لینگویج آف دی سٹی

31 جنوری 2018

پچھلے ہفتے لندن آتے ہوئے ایک دن استنبول رکنا ہوا۔ شام کو استنبول کے تاریخی علاقے سلطان احمد جسکے آنگ آنگ سے ترکی کی قدیم ثقافت جھلکتی ہے اس میں چہل قدمی کرتے جب میری شریک حیات آبنائے باسفورس کے کنارے پہنچی تو وہ مجھ سے کچھ اسطرح مخاطب ہوئی ذرا غور کرو اس وقت آبنائے باسفورس کے کنارے کھڑا یہ شہر کیا حسین نظارہ پیش کر رہا ہے۔ تمہیں نہیں لگتا کہ یہ شہر عمارتوں کا قبرستان نہیں بلکہ حقیقتاً زندہ روحوں کا گلستان ہے جہاں سانسوں کی مہک فضاؤں کو اس قدر معطر کر رہی ہے کہ جس ذی روح میں لطافت نام کی حس کا شائبہ تک بھی موجود ہے یقیناً وہ روح خوشبؤں میں لپٹی ان ہواؤں کی لہروں پر تیرتے ترنم کے اْس سحر کو محسوس کر رہی ہو گی جو اس وقت اس شام کو اس سحر سے آزاد نہیں ہونے دے رہا کہ گماں ہوا چاہتا ہے کہ سامنے بحیرہ مرمرہ کے اس طرف سورج نہیں ڈوب رہا بلکہ کسی جل پری کی روح پگھل کر سنہرے رنگ بکھیر رہی ہے۔ دید کرو شہر کے بیچ بہنے والی اس آبنائے باسفورس کی جو بحیرہ مرمرہ کو بحیرہ اسود سے ملاتی ہے جو صرف سمندر نہیں بلکہ جنت کی اْن نہروں میں سے ایک ایسی نہر کا نقشہ پیش کر رہا ہے جنکا ذکر قرآن پاک کی سورہ رحمٰن میں آیا ہے۔ سحر میں کھوئی وہ بولی دل کرتا ہے کہ قید کر لوں اس شام کے اِن خاموش لمحوں کو جب آسمان سے قوس و قزاح کے رنگوں کی مخملی چادر اس شہر کو اپنے آنچل میں سمیٹ رہی ہے۔ رومانوی منظر کشی کو غزل کا روپ دیتے دیتے اچانک فلسفیانہ رویہ اختیار کرتے وہ بولی کیا روح کو پگھلا دینے والے ان رنگین نظاروں کا ماخذ جاننا نہیں چاہو گے۔ قارئین زندگی کے سفر کی وہ شراکت داری ہی کیا کہ اپ اپنے ساتھی کے حْسنِ ذوق سے واقف ہی نہ ہوں اپ اسکا ذہن ہی نہ پڑھ سکیں۔ کہتے ہیں اہل ذوق اور اہل دانش کی محفل اپ پر ایسے ہی کچھ نہ کچھ اثر چھوڑ جاتی ہے جیسے کسی عطر والی دوکان پر کچھ عرصہ کیلیئے اپ کوئی چیز چھوڑ دیں تو اس سے بھی خوشبو انا شروع ہو جاتی ہے لہذا ادبی محفلیں راقم پر بھی کچھ نہ کچھ رنگ چھوڑ گئی ہیں۔ بیگم کے استفسار پر فوراً بولا بیشک جیسے سْنا تھا کہ خاموشی کی بھی اپنی ایک زبان ہوتی ہے اسی طرح اج پہلی دفعہ اپنی روح پر Language of the city کی دستک سن رہا ہوں۔ بیگم نے کہا ذرا اسکی تشریح کرو گے کہ " لینگویج آف دی سٹی" کسے کہتے ہیں۔ جواباً عرض کیا یہ اْس شہر کی ثقافت اور وہاں کے رہنے والوں کا تہذیب و تمدن ہوتا ہے۔دوستو مجھے جہاں گردی کا اتنا تجربہ نہیں لیکن جو تھوڑا بہت دنیا میں گھوما ہوں یا جو معلومات کتابوں ، سفرناموں یا انٹرنیٹ سے حاصل کی ہیں ان سے ایک ہی نتیجے پر پہنچا ہوں کہ دنیا میں جن بھی شہروں اور وہاں کے معاشروں نے شہرت پائی ہے ان سب کی وجہ شہرت صرف اور صرف یہ ہے کہ انھوں نے اپنی ثقافت کو سنبھال کر رکھا ہے۔ انھوں نے اپنی تہذیب اپنے تمدن سے پیار کیا ہے۔قارئین یورپ کا معاشرہ کس قدر ماڈرن ہو گیا ہے لیکن یورپ کے کسی بھی ملک کی مثال لے لیں اسکے ماڈرن سے ماڈرن شہر کو دیکھ لے لیں کیا مجال کہ انھوں نے اپنے ثقافتی ورثے پر رَتی بھر بھی اَنچ آنے دی ہو۔ میں نے جو شہر دیکھے ہیں چاہے وہ لندن ہو یا پیرس، بارسلونا ہو یا روم، برسلز ہو یا ایتھنز ان تمام شہروں میں صدیوں پرانی نہیں ہزاروں سال پرانی عمارتیں اج بھی اسی شکل اور اسی رنگ میں کھڑی دعوت نظارہ دے رہی ہیں جس شکل اور رنگ میں وہ بنی تھیں۔

پچھلے ہفتے جب میں استنبول کے گرینڈ بازار میں گھوم رہا تھا تو میں نے دیکھا وہاں کے دوکاندار اپنی اشیاء کی فروخت کیلیئے اپنی تاریخ کا حوالہ تو دے ہی رہے تھے لیکن جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ متاثر کیا وہ تھا انکا وہ تفخر کہ انکا یہ بازار سلطنت عثمانیہ کے دور سے یونہی چلا آ رہا ہے پتہ چل رہا تھا کہ انکا یہ تاریخی ثقافتی ورثہ انکے نزدیک انکا کتنا بڑا سرمایہ ہے۔ انہی لمحوں مجھے میرے شہر لاہور کے تاریخی بارہ دروازوں اور تیرھویں موری کے اندر بسا شہر لاہور یاد انا شروع ہو گیا۔ آنکھوں کے دریچوں میں یاد ماضی کے چراغوں کو ایک بار پھر سے روشن کرنے کی لاحاصل کوشش کی لیکن وہاں تو اب تاریخی عمارتوں کی جگہ کئی کئی منزلہ بدنما پلازے کھڑے دکھائی دے رہے تھے جو نہ ماڈرن تعمیر کا نمونہ ہیں اور نہ قدیم ثقافت کی کوئی نئی ورژن۔ پچھلے سال بارسلونا کے پرانے علاقے میں گیا وہاں لوگوں نے اپنے تمام پرانے مکانوں کو اسی حالت میں برقرار رکھا ہوا ہے جبکہ ہمارے شہر لاہور میں چند ایک پرانی حویلیاں جیسے فقیر خانہ اور یوسف صلاح الدین کی حویلی کی طرح شاید ہی کوئی اِکا دْکا عمارت اس حالت میں رہ گئی ہے لیکن اسکے مقابلے میں اپنے مقابل ہندوستان کو ہی دیکھ لیں اس نے ریاست جے پور میں کس طرح اپنی حویلیوں کو اسی حالت میں ہوٹلوں میں تبدیل کر لیا ہے جہاں وہ ایک طرف دنیا کو اپنی قدیم ثقافت دکھاتے ہیں اور دوسری طرف سیاحت کے فروغ کے ساتھ ساتھ پیسہ بھی کما رہے ہیں۔ زخم کچھ اس طرح ہرے ہو گے ہیں کہ قلم رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ پچھلے ماہ چند ادبی دوستوں جن میں سے ایک میرے سابقہ محکمے کے افسر جمیل ناصر خان جو اس وقت کلکٹر کسٹم اپریزمنٹ لاہور ہیں جن سے میری اشنائی اب محکمانہ حوالے تک محدود نہیں رہی بلکہ تعلق داری اب دوستی کی طرف بڑھ گئی ہے اور جسکی وجہ صرف اور صرف اس شخص کی وہ کوالٹی ہے کہ وہ وقت دور نہیں جب پاکستان میں خاصکر اکنامکس کے حوالے سے اسکی تحریروں اور بیان کردہ پالیسیوں کو سند کے طور پر پیش کیا جائیگا نے دوران گفتگو ایک بہت خوبصورت حوالہ دیا کہ بیرون ملک سے لاہور کی ٹریفک کو کنٹرول کرنے کی پلاننگ کیلیئے کسی ٹاون پلانر کو بلایا گیا۔ بقول جمیل ناصر صاحب ٹاون پلانر نے جو سب سے پہلی بات کہی وہ یہ تھی کہ کسی بھی ملک میں اپ نے جمہوریت کا اندازہ لگانا ہو تو اس ملک کی سڑکوں اور ان پر چلتی ٹریفک دیکھ کر اپ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ اس ملک میں کتنی جمہوریت ہے۔
لہذا پاکستان کی سڑکیں جو احوال بیان کر رہی ہیں مجھ اس پر کچھ کہنے کی ضرورت نہیں۔ کچھ سوال کچھ جواب بہت کچھ بیان کر جاتے ہیں پچھلے ہفتے میری بیگم جب استنبول کی خوبصورتی کے گْن گا رہی تھی تو اسکے اندر کا پاکستانی خاموش نہ رہ سکا۔ حسرت بھرے لہجے میں اس نے مجھ سے ایک سوال پوچھا۔ کیا میرے پاکستان کے شہر بھی کبھی اس استنبول شہر جیسے حْسین نظر آئیں گے۔ میں نے جواب دیا ہاں اس دن جس دن میں، تم اور میرے دوسرے پاکستانی بھائی ٹریفک اشارے پر رکنا شروع کر دیں گے، سامنے سے آنے والے کو راستہ دینا شروع کر دینگے اور اپنی تہذیب اپنے تمدن اور اپنی ثقافت سے پیار کرنے لگیں گے۔