جعلی پولیس مقابلے اور ڈبہ پیر

31 جنوری 2018

قصور میں اغواء اور زیادتی کے بعد قتل ہونے والی کمسن بچی زینب کی نماز جنازہ کے بعد حالات کشیدہ ہو گئے۔ پولیس اور مظاہرین میں تصادم کے نتیجہ میں دو افراد جاں بحق سات زخمی ہو گئے۔ مظاہرین ڈپٹی کمشنر قصور سائرہ عمر کے آفس میں احتجاج ریکارڈ کروانے کے لیے داخل ہوئے تو ڈپٹی کمشنر نے گھبرا کر مظاہرین کو روکنے کے لیے پولیس کو حکم دیا جس پر وہاں موجود اہلکاروں نے گولی چلادی۔ گولیاں سیدھی چلائی گئیں۔ ایک ساتھی اہلکار نے کہا ’’گولیاں اُتے چلا، سدھیاں نہ چلا‘‘ سندھ کے وزیر داخلہ سہیل انور سیال نے کہا کہ پولیس کو سیدھی فائرنگ کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔ یہ سیدھی فائرنگ ہی ہے کہ جس سے جعلی پولیس مقابلوں میں مقابل میں آنے والے کو ’’پار‘‘ کر دیا جاتا ہے۔ بھلے وہ نہتا ہی کیوں نہ ہو۔ اسی لیے تو اعتزاز احسن کو کہنا پڑا۔ شہباز شریف کی جعلی پولیس مقابلوں کی روایت ہے۔ پولیس آفیسر راؤ انوار کا بھی جعلی پولیس مقابلوں کے حوالے سے کردار سامنے آیا ہے۔ اسی خدشے کے پیشِ نظر چیف جسٹس نے کہا۔ آئی جی پولیس یقین دہانی کرائیں، قاتل کو پکڑا جائے گا، جعلی مقابلے میں مارا نہیں جائے گا۔ ان پولیس مقابلوں کے حوالے سے آپ کو میں ایک بہت پُرانا واقعہ بیان کرتا ہوں یہ واقعہ مجھے حاجی حبیب الرحمن نے سنایا جو ان دنوں ایس ایس پی لاہور تھے۔ ازاں بعد یہ آئی جی پنجاب کے عہدے سے ریٹائر ہوئے۔ حاجی صاحب، غلام احمد پرویزصاحب کے درس قرآن میں شرکت کیا کرتے تھے۔ درس قرآن کے بعد حاجی صاحب سے میری گپ شپ رہتی۔ انہوں نے جگا گجر کا واقعہ سنایا جس کے نام سے ’’جگا ٹیکس‘‘ مشہور ہے۔ جگا گجر اسی دور میں پولیس مقابلے میں ’’پار‘‘ ہوا، جن دنوں حاجی حبیب الرحمن لاہور کے ایس ایس پی تھے۔ حاجی صاحب کا کہنا تھا کہ جگا ایک دن میرے دفتر آ گیا اور کہا کہ مجھے کوئی خدمت کا موقع دیں۔ میں نے کہا۔ مثلاََ کیا خدمت؟ تو کہنے لگا ’’موتیاں والیا، میری اگر جان بخش دیوے تاں جد تک میں زندہ آں، اگر کسے شخص نے تیرے ول انگلی اٹھائی تے میں اوس دا سرکٹ کے لے آواں گا‘‘ جگا گجر یہ بات ایس ایس پی لاہور کو کہہ رہا تھا۔ حاجی حبیب الرحمن نے کہا کہ کوئی ایسی بات نہیں کہ مجھے کسی سے خطرہ ہو۔ جگے نے کہا۔ یہ جو تمہارا کمرہ ہے، اللہ کی قسم میں نوٹوں سے بھردوں گا۔ یہ جو فلم سٹوڈیو ہیں، یہ سب اپنے اشارے پر چلتے ہیں۔ کوئی شوق ہو تو بتائیے۔ حاجی صاحب نے کہا کہ مجھے کوئی ایسا شوق نہیں ہے، نہ مجھے دولت کی ضرورت ہے۔ جگے کا جواب تھا۔ میری تسلی نہیں ہوئی۔ آپ نے مجھ سے کام نہیں لیا، آپ نے مجھ پر اعتماد نہیںکیا۔ حاجی حبیب الرحمن نے کہا کہ اس کے بعد جگا گجر پاکستان سے بھاگ کر مقبوضہ کشمیر چلا گیا۔ ہم نے اس کو پکڑ کر نہیں مارا تھا۔ ہوا یوں کہ اس کی ایک گرل فرینڈ بکر منڈی کے پاس رہتی تھی۔ وہ اس سے ملنے آیا کرتا تھا۔ میں نے ڈپٹی کمشنر لاہور سے کہا کہ جب وہ پاکستان آئے، ہم اس کو پکڑ لیں گے کیونکہ اس کے خلاف قتل اور ڈکیتی کے متعدد مقدمات ہیں۔ وہ گرفتار نہیں ہو رہا۔ کشمیر چلا گیا ہے یہ 1965ء کی پاک بھارت جنگ سے پہلے کا واقعہ ہے۔ ایس ایس پی حاجی حبیب الرحمن نے ڈی سی کو کہا کہ آپ ایک ہفتے کا نوٹس دے کر لاہور شہر میں بلیک آؤٹ کی ریہرسل کریں۔ ڈی سی نے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ حاجی صاحب کا کہنا تھا کہ وجہ بعد میں بتاؤں گا۔ ڈی سی نے تاریخ مقرر کر دی۔ میں نے اخبارات میں تشہیر کر دی کہ فلاں رات کو بلیک آؤٹ ہو گا۔ ہمارا ایک مخبر، جگے کو بھی ملتا تھا۔ وہ اس کے پاس اخبار لے کر گیا کہ فلاں رات لاہور میں بلیک آؤٹ ہو گا۔ موقع اچھا ہے، تمہیں کوئی نہیں دیکھ سکے گا۔ اس رات تم اپنی والدہ اور گرل فرینڈ کو مل آؤ۔ پیسے دے آنا اور سیر بھی ہو جائے گی۔ جگے نے اپنے ایک دوست کے ساتھ پروگرام بنا لیا۔ ہمیں پتا چلا کہ وہ فلاں راستے سے رات ساڑھے گیارہ بجے آگے گا۔ ہم نے تین پارٹیاں بنائیں وہ بکر منڈی مسجد کے قریب آیا تو ایک سب انسپکٹر نے کہا ’’جگے توں پولیس دی حراست وچ ایں اپنے آپ نوں پولیس دے حوالے کر دے‘‘ اس کے بعد پولیس نے فائرنگ کر دی۔ جگے کو تین گولیاں لگیں وہ اور اس کا ساتھی وہیں ڈھیر ہو گئے۔ بقول حاجی حبیب الرحمن اس آپریشن میں پولیس کا کوئی آدمی نہیں مرا۔ بلکہ ایک دو معمولی زخمی ہوئے۔ حاجی صاحب کا کہنا تھا کہ جگا گجر پر جو فلمیں بنیں، وہ بالکل جھوٹی اور غلط ہیں۔ بدقسمتی سے فلمیں بنانے والے کم پڑھے لکھے ہوتے ہیں، کسی سے مشورہ نہیں کرتے اور نہ سرکاری ریکارڈ دیکھتے ہیں۔ جعلی پولیس مقابلوں کے علاوہ جعلی پیروں کا بھی بڑا چرچا رہتا ہے میں نے ایک ٹی وی چینل پر دیکھا کہ ایک پیر کے گھر چھاپا مارا گیا وہ کلمہ اور نماز نہ سنا سکا۔ حاجی حبیب الرحمن نے اپنے دور کے ایک ڈبہ پیر کا بھی واقعہ سنایا۔ حاجی صاحب کا کہنا تھا کہ میں نے انکوائری کی تو پتہ چلا کہ یہ ڈبہ پیر شام چوراسی کا رہنے والا ایک میراثی ہے یہ پڑھا لکھا نہیں یہ ہر آنے والے شخص کو خالی ڈبہ دیتا تھا اور اس کو کہتا کہ اس میں دس روپے ڈال دو پھر ڈبے کو باندھ دیتا اور کہتا کہ اس ڈبے کو دس روز کے بعد کھولنا۔ 10 دن آپ نے نمازیں پڑھنی ہیں۔ جھوٹ نہیں بولنا وغیرہ وغیرہ ۔ لوگ جب دس روز کے بعد ڈبہ کھولتے تو 90 فیصد لوگوں کے ڈبوں میں سے دس روپے غائب ہوتے یعنی وہ دس روپے خود ہی نکال لیتا تھا۔ ایک دو ڈبوں میں دس روپے کی بجائے 100 یا 50 روپے ڈال دیتا تھا۔ اب جس کے سو یا پچاس روپے نکلتے تو وہ قسمیں کھا کر کہتا کہ جناب میں نے دس روپے ڈالے تھے، نکلے سو یا پچاس روپے۔ جس کا ڈبہ خالی نکلتا، اس کے بارے میں ڈبہ پیر کہتا کہ تمہارے اعتقاد میں خامی ہے۔ تم نے نمازیں باقاعدگی سے نہیں پڑھی ہوں گی یا جھوٹ بولا ہو گا۔ اس طرح اس نے کافی رقم جمع کر لی۔ یہ ایک مسجد میں نماز پڑھاتا تھا۔ جہاں اس کی جائے نماز ہوتی تھی، اس کے نیچے اس نے سرنگ بنائی ہوئی تھی وہاں سے وہ نکل کر دوسرے کمرے میں چلا جاتا تھا کہ میں نے نماز کے بعد نفل پڑھنے ہیں۔ چند منٹ بعد اس کا کوئی مرید دروازہ کھولتا تو وہاں سے ڈبہ پیر غائب ہوتا۔ مرید کہتے کہ پیر صاحب عالم بالا کی سیر کے لیے نکل گئے ہیں۔ حاجی صاحب نے کہا کہ میں نے ایک روز اس ڈبہ پیر کو اپنے دفتر بلایا۔ اخبار نویس بھی آ گئے آپ یہ سن کر حیران ہوں گے اسے کلمہ بھی صحیح طرح نہیں آتا تھا۔ جاہل شخص تھا۔ میں نے ڈبہ پیر سے کہا کہ میں نہیں چاہتا کہ تمہیں کوئی نقصان پہنچے۔ جب تک میں ایس ایس پی لاہور ہوں، تم یہاں سے کہیں اور چلے جاؤ۔ چنانچہ وہ ساہیوال چلا گیا۔ حاجی حبیب الرحمن کا کہنا تھا کہ پولیس کو جو گالیاں پڑتی ہیں، ان پر پتھراؤ ہوتا ہے تو اس کے لیے پولیس کو اپنا رویہ درست کر نے کی ضرورت ہے۔ تا کہ پولیس کا امیج بہتر ہو سکے اور عوام، پولیس والوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھے۔