مقامی طو رپر تیاری کیلئے مشترکہ منصوبوں کی حوصلہ افزائی کی جائیگی اور اس سلسلہ میں ایسے منصوبوں کو ترجیح دی جائیگی جن میں ٹیکنالوجی اور مہارت کے ساتھ براہ راست سرمایہ کاری بھی ہو۔ انہوں نے کہا ٹیکسٹائل کے شعبہ میں استعمال ہونے والے ہر قسم کے خام مال کی مقامی طور پر تیاری پر بھی خصوصی توجہ دی جائیگی جبکہ موجودہ صنعتی علاقوں کو اپ گریڈ کر کے ان میں مزید سہولتیں بھی مہیا کی جائیں گی۔

عمران خان